جگر مرادآبادی | روحِ غزل کا آخری قافلہ سالار جگر مرادآبادی غزل کے آخری امیرِ سخن "غمِ زندگی سے بھاگنا بے وقوفی ہے، جگرؔ نے اسی حقیقت کو خوبصورت غزلوں میں پرویا" 💜 تعارف: وہ قافلہ سالار جس نے غزل کو نیا آسمان دیا اردو شاعری کا سفر جتنے بھی نامور شاعروں سے گزرا ہے، جگر مرادآبادی کا مقام کسی بھی تناظر میں اوجِ ثریا سے کم نہیں۔ علی سکندر (جگر مرادآبادی) نے جب قلم اٹھایا تو برصغیر کی ادبی فضا میں داغ دہلوی، اقبال، فانی بدایونی اور جوش ملیح آبادی جیسے جواہر موجود تھے، لیکن جگر نے اپنی بے ساختہ سادگی، درد کی گہرائی اور نغمگی سے ایک ایسا اسلوب وضع کیا جسے آج بھی نقاد "جگریہ رنگ" کہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرف عاشقانہ بے قراری ہے تو دوسری طرف وہ صوفیانہ کرن بھی چھپک کر آتی ہے۔ ۶ اپریل ۱۸۹۰ کو مرادآباد میں پیدا ہونے والے جگر نے نہ صرف غزل کو مقبولیت کی بلند ترین سطح پر پہنچایا بلکہ عام ...
apney hone ka | Borrowed Existence – A Soulful Urdu Ghazal of Love and Identity Urdu shayari collection || Heart Touching Urdu shayari || Heart Touching Urdu Poetry || Sad Shayari || Broken heart Poetry || Love Poetry || Mohabbat Ki Shayari https://bit.ly/3RotffE https://bit.ly/3TdyAsy Ye tmam ghazlen ye tmam mazameen jo is afzal shakeel page ki zeenat bn Rahi hn in mn zyada tr poetry purani hey Kuch taza kalam b lga deta hon baz cheezen fori nawiat ki hoti hn jaisey k phalisteen pr nazm. afzalshakeel.blogspot.com Rekhta - Urdu Poetry غزل اپنے ہونے کا احساس میں نے تم سے لیا یوں لگا ہر سانس میں نے تم سے لیا یہ سرد مہری غم ہجر کی قیامت ہے تشبیہات کا افلاس میں نے تم سے لیا سایہ بن کے تیرے ساتھ ساتھ چلتا رہا دوستی کا یہ اخلاس میں نے تم سے لیا مہک ہمیشہ سے موضوع رہا ہے پھولوں کا مگر یہ پھول بن باس میں نے تم سے لیا میں لکھ رہا تھا کہانی کے چند اچھے نقوش پر یہ لہجہ پر ہراس میں نے تم سے لیا بیرون دل بھی تلاطم ہے اور اند...