Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Abdul Hameed Adam – Life, Poetry, and Literary Legacy

Abdul Hameed Adam – Life, Poetry, and Literary Legacy عبد الحمید عدم – حیات، شاعری اور ادبی خدمات عبد الحمید عدم اردو ادب کے ایک منفرد اور باکمال شاعر تھے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا۔ ان کا شمار اُن شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کو ایک نئی فکری جہت عطا کی۔ ابتدائی زندگی عبد الحمید عدم 1910 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبد الحمید تھا جبکہ "عدم" ان کا تخلص تھا۔ انہوں نے باقاعدہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی، مگر اپنی ذاتی مطالعہ اور مشاہدے کی بنیاد پر علم و ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ادبی سفر عدم کی شاعری کا آغاز نوجوانی میں ہوا، اور جلد ہی وہ اپنی منفرد آواز کے باعث پہچانے جانے لگے۔ ان کی شاعری میں سادگی، بے ساختگی، اور گہری فکر نمایاں ہے۔ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر ایک عام انسان کے جذبات اور مسائل کو بیان کرتے تھے۔ شاعری کا انداز عبد الحمید عدم کی غزلوں میں زندگی کی حقیقتیں، محبت، محرومی، اور طنز و مزاح کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک خاص قسم کی بے باکی...

apney honey ka | Borrowed Existence – A Soulful Urdu Ghazal of Love and Identity

apney hone ka | Borrowed Existence – A Soulful Urdu Ghazal of Love and Identity Urdu shayari collection || Heart Touching Urdu shayari || Heart Touching Urdu Poetry || Sad Shayari || Broken heart Poetry || Love Poetry || Mohabbat Ki Shayari
https://bit.ly/3RotffE
https://bit.ly/3TdyAsy

Ye tmam ghazlen ye tmam mazameen jo is afzal shakeel page ki zeenat bn Rahi hn in mn zyada tr poetry purani hey Kuch taza kalam b lga deta hon baz cheezen fori nawiat ki hoti hn jaisey k phalisteen pr nazm.


afzalshakeel.blogspot.com
Rekhta - Urdu Poetry

غزل

اپنے ہونے کا احساس میں نے تم سے لیا

یوں لگا ہر سانس میں نے تم سے لیا


یہ سرد مہری غم ہجر کی قیامت ہے

تشبیہات کا افلاس میں نے تم سے لیا


سایہ بن کے تیرے ساتھ ساتھ چلتا رہا

دوستی کا یہ اخلاس میں نے تم سے لیا


مہک ہمیشہ سے موضوع رہا ہے پھولوں کا

مگر یہ پھول بن باس میں نے تم سے لیا


میں لکھ رہا تھا کہانی کے چند اچھے نقوش

پر یہ لہجہ پر ہراس میں نے تم سے لیا


بیرون دلبھی تلاطم ہے اور اندربھی

ولولوں کا یہ اجلاس میں نے تم سے لیا


نگر نگر رہا تیرا سفر ادھورا شکیل

شعور وحدت افلاس میں نے تم سے لیا

غزل کی اردو وضاحت (Description in Urdu):

یہ غزل محبت کے اس گہرے احساس کی ترجمانی کرتی ہے جہاں شاعر اپنی ذات، اپنی پہچان اور اپنی سانسوں تک کو محبوب سے وابستہ محسوس کرتا ہے۔ ابتدا ہی میں شاعر یہ اعتراف کرتا ہے کہ اس کے ہونے کا احساس بھی اسی ہستی سے جڑا ہوا ہے، گویا اس کی پوری زندگی اسی کی عطا ہے۔

اشعار میں ہجر کی سرد مہری اور اس کے اثرات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تشبیہوں کی کمی اور جذبات کی بے رنگی بھی اسی جدائی کا نتیجہ ہے۔ یعنی محبوب کی موجودگی ہی تخلیقی قوت کا سرچشمہ تھی۔

دوستی، اخلاص، اور ساتھ نبھانے کا ذکر بھی اس غزل کا اہم پہلو ہے، جہاں شاعر خود کو محبوب کا سایہ قرار دیتا ہے۔ یہاں محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مکمل وابستگی بن جاتی ہے۔

"

پھول بن باس" اور "لہجہ پر ہراس" جیسے اشعار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ شاعر کے احساسات میں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک انجانی سی گھبراہٹ بھی شامل ہے، جو شاید محبت کی شدت یا جدائی کے خوف کا نتیجہ ہے۔

غزل کے آخری اشعار میں اندرونی اور بیرونی کیفیت کا تضاد نمایاں ہوتا ہے، جہاں دل کے اندر اور باہر دونوں طرف ایک ہلچل برپا ہے۔ "شعور وحدت افلاس" کا تصور ایک صوفیانہ رنگ لیے ہوئے ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان اپنی ذات کو کھو کر ہی اصل شعور تک پہنچتا ہے۔

یہ غزل محبت، خودی، اور روحانی وابستگی کا ایک حسین امتزاج ہے، جو قاری کو اپنے اندر جھانکنے اور محبت کی اصل حقیقت کو سمجھنے پر مجبور کرتی ہے۔


Watch This Video on youtube
some keywords

ghazal,
gazal,
urdu ghazal,
ghazal urdu,
urdu gazal,
ahzal202,
2023 gaza,
urdu ghazal 2023,
ghazal urdu 202,3
new ghazal 2023,
2023 new ghazal,
sad ghazal,
ghazal sad
sad ghazal 2022,
hindi ghazal 2023,
2023 ghazal new hindi gazal,
indian ghazal,

new indian ghazal, Urdu Poetry, Ghazal, Love Poetry, Deep Poetry, Emotional Poetry, Urdu Shayari, Afzal Shakeel Sandhu, Romantic Ghazal, Sufi Thoughts, Inner Feelings

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu





Watch my Ghazal Kis qayamat ki ghari thi

Note :

All copyright are reserved by afzal shakeel sandhu, So don,t re-upload.If anyone try to use our content when they will face strike. --------------*-------*--------*---------------- Note : Copyright Disclaimer Under Section 107 of the Copyright Act 1976, allowance is made for "fair use" for purposes such as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use. _________Thanks For Watching___

Comments

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا زکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی ترح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کحل جاتے ہینہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمھے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نع رھمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ صر...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp