Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Separation

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Ghazal for my wife | Forth wedding Anniversary

شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو - شادی کی چوتھی سالگرہ ✦ شادی کی چوتھی سالگرہ ✦ شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو — ایک غزل — شادی کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ◆ ❀ غزل ❀ شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو میری عمر کا اک آخری حوالہ تو — ۱ — بہت طویل مسافت کے بعد پہچانا میں جیسے چاند اس کے گرد حالہ تو — ۲ — یہ چار سال چار دن ہی ہوں جیسے جس میں وقت بھی ہو قید وہ پیالہ تو — ۳ — میں کسی کو بھی کچھ جانتا نہیں ہوں مگر زنجیر پا ہوں اور اس پہ تالا تو ...

Short story | News | خبر ،افضل شکیل سندھو کا افسانہ

خخبر|افضل شکیل سندھو کے قلم سے نکلا ہوا ایک خوبصورت افسانہ نوٹ قارئین کرام آپ شعر و شاعری پڑھ کر اور سن کر اکتا نہ گئے ہوں اس لیے میں آپ کو اس یکسانیت سے نکالنے کے لیے آپکے لیے ایک افسانہ لے کر حاضر ہوا ہوں یہ افسانہ منتھلی گہراب ساہیوال میں اگست 2003 کو شائع ہوا امید ہے آپ اس افسانے کو پڑھ کر محظوظ ہونگے ۔ خبر،ایک دلچسپ کہانی ایک دلچسپ افسانہ افسانہ Read my ghazal KABHI DOOR FASLON SE click here خبر ایک دلچسپ کہانی تحریر : افضل شکیل سندھو موسم سرما کی تیز ہوا جسم سے ٹکرا کے گد گدی پیدا کر رہی تھی۔گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسٹیشن سے باہر برقی قمقموں کی ہلکی ہلکی روشنی عجیب مزا دے رہی تھی رات اگرچہ اندھیری تھی لیکن دلکش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نے دس سال کے بعد اپنے پیارے شہر مین قدم رکھا تھا۔اسٹیشن کے باہر رکشے تھے تانگے تھے لیکن میں نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔ سڑک پر پیدل چلتے ہوئے بہت سی یادوں نے گھیرا ڈال لیا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف دکا نیں تھیں کچھ بند کچھ کھلی اور کچھ ادھ کھلی۔ میں اپنے وطن کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس کرنا ہوا آگے ب...

Ghazal: Kis Qayamat Ki Ghari Thi | Poetry by Afzal Shakeel sandhu

The Night of Separation – A Heartbreaking Urdu Ghazal of Pain and Loss https://bit.ly/3RotffE https://bit.ly/3TdyAsy Description: “Kis Qayamat Ki Ghari Thi” is an emotional ghazal written by Afzal Shakeel. This ghazal expresses deep pain, separation, and inner sorrow. Read the full poem below. Watch Merey Payamber, Kalam with Prophet Muhammad (SAW) غزل کِس قیامت کی گھڑی تھی جب جدائی آن پڑی تھی دل تھا دُرد کا سمندر آنکھوں میں اشکوں کی جھڑی تھی قلم تھا میرا خوں سے لبریز تحریر اُس دن جلی سڑی تھی یہ درد اندر ہی پی گیا تھا اگر چہ تکلیف تو بڑی تھی چلے تھے طوفان کیسے کیسے چہار سمت آندھی چڑھی تھی خواب سارے چھن گئے تھے وفا جو بت بنی کھڑی تھی حیرانگی ہے کہ ایک شمع طوفان کو روکنے بڑھی تھی بے فیض دنیا مگر وہ مورت دل کے نگینے پر جڑی تھی شکیل حسرتوں کے اندر حسرتوں کی اک لڑی تھی Read My Blog on HASRAT MOHANI Click here یہ غزل جدائی کے کرب، ٹوٹے خوابوں اور دل کے اندر چھپے ہوئے در...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp