The Pact | A Deep Emotional Poem from My College Days (معاہدہ)
introduction:
This poem was written during my college days — a time when emotions were intense, words were restrained, and silence carried meanings deeper than speech. The Pact is not a protest, nor a complaint; it is an understanding between love and helplessness, between society and the soul. It reflects how sometimes we let go, not because we want to, but because we must.Watch My Interview
یہ نظم میرے کالج کے دنوں کی پیداوار ہے — وہ دن جب جذبات شدید تھے، لفظ محتاط، اور خاموشی بولتی تھی۔ معاہدہ کسی شکوے یا الزام کا نام نہیں، بلکہ محبت اور مجبوری کے درمیان ایک خاموش سمجھوتہ ہے، جہاں انسان چاہ کر بھی خود کو بچا نہیں پاتا
معاہدہ
میں جانتا ہوں تو مجبور اور بے بس ہے
خاموش شام کی پالیزگی میں چند لمحے
میرے سامنے آ کر کھڑی رہی ہے تو
مگر زبان سے اک لفظ بھی ادا نہ کیا
نظر سے آگ لگا کر چلی گئی ہے تو
تیری خاموش نگاہوں میں لکھے سارے حرف
میں جانتا بھی ہوں مفہوم بھی سمجھتا ہوں
تو ،میرے نام سے خائف ہے کیوں پشیماں ہے
میں تیری ذات کو مظلوم ہی سمجھتا ہوں
تمہارے ذہن کو مجھ سے کبھی لگاّؤ تھا
میں اپنے سینے میں یہ راز بند کر لوں گا
بڑے وثوق سے جا کر سنبھال لو دنیا
زہر بھی پی لوں تو ہونٹوں کو قند کر لوں گا
تجھے سماج نے مجبور کر دیا ورنہ
مجھے خبر ہے تو میرے ساتھ مخلص تھی
لدی لدائی ہوئی دولت کی مالکن تو بنی
مگر پیار کی دولت میں اب بھی مفلس تھی
میں زندگی کی عنایات کا نہیں قائل
مجھے حیات کی ان تلخیوں سے شکوہ ہے
زمانہ کچھ بھی نہیں ہے مگر بہت کچھ ہے
مجھے حالات کی بد بختیوں سے شکوہ ہے
خدا کرے تیرے گھر کبھی نہ آنچ آئے
گلہ نہیں تو بھٹکنے کو چھوڑ دے مجھکو
تجھے خیال نہیں ہے تو اے میری دنیا
میں ایک کانچ کا برتن ہوں توڑ دے مجھکو
میں جانتا ہوں تو مجبور اور بے بس ہے
یہ نظم انسانی جذبات، محبت کی سچائی اور سماجی مجبوریوں کے درمیان ہونے والی کشمکش کی ایک نہایت گہری اور مؤثر عکاسی ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں ایک ایسے تعلق کو بیان کیا ہے جو موجود تو ہے مگر حالات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
"معاہدہ" محض ایک نظم نہیں بلکہ ایک خاموش درد، ایک ادھوری محبت اور ایک بے زبان سمجھوتے کی کہانی ہے جس میں الفاظ سے زیادہ خاموشی بولتی ہے۔
خاموشی کی زبان اور نظر کی شدت
نظم کے ابتدائی اشعار میں شاعر محبوب کی خاموشی کو بیان کرتا ہے، جہاں الفاظ ادا نہیں ہوتے مگر نگاہیں سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔ نظر سے "آگ لگانا" ایک طاقتور استعارہ ہے جو محبت کی شدت اور چھپے ہوئے جذبات کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ وہ کیفیت ہے جہاں زبان خاموش ہو جاتی ہے مگر دل کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔
ان کہے جذبات کی تفہیم
شاعر یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ محبوب کی خاموش نگاہوں میں چھپے تمام الفاظ کو سمجھتا ہے۔ یہ ایک گہری ذہنی اور روحانی ہم آہنگی کی علامت ہے جہاں بغیر کہے سب کچھ محسوس کر لیا جاتا ہے۔
یہ اشعار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سچی محبت میں وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
راز، قربانی اور خودداری
شاعر اپنے جذبات کو اپنے سینے میں دفن کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔ وہ محبوب کو آزاد چھوڑ دیتا ہے اور خود درد سہنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
"زہر بھی پی لوں تو ہونٹوں کو قند کر لوں گا" ایک نہایت خوبصورت اور معنی خیز مصرع ہے جو قربانی، صبر اور خودداری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
سماجی جبر اور محبت کی شکست
نظم کا ایک اہم پہلو سماج کی وہ طاقت ہے جو محبت جیسے خالص جذبے کو بھی شکست دے دیتی ہے۔ شاعر اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ محبوب کی بے وفائی دراصل اس کی مجبوری تھی، نہ کہ اس کی فطرت۔
یہاں شاعر محبوب کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اسے مظلوم سمجھتا ہے، جو اس کی محبت کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
دولت اور محبت کا تضاد
نظم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ دنیاوی دولت حاصل کرنے کے باوجود انسان محبت کی دولت سے محروم رہ سکتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مادی آسائشیں دل کے خلا کو پُر نہیں کر سکتیں۔
یہ اشعار قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اصل خوشی کس چیز میں ہے۔
زندگی سے شکوہ اور حالات کی سختی
شاعر زندگی کی تلخیوں اور حالات کی سختیوں سے شکوہ کرتا ہے۔ وہ اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ زمانہ بظاہر کچھ نہیں مگر حقیقت میں بہت کچھ چھین لیتا ہے۔
یہ احساس انسانی بے بسی اور تقدیر کے سامنے جھکنے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اختتامیہ: دعا، درد اور خود سپردگی
نظم کے آخری اشعار میں شاعر محبوب کے لیے دعا کرتا ہے اور خود کو ایک نازک "کانچ کے برتن" سے تشبیہ دیتا ہے، جو کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے۔
یہ ایک انتہائی دردناک مگر خوبصورت اختتام ہے، جہاں محبت، قربانی اور خود سپردگی اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔
اہم نکات
- خاموش محبت اور ان کہے جذبات
- سماجی مجبوریوں کا اثر
- قربانی اور خودداری
- دولت اور محبت کا فرق
- زندگی کی تلخ حقیقتیں
- دعا اور بے لوث محبت
Watch My Ghazal Kis qayamat ki ghari hey
English Translation
The PactI know—you are helpless, bound by chains unseen.
In the purity of a silent evening, for a few moments
You stood before me, face to face,
Yet not a single word escaped your lips.
With a glance that set my soul on fire,
You walked away.
Every letter written in your silent eyes
I know them all—I understand their meaning.
Why are you fearful of my name, why this regret?
I still see your being as innocent, oppressed.
Once, your heart was tied to mine—
You thought I would lock this secret in my chest.
Go then, with confidence, and manage the world;
Even if I drink poison, I will sweeten my lips with silence.
Society forced you into surrender—otherwise
I know you were sincere with me.
You became the owner of wealth piled upon you,
Yet in the riches of love, you remained poor.
I do not believe in life’s generous favors;
I complain of the bitterness life has poured into me.
The world may seem nothing, yet it is everything—
I complain of fate’s relentless cruelty.
May your home never be touched by sorrow.
I do not accuse you—just let me wander astray.
O my world, you do not realize—
I am a vessel of glass; if you must, break me.
I know—you are helpless, bound by chains unseen.
Visit this website Adab Ki Poetry
یہ نظم بعد میں
Monthly Political Scene Lahore (November 2005)میں بھی شائع ہوئی
لیکن اس ادارے کے ادبی شعبے کے سربراہ نے نظم کی تصحیح کرتے کرتے نظم کا حلیہ ہی بگاڑ دیا، جس پر میں نے شدید الفاظ میں احتجاج کیا۔ میں اس کی کاپی بھی قارئین کے لیے یہاں منسلک کر رہا ہوں تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ نظم میں کس قدر تبدیلی کی گئی ہے
This poem was later published in Monthly Political Scene Lahore, but the head of the literary section of this institution, while “correcting” the poem, completely distorted its original form, against which I protested in very strong words. I am also attaching a copy here for the readers, so that you may judge for yourselves to what extent the poem was altered.
Watch my ghazal Kitab e Ishaq
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu


Very very romantic and emotional
ReplyDeletenawazish
DeleteKia hi ala takhleeq hey wah
ReplyDeleteshukriya jnaab
DeletePeechey htney ka muahda drasl haar hi gini jati hey
ReplyDeleteye nhi kaha ja sakta k ue peechey hatney ka muahda hey , is tra k kamon mn is tra to hota hey
DeleteFull romantic mahol
ReplyDeletethanks
DeleteSuch a masterpiece poetry ✨
ReplyDeleteThankyou my son
Deleteدلکش شاعری جو دل کو موہ لے واہ
ReplyDeletebohat shukriya
Deleteye to brey shayeroon wali poetry hey jo brey poet hi kr saktey hn
ReplyDeleteShukriya aap ka
Deletebe had khoobsurat poem
ReplyDeleteBohat shukriya mam
DeleteBohat shukriya mam
Deletewah wah wah kamal kr diya
ReplyDeleteNawazish
DeleteMaza a gya itni pyari poetry
ReplyDeleteبہت مہربانی شکریہ
DeleteWah wah
ReplyDeleteشکریہ
Deleteگہرائی میں اتر کر لکھی گئی بھر پور جزبوں اور پھر ان جذبوں پر مکمل قابو پا لینا یہی تو اصل امتحان ہوتا ہے
ReplyDeleteاتنے اچھے خیالات کا بہت شکریہ
ReplyDelete