Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Ustad Daman Complete Profile | A Legendary Punjabi Poet

اسطورۂ مزاح | اُستاد دامن کا فنی سفر | مکمل مضمون 🗣️ اُستاد دامن پُرانا کھلونا، نیا مذاق وہ شخص جس نے ہنسی کو غریبوں کی پونجی بنا دیا ✍️ تحریر : شاہد رضوی | ۲۰۲۵ | اُستاد دامن نمبر ا ُستاد دامن ... صرف ایک نام نہیں، ایک مکمل اساطیری داستان ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے جس نے پاکستان کی تاریک گلیوں، جاگیردارانہ ظلم، مہنگائی اور افلاس کے دور میں بھی ہنسی کی شمع روشن رکھی۔ ان کا اصل نام ‘میاں محمد دین’ تھا، لیکن عوام نے پیار سے ‘دامن’ کہہ کر پکارا — کیونکہ ان کا دامنِ کرم اتنا وسیع تھا کہ غمگین دلوں کو سکون ملتا تھا۔ ان کی مزاح میں طنز کی تیغ بھی تھی اور محبت کی مٹھاس بھی۔ یہ مضمون اُستاد دامن کی شخصیت، فن، لازوال جملوں اور ان کے اُس دورِ سادگی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جب اسٹیج پر کھڑے ہو کر وہ پورا سمندر ہنسانے کی طاقت رکھتے تھے۔ پاکستان کے سنہرے دورِ ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور فلمی صنعت میں اُستاد دامن نے مزاح کی ا...

The Pact | A Deep Emotional Poem from My College Days (معاہدہ)

The Pact | A Deep Emotional Poem from My College Days (معاہدہ)

introduction:

This poem was written during my college days — a time when emotions were intense, words were restrained, and silence carried meanings deeper than speech. The Pact is not a protest, nor a complaint; it is an understanding between love and helplessness, between society and the soul. It reflects how sometimes we let go, not because we want to, but because we must.

Watch My Interview

یہ نظم میرے کالج کے دنوں کی پیداوار ہے — وہ دن جب جذبات شدید تھے، لفظ محتاط، اور خاموشی بولتی تھی۔ معاہدہ کسی شکوے یا الزام کا نام نہیں، بلکہ محبت اور مجبوری کے درمیان ایک خاموش سمجھوتہ ہے، جہاں انسان چاہ کر بھی خود کو بچا نہیں پاتا

معاہدہ

میں جانتا ہوں تو مجبور اور بے بس ہے

خاموش شام کی پالیزگی میں چند لمحے
میرے سامنے آ کر کھڑی رہی ہے تو
مگر زبان سے اک لفظ بھی ادا نہ کیا
نظر سے آگ لگا کر چلی گئی ہے تو

تیری خاموش نگاہوں میں لکھے سارے حرف
میں جانتا بھی ہوں مفہوم بھی سمجھتا ہوں
تو ،میرے نام سے خائف ہے کیوں پشیماں ہے
میں تیری ذات کو مظلوم ہی سمجھتا ہوں

تمہارے ذہن کو مجھ سے کبھی لگاّؤ تھا
میں اپنے سینے میں یہ راز بند کر لوں گا
بڑے وثوق سے جا کر سنبھال لو دنیا
زہر بھی پی لوں تو ہونٹوں کو قند کر لوں گا

تجھے سماج نے مجبور کر دیا ورنہ
مجھے خبر ہے تو میرے ساتھ مخلص تھی
لدی لدائی ہوئی دولت کی مالکن تو بنی
مگر پیار کی دولت میں اب بھی مفلس تھی

میں زندگی کی عنایات کا نہیں قائل
مجھے حیات کی ان تلخیوں سے شکوہ ہے
زمانہ کچھ بھی نہیں ہے مگر بہت کچھ ہے
مجھے حالات کی بد بختیوں سے شکوہ ہے

خدا کرے تیرے گھر کبھی نہ آنچ آئے
گلہ نہیں تو بھٹکنے کو چھوڑ دے مجھکو
تجھے خیال نہیں ہے تو اے میری دنیا
میں ایک کانچ کا برتن ہوں توڑ دے مجھکو

میں جانتا ہوں تو مجبور اور بے بس ہے

"معاہدہ" محض ایک نظم نہیں بلکہ ایک خاموش درد، ایک ادھوری محبت اور ایک بے زبان سمجھوتے کی کہانی ہے جس میں الفاظ سے زیادہ خاموشی بولتی ہے۔

خاموشی کی زبان اور نظر کی شدت

ان کہے جذبات کی تفہیم

یہ اشعار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سچی محبت میں وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

راز، قربانی اور خودداری

"زہر بھی پی لوں تو ہونٹوں کو قند کر لوں گا" ایک نہایت خوبصورت اور معنی خیز مصرع ہے جو قربانی، صبر اور خودداری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

سماجی جبر اور محبت کی شکست

یہاں شاعر محبوب کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اسے مظلوم سمجھتا ہے، جو اس کی محبت کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

دولت اور محبت کا تضاد

یہ اشعار قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اصل خوشی کس چیز میں ہے۔

زندگی سے شکوہ اور حالات کی سختی

اختتامیہ: دعا، درد اور خود سپردگی

اہم نکات

  • خاموش محبت اور ان کہے جذبات
  • سماجی مجبوریوں کا اثر
  • قربانی اور خودداری
  • دولت اور محبت کا فرق
  • زندگی کی تلخ حقیقتیں
  • دعا اور بے لوث محبت

Watch My Ghazal Kis qayamat ki ghari hey

English Translation

The Pact
I know—you are helpless, bound by chains unseen.

In the purity of a silent evening, for a few moments
You stood before me, face to face,
Yet not a single word escaped your lips.
With a glance that set my soul on fire,
You walked away.

Every letter written in your silent eyes
I know them all—I understand their meaning.
Why are you fearful of my name, why this regret?
I still see your being as innocent, oppressed.

Once, your heart was tied to mine—
You thought I would lock this secret in my chest.
Go then, with confidence, and manage the world;
Even if I drink poison, I will sweeten my lips with silence.

Society forced you into surrender—otherwise
I know you were sincere with me.
You became the owner of wealth piled upon you,
Yet in the riches of love, you remained poor.

I do not believe in life’s generous favors;
I complain of the bitterness life has poured into me.
The world may seem nothing, yet it is everything—
I complain of fate’s relentless cruelty.

May your home never be touched by sorrow.
I do not accuse you—just let me wander astray.
O my world, you do not realize—
I am a vessel of glass; if you must, break me.

I know—you are helpless, bound by chains unseen.
Visit this website Adab Ki Poetry

یہ نظم بعد میں

Monthly Political Scene Lahore (November 2005)

میں بھی شائع ہوئی

لیکن اس ادارے کے ادبی شعبے کے سربراہ نے نظم کی تصحیح کرتے کرتے نظم کا حلیہ ہی بگاڑ دیا، جس پر میں نے شدید الفاظ میں احتجاج کیا۔ میں اس کی کاپی بھی قارئین کے لیے یہاں منسلک کر رہا ہوں تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ نظم میں کس قدر تبدیلی کی گئی ہے

This poem was later published in Monthly Political Scene Lahore, but the head of the literary section of this institution, while “correcting” the poem, completely distorted its original form, against which I protested in very strong words. I am also attaching a copy here for the readers, so that you may judge for yourselves to what extent the poem was altered.


Watch my ghazal Kitab e Ishaq

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. Very very romantic and emotional

    ReplyDelete
  2. Kia hi ala takhleeq hey wah

    ReplyDelete
  3. Peechey htney ka muahda drasl haar hi gini jati hey

    ReplyDelete
    Replies
    1. ye nhi kaha ja sakta k ue peechey hatney ka muahda hey , is tra k kamon mn is tra to hota hey

      Delete
  4. Such a masterpiece poetry ✨

    ReplyDelete
  5. دلکش شاعری جو دل کو موہ لے واہ

    ReplyDelete
  6. ye to brey shayeroon wali poetry hey jo brey poet hi kr saktey hn

    ReplyDelete
  7. Maza a gya itni pyari poetry

    ReplyDelete
  8. گہرائی میں اتر کر لکھی گئی بھر پور جزبوں اور پھر ان جذبوں پر مکمل قابو پا لینا یہی تو اصل امتحان ہوتا ہے

    ReplyDelete
  9. اتنے اچھے خیالات کا بہت شکریہ

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے س...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے ما...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily appare...
Follow This Blog WhatsApp