Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

غلام ہمدانی مصحفی ایک استاد شاعر

غغلام ہمدانی مصحفیؔ: ایک تعارف غلام ہمدانی مصحفیؔ کا شمار اردو کے اساتذۂ سخن میں ہوتا ہے۔۔۔ غلام ہمدانی ان کا نام اور مصحفیؔ تخلص تھا۔ اکثر تذکرہ نگارو نے ان کی جائے پیدائش امروہہ لکھی ہے، تاہم مہذب لکھنوی میر حسن کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ دہلی کے قریب اکبر پور میں پیدا ہوئے۔ بہرحال ان کا بچپن امروہہ ہی میں بسر ہوا۔ مصحفی 1747 میں پیدا ہوئے۔۔۔ خاندانی پس منظر اور معاشی زوال مصحفیؔ کے آباء و اجداد خوشحال تھے اور حکومت کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے، لیکن سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی خاندان کی خوشحالی بھی رخصت ہو گئی۔ نتیجتاً مصحفیؔ کی پوری زندگی معاشی تنگ دستی میں گزری۔ روزگار کی تلاش نے انہیں مسلسل ایک شہر سے دوسرے شہر کی خاک چھاننے پر مجبور کیے رکھا۔ تلاشِ معاش اور ادبی تربیت وہ دہلی آئے جہاں تلاشِ معاش کے ساتھ ساتھ اہلِ علم و فضل کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ بعد ازاں آنولہ گئے، کچھ عرصہ ٹانڈے میں قیام کیا اور ایک سال لکھنؤ میں رہے۔ اسی دوران ان کی ملاقات سوداؔ سے ہوئی جو اس وقت فرخ آباد سے لکھنؤ منتقل ہو چکے تھے۔ مصحفیؔ، سوداؔ سے بے حد متاثر ہوئے۔ بعد ازاں وہ دوبارہ دہلی ...

غلام ہمدانی مصحفی ایک استاد شاعر

غغلام ہمدانی مصحفیؔ: ایک تعارف

غلام ہمدانی مصحفیؔ کا شمار اردو کے اساتذۂ سخن میں ہوتا ہے۔۔۔ غلام ہمدانی ان کا نام اور مصحفیؔ تخلص تھا۔ اکثر تذکرہ نگارو نے ان کی جائے پیدائش امروہہ لکھی ہے، تاہم مہذب لکھنوی میر حسن کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ دہلی کے قریب اکبر پور میں پیدا ہوئے۔ بہرحال ان کا بچپن امروہہ ہی میں بسر ہوا۔ مصحفی 1747 میں پیدا ہوئے۔۔۔

خاندانی پس منظر اور معاشی زوال

مصحفیؔ کے آباء و اجداد خوشحال تھے اور حکومت کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے، لیکن سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی خاندان کی خوشحالی بھی رخصت ہو گئی۔ نتیجتاً مصحفیؔ کی پوری زندگی معاشی تنگ دستی میں گزری۔ روزگار کی تلاش نے انہیں مسلسل ایک شہر سے دوسرے شہر کی خاک چھاننے پر مجبور کیے رکھا۔

تلاشِ معاش اور ادبی تربیت

وہ دہلی آئے جہاں تلاشِ معاش کے ساتھ ساتھ اہلِ علم و فضل کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ بعد ازاں آنولہ گئے، کچھ عرصہ ٹانڈے میں قیام کیا اور ایک سال لکھنؤ میں رہے۔ اسی دوران ان کی ملاقات سوداؔ سے ہوئی جو اس وقت فرخ آباد سے لکھنؤ منتقل ہو چکے تھے۔ مصحفیؔ، سوداؔ سے بے حد متاثر ہوئے۔ بعد ازاں وہ دوبارہ دہلی واپس آ گئے۔ اگرچہ مصحفیؔ کو باضابطہ علمی قابلیت زیادہ حاصل نہ تھی، لیکن ان کی طبیعت شاعری کے لیے نہایت موزوں تھی اور وہ سخن کے ذریعے اپنا مقام بنانا چاہتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے مشاعروں میں شریک ہوتے اور اپنے گھر پر بھی مشاعرے منعقد کیا کرتے تھے۔ دہلی میں قیام کے دوران انہوں نے دو دیوان مرتب کیے، جن میں سے ایک چوری ہو گیا:

اے مصحفیؔ شاعر نہیں پورب میں ہوا میں

دلی میں بھی چوری مرا دیوان گیا ہے

دوبارہ لکھنؤ آمد اور بدلتا ہوا ادبی منظرنامہ

بارہ برس دہلی میں گزارنے کے بعد جب مصحفیؔ دوبارہ لکھنؤ پہنچے تو شہر کا نقشہ بدل چکا تھا۔ آصف الدولہ کا عہد تھا، جن کی سخاوت کے چرچے عام تھے۔ ہر فن کے کمالات رکھنے والے اہلِ کمال لکھنؤ میں جمع تھے۔ سوداؔ کا انتقال ہو چکا تھا، میر تقی میرؔ لکھنؤ آ چکے تھے، میر حسن مقیم تھے اور میر سوزؔ اور جرأتؔ کے سکے جمے ہوئے تھے۔ ان نامور شاعروں کی موجودگی میں مصحفیؔ کو دربار سے کوئی خاص فائدہ نہ پہنچ سکا، چنانچہ وہ دہلی کے شہزادے سلیمان شکوہ کی سرکار سے وابستہ ہو گئے۔

سلیمان شکوہ، انشاءؔ اور مصحفیؔ کی محرومی

سلیمان شکوہ نے مصحفیؔ کو اپنا استاد تسلیم کیا اور 25 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا۔ مگر اسی زمانے میں سید انشاءؔ لکھنؤ آ گئے اور اپنی ذہانت و ظرافت سے سلیمان شکوہ کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ یوں سلیمان شکوہ نے انشاءؔ سے اصلاح لینی شروع کر دی۔

انشاءؔ اور مصحفیؔ کے درمیان رقابت مشاعروں سے نکل کر گلی کوچوں تک پہنچ گئی۔ مصحفیؔ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، مگر انشاءؔ کی برجستگی، حاضر جوابی اور شوخی کا مقابلہ مصحفیؔ نہ کر سکے۔ جب مصحفیؔ کے شاگردوں نے انشاءؔ کے خلاف تضحیکی جلوس نکالنے کا ارادہ کیا تو کوتوال کے ذریعے اسے رکوا دیا گیا اور سلیمان شکوہ نے ناراض ہو کر مصحفیؔ کا وظیفہ گھٹا کر صرف پانچ روپے ماہانہ کر دیا۔

اس ذلت کا شکوہ مصحفیؔ نے ان اشعار میں کیا:


اے وائے کہ پچیس سے اب پانچ ہوئے ہیں
ہم بھی تھے کنھوں وقتوں میں پچیس کے لائق
لکھنؤ سے بیزاری، مگر تقدیر کا فیصلہ دل برداشتہ ہو کر مصحفیؔ نے لکھنؤ چھوڑنے کا ارادہ کیا اور کہا
: جاتا ہوں ترے در سے کہ توقیر نہیں یاں

اے مصحفیؔ بے لطف ہے اس شہر میں رہنا

لیکن قسمت نے انہیں لکھنؤ سے نکلنے کی مہلت نہ دی اور وہیں 1824 میں ان کا انتقال ہوا۔

تصانیف اور ضائع شدہ کلام

مصحفیؔ اپنے پیچھے اردو کے آٹھ دیوان، فارسی کا ایک دیوان، فارسی شاعروں کا ایک تذکرہ اور اردو شاعروں کے دو تذکرے چھوڑ گئے۔ ان کا بہت سا کلام ہم تک اس لیے نہ پہنچ سکا کہ شدید مالی تنگی کے عالم میں وہ اشعار فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ مشاعروں کے لیے کئی غزلیں کہتے اور لوگ آٹھ آنے، ایک روپیہ یا اس سے زیادہ دے کر اشعار خرید لیتے۔

محمد حسین آزاد کے مطابق ایک مشاعرے میں جب بالکل داد نہ ملی تو انہوں نے غزل زمین پر دے ماری اور کہا:

واے فلاکتِ سیاہ! کلام کی یہ نوبت آ پہنچی کہ اب کوئی سنتا بھی نہیں۔”

استادوں کا استاد

مصحفیؔ کے شاگردوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں “استادوں کا استاد” کہنا بجا ہے۔ آتشؔ، اسیرؔ، میر خلیقؔ جیسے نامور شاعر انہی کے شاگرد تھے۔

آتشؔ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ مصحفیؔ کی قادرالکلامی کا روشن ثبوت ہے، جب انہوں نے فی البدیہہ ایک نوآموز شاگرد کی غزل میں ایسا شعر بڑھایا کہ خود آتشؔ دنگ رہ گئے۔

شعری مقام اور تنقیدی آرا

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مصحفیؔ کا کوئی مستقل رنگ نہیں؛ کبھی وہ میرؔ کی پیروی کرتے ہیں، کبھی سوداؔ کی اور کبھی جرأتؔ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں وہ فراغت اور یکسوئی نصیب نہ ہو سکی جو ایک مستقل اسلوب کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ان کے کلام میں ایسے بیش بہا اشعار موجود ہیں جو ان کی عظمت کے ضامن ہیں۔

حسرت موہانی کے مطابق، مصحفیؔ مجموعی حیثیت سے اپنے تمام ہم عصروں پر فوقیت رکھتے ہیں۔

جبکہ نثار احمد فاروقی انہیں “رچا ہوا اعتدال” کا شاعر قرار دیتے ہیں—ایسا اعتدال جس میں شبنم کی نرمی اور شعلۂ گل کی گرمی ایک ساتھ جلوہ گر ہے۔

مصحفیؔ وہ شاعر ہیں جنہیں زندگی نے نہ کھل کر ہنسنے دیا، نہ جی بھر کر رونے کا موقع دیا، مگر اس کے باوجود وہ اردو شاعری کا ایسا سرمایہ چھوڑ گئے جو ان کی ابدی زندگی کا اعلان نامہ ہے۔۔۔


Watch my beutiful Ghazal Kitab e Ishaq

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. اردو شاعری اور اُردو زبان کے فروغ میں مصحفی کا کردار بڑا اہم دکھائی دیتا ہے وہ حقیقت میں اعتدال کے شاعر تھے

    ReplyDelete
  2. مصحفی اور ساغر صدیقی میں اس لحاظ سے مماثلت ہے کہ دونوں چند پیسوں کے عوض اپنے اشعار بیچ دیتے تھے

    ReplyDelete
  3. پڑھے لکھے لوگوں کو نہ جانے کیوں ہمیشہ سے مالی مسائل کا سامنا رہتا ہے لکھنؤ میں جس طرح مصحفی کی تنخواہ 25 روپے سے کم کر کے پانچ روپے کر دی گئی پڑھ کر بڑا افسوس ہوا

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: U sing fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices l...

Manzar

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah is one of the most significant figures in the history of South Asia and the founder of Pakistan. Here is an overview of his life and legacy: Early Life Born: December 25, 1876, in Karachi, then part of British India. Family: Jinnah belonged to a merchant family. His father, Jinnahbhai Poonja, was a prosperous businessman. Education: He initially studied in Karachi and Bombay (now Mumbai) before going to England to study law at Lincoln's Inn in London, where he became the youngest Indian to be called to the Bar at the age of 19. Political Career Entry into Politics: Jinnah began his political career in the Indian National Congress (INC) in 1906, advocating for Hindu-Muslim unity and Indian self-rule. Role in Muslim League: By 1913, Jinnah joined the All India Muslim League, which he would later lead. He became a staunch advocate for the rights of Muslims in India. Archi...

بس اسکا ذکر بلند ہے bas uska ziker buland hey

natia nazm 1. Zikr-e-Rasool: The act of remembering or mentioning the Prophet Muhammad in a positive and reverent manner. 2. Salawat: The recitation of blessings upon the Prophet Muhammad. Also known as "Durood" or "Salat al-Nabi." 3. Naat: A form of poetry or song that praises the Prophet Muhammad's virtues and character. 4. Muhammad (PBUH): An abbreviation for "Peace Be Upon Him," used after mentioning the Prophet's name as a sign of respect. 5. Sallallahu Alaihi Wasallam: An Arabic phrase often used after mentioning the Prophet Muhammad, which means "Peace and blessings be upon him." 6. Mawlid: The celebration of the Prophet Muhammad's birth, which often includes zikr-e-Rasool and recitation of Islamic poetry. 7. Hadith: Sayings, actions, and approvals of the Prophet Muhammad, which are a significant source of guidance in Islam. 8. Sunnah: The practices and traditions of the Prophet Muhammad, which Muslims seek to emulate in thei...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے

Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا Mn ne Tum ko Khuda se maanga hey Mn ne tum se to kuch nhi maanga The speaker expresses a deep and heartfelt sentiment by stating that they have asked for their beloved from God. This request is directed to the divine, indicating the importance and sacredness of the beloved in the speaker's life. The speaker further clarifies that they haven't asked the beloved for anything directly. This highlights the purity and selflessness of their love, as their desire is so profound that they seek it through prayer rather than direct requests. Overall, the verse conveys a strong sense of devotion and reverence, showing that the beloved is seen as a divine blessing rather than something to be demanded or taken. afzal shakeel sandhu Urdu Poetry & Ghazals Blog 🎥 If you enjoy my poetry a...

tees

poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world. Invisible pain is a profound and often misunderstood aspect of the hu...
Follow This Blog WhatsApp