Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Noon Meem Rashid – Architect of Modern Urdu Free Verse Poetry

ن م راشد — جدید اُردو نظم کا معمار اور فکری بغاوت کی علامت پیدائش: 1 اگست 1910 | سیالکوٹ، پنجاب    |    وفات: 9 اکتوبر 1975 | لندن، برطانیہ ن م راشد اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد کی روح کو بیان کیا بلکہ نئی نسل میں ایک نیا شعور بھی پیدا کیا اور تخلیقی سطح پر نئے معیار قائم کیے۔ آزاد نظم کو مقبول بنانے میں ان کا نام سرِفہرست آتا ہے۔ انہوں نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے اُردو شاعری میں ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ وہ اُن چند شعرا میں سے ہیں جن کی شاعری نہ محض زبان کی شاعری ہے اور نہ ہی محض حالات کی عکاسی، بلکہ ان کا کلام فکر و دانش کا آئینہ دار ہے۔ وہ خود بھی سوچتے ہیں اور اپنے قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، اور ان کی فکر کا دائرہ نہایت وسیع، کائناتی اور آفاقی ہے۔ مذہبی، جغرافیائی، لسانی اور دیگر حدود کو توڑتے ہوئے وہ ایک ایسے آفاقی انسان کا تصور پیش کرتے ہیں جسے وہ "آدمِ نو" کہتے ہیں—ایک ایسا انسان جو ظاہر و باطن کی مکمل ہم آہنگی کا پیکر ہو۔ راشد کا شعری مزاج اُن شعرا سے مماثلت رکھتا ہے جیسے رومی، اقبال، دانتے اور ملٹن، جو ایک خاص س...

Naseehat | Free Verse Poetry by Afzal Shakeel Sandhu | Immortality of Words

Naseehat – A Thoughtful Urdu Poem About Words and Legacy by Afzal Shakeel

نظم: نصیحت

اے معرے لفظو
میری بات سنو
میں تمہیں ساعتوں کے دریا میں
ڈوبتا دیکھ تو نہیں سکتا

اک نصیحت کو عام کرتا ہوں
تم توجہ سے بات کو سن لو
میں تو بس راکھ کی امانت ہوں
اے میرے دل نشیں حسیں لفظو
تم میری زندگی کا حاصل ہو

تم کو میں نے بہت تراشا ہے
میرے لفظو تم گواہ رہنا
میری تربت کے خاک کے ذرے
حرف اور صوت کا تعارف ہیں

وقت مجھ کو مٹانا چاہتا ہے
میری باتیں گنوانا چاہتا ہے
میں صلہ مانگتا نہیں لیکن
مجھ پہ احسان اتنا کر دینا

وقت مجھ کو مٹانے جب آئے
وقت کے سامنے ڈٹے رہنا


تفصیل

یہ نظم "نصیحت" الفاظ، وقت اور انسان کے فکری ورثے کے درمیان ایک گہرا اور معنی خیز رشتہ پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے الفاظ سے مخاطب ہو کر انہیں ایک جاندار وجود کی صورت دیتا ہے، جیسے وہ اس کی زندگی کے ساتھی اور اس کے احساسات کے امین ہوں۔ یہ اندازِ بیان نظم کو ایک خاص تاثیر اور انفرادیت بخشتا ہے۔

ابتدائی اشعار میں شاعر اپنے الفاظ کو ڈوبنے سے بچانے کی بات کرتا ہے، جو دراصل اس خوف کی علامت ہے کہ وقت کے بہاؤ میں اس کی تخلیقات کہیں گم نہ ہو جائیں۔ یہ ہر تخلیق کار کا ایک فطری احساس ہے کہ اس کا کام وقت کے ساتھ زندہ رہے۔

شاعر اپنے آپ کو "راکھ کی امانت" قرار دیتا ہے، جو انسانی فنا اور ناپائیداری کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے برعکس الفاظ کو ایک دائمی حیثیت دی گئی ہے، جو انسان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں اور اس کی پہچان بن جاتے ہیں۔

"تم کو میں نے بہت تراشا ہے" کے ذریعے شاعر اپنی محنت، ریاضت اور تخلیقی سفر کو بیان کرتا ہے۔ یہ مصرع اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ الفاظ محض اتفاق نہیں بلکہ شعوری محنت کا نتیجہ ہیں۔

نظم کے آخری حصے میں وقت کو ایک مخالف قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو شاعر کو اور اس کی باتوں کو مٹانا چاہتا ہے۔ مگر شاعر اپنے الفاظ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ وقت کے سامنے ڈٹ جائیں اور اس کے پیغام کو زندہ رکھیں۔

مجموعی طور پر یہ نظم ایک تخلیق کار کے اس جذبے کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی تحریروں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔ یہ قاری کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ الفاظ کی طاقت کیا ہے اور وہ کس طرح انسان کی شناخت کو وقت کی حدود سے آزاد کر سکتے ہیں۔

“Naseehat (Advice)” is a heartfelt free verse by Afzal Shakeel Sandhu. In this poem, the poet speaks directly to his words—the eternal companions of a writer. While life and body are temporary, words are immortal. They carry the weight of memory, defy the silence of time, and preserve the poet’s name against the forgetting winds of the world. 🖋 A message to poets, writers, and dreamers: Human beings die, bodies return to soil, but words live on. They are your legacy. 📌 Written & Recited by: Afzal Shakeel Sandhu 📌 Language: Urdu (Free Verse) 📌 Theme: Immortality of words, legacy, philosophy, advice
WATCH MY WONDERFUL POETRY
Also wath this poetry
See This Ghazal Rekhta
Visit My youtube Channel for urdu poetry

Poetry About Life and Death ,
watch this

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ ص...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp