Naseehat – A Thoughtful Urdu Poem About Words and Legacy by Afzal Shakeel
نظم: نصیحت
اے معرے لفظو
میری بات سنو
میں تمہیں ساعتوں کے دریا میں
ڈوبتا دیکھ تو نہیں سکتا
اک نصیحت کو عام کرتا ہوں
تم توجہ سے بات کو سن لو
میں تو بس راکھ کی امانت ہوں
اے میرے دل نشیں حسیں لفظو
تم میری زندگی کا حاصل ہو
تم کو میں نے بہت تراشا ہے
میرے لفظو تم گواہ رہنا
میری تربت کے خاک کے ذرے
حرف اور صوت کا تعارف ہیں
وقت مجھ کو مٹانا چاہتا ہے
میری باتیں گنوانا چاہتا ہے
میں صلہ مانگتا نہیں لیکن
مجھ پہ احسان اتنا کر دینا
وقت مجھ کو مٹانے جب آئے
وقت کے سامنے ڈٹے رہنا
تفصیل
یہ نظم "نصیحت" الفاظ، وقت اور انسان کے فکری ورثے کے درمیان ایک گہرا اور معنی خیز رشتہ پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے الفاظ سے مخاطب ہو کر انہیں ایک جاندار وجود کی صورت دیتا ہے، جیسے وہ اس کی زندگی کے ساتھی اور اس کے احساسات کے امین ہوں۔ یہ اندازِ بیان نظم کو ایک خاص تاثیر اور انفرادیت بخشتا ہے۔
ابتدائی اشعار میں شاعر اپنے الفاظ کو ڈوبنے سے بچانے کی بات کرتا ہے، جو دراصل اس خوف کی علامت ہے کہ وقت کے بہاؤ میں اس کی تخلیقات کہیں گم نہ ہو جائیں۔ یہ ہر تخلیق کار کا ایک فطری احساس ہے کہ اس کا کام وقت کے ساتھ زندہ رہے۔
شاعر اپنے آپ کو "راکھ کی امانت" قرار دیتا ہے، جو انسانی فنا اور ناپائیداری کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے برعکس الفاظ کو ایک دائمی حیثیت دی گئی ہے، جو انسان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں اور اس کی پہچان بن جاتے ہیں۔
"تم کو میں نے بہت تراشا ہے" کے ذریعے شاعر اپنی محنت، ریاضت اور تخلیقی سفر کو بیان کرتا ہے۔ یہ مصرع اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ الفاظ محض اتفاق نہیں بلکہ شعوری محنت کا نتیجہ ہیں۔
نظم کے آخری حصے میں وقت کو ایک مخالف قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو شاعر کو اور اس کی باتوں کو مٹانا چاہتا ہے۔ مگر شاعر اپنے الفاظ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ وقت کے سامنے ڈٹ جائیں اور اس کے پیغام کو زندہ رکھیں۔
مجموعی طور پر یہ نظم ایک تخلیق کار کے اس جذبے کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی تحریروں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔ یہ قاری کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ الفاظ کی طاقت کیا ہے اور وہ کس طرح انسان کی شناخت کو وقت کی حدود سے آزاد کر سکتے ہیں۔
“Naseehat (Advice)” is a heartfelt free verse by Afzal Shakeel Sandhu. In this poem, the poet speaks directly to his words—the eternal companions of a writer. While life and body are temporary, words are immortal. They carry the weight of memory, defy the silence of time, and preserve the poet’s name against the forgetting winds of the world. 🖋 A message to poets, writers, and dreamers: Human beings die, bodies return to soil, but words live on. They are your legacy. 📌 Written & Recited by: Afzal Shakeel Sandhu 📌 Language: Urdu (Free Verse) 📌 Theme: Immortality of words, legacy, philosophy, adviceWATCH MY WONDERFUL POETRY
Also wath this poetry
See This Ghazal Rekhta
Visit My youtube Channel for urdu poetry
Poetry About Life and Death ,
watch this
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu