Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Bedam Shah Warsi – The Great Sufi and Naat Poet | Complete Biography

بیدم شاہ وارثی 🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙 یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔ بیدم شاہ وارثیؔ — مکمل سوانح و تعارف نام غلام حسین تخلص بیدمؔ مشہور نام بیدم شاہ وارثیؔ سالِ پیدائش 1876ء مقامِ پیدائش اٹاوہ، اتر پردیش، ہندوستان والد کا نام سید انور استاد نثار اکبرآبادی روحانی مرشد حضرت حاجی وارث علی شاہ سلسلہ وارثیہ شہرت صوفیانہ، عارفانہ اور نعتیہ شاعری وفات 24 نومبر 1936ء مدفن شاہ اویس کا گورستان، دیوہ، ضلع بارہ بنکی بعض ادبی صفحات پر ان کی زندگی کا عمومی زمانہ 1876–1936ء درج ہے، جبکہ صوفی نامہ ان کی وفات کی تاریخ 24 نومبر 1936ء بیان کرتا ہے۔ Visit My blog On Imam Hmad Raza Brelvi click here ابتدائی زندگی اور تعلیم بیدم شاہ وارثیؔ کا اصل نام غلام حسین تھا۔ وہ 1876ء م...

Naseehat | Free Verse Poetry by Afzal Shakeel Sandhu | Immortality of Words

Naseehat – A Thoughtful Urdu Poem About Words and Legacy by Afzal Shakeel

نظم: نصیحت

اے معرے لفظو
میری بات سنو
میں تمہیں ساعتوں کے دریا میں
ڈوبتا دیکھ تو نہیں سکتا

اک نصیحت کو عام کرتا ہوں
تم توجہ سے بات کو سن لو
میں تو بس راکھ کی امانت ہوں
اے میرے دل نشیں حسیں لفظو
تم میری زندگی کا حاصل ہو

تم کو میں نے بہت تراشا ہے
میرے لفظو تم گواہ رہنا
میری تربت کے خاک کے ذرے
حرف اور صوت کا تعارف ہیں

وقت مجھ کو مٹانا چاہتا ہے
میری باتیں گنوانا چاہتا ہے
میں صلہ مانگتا نہیں لیکن
مجھ پہ احسان اتنا کر دینا

وقت مجھ کو مٹانے جب آئے
وقت کے سامنے ڈٹے رہنا



Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI click here

تفصیل

یہ نظم "نصیحت" الفاظ، وقت اور انسان کے فکری ورثے کے درمیان ایک گہرا اور معنی خیز رشتہ پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے الفاظ سے مخاطب ہو کر انہیں ایک جاندار وجود کی صورت دیتا ہے، جیسے وہ اس کی زندگی کے ساتھی اور اس کے احساسات کے امین ہوں۔ یہ اندازِ بیان نظم کو ایک خاص تاثیر اور انفرادیت بخشتا ہے۔

ابتدائی اشعار میں شاعر اپنے الفاظ کو ڈوبنے سے بچانے کی بات کرتا ہے، جو دراصل اس خوف کی علامت ہے کہ وقت کے بہاؤ میں اس کی تخلیقات کہیں گم نہ ہو جائیں۔ یہ ہر تخلیق کار کا ایک فطری احساس ہے کہ اس کا کام وقت کے ساتھ زندہ رہے۔

شاعر اپنے آپ کو "راکھ کی امانت" قرار دیتا ہے، جو انسانی فنا اور ناپائیداری کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے برعکس الفاظ کو ایک دائمی حیثیت دی گئی ہے، جو انسان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں اور اس کی پہچان بن جاتے ہیں۔

"تم کو میں نے بہت تراشا ہے" کے ذریعے شاعر اپنی محنت، ریاضت اور تخلیقی سفر کو بیان کرتا ہے۔ یہ مصرع اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ الفاظ محض اتفاق نہیں بلکہ شعوری محنت کا نتیجہ ہیں۔

نظم کے آخری حصے میں وقت کو ایک مخالف قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو شاعر کو اور اس کی باتوں کو مٹانا چاہتا ہے۔ مگر شاعر اپنے الفاظ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ وقت کے سامنے ڈٹ جائیں اور اس کے پیغام کو زندہ رکھیں۔

مجموعی طور پر یہ نظم ایک تخلیق کار کے اس جذبے کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی تحریروں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔ یہ قاری کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ الفاظ کی طاقت کیا ہے اور وہ کس طرح انسان کی شناخت کو وقت کی حدود سے آزاد کر سکتے ہیں۔



Read My POEM MAZDOOR PULI click here

“Naseehat (Advice)” is a heartfelt free verse by Afzal Shakeel Sandhu. In this poem, the poet speaks directly to his words—the eternal companions of a writer. While life and body are temporary, words are immortal. They carry the weight of memory, defy the silence of time, and preserve the poet’s name against the forgetting winds of the world. 🖋 A message to poets, writers, and dreamers: Human beings die, bodies return to soil, but words live on. They are your legacy. 📌 Written & Recited by: Afzal Shakeel Sandhu 📌 Language: Urdu (Free Verse) 📌 Theme: Immortality of words, legacy, philosophy, advice

WATCH MY WONDERFUL POETRY

Also wath this poetry
See This Ghazal Rekhta
Visit My youtube Channel for urdu poetry

Poetry About Life and Death ,
watch this

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp