بیدم شاہ وارثی
بیدم شاہ وارثیؔ — مکمل سوانح و تعارف
نام غلام حسین
تخلص بیدمؔ
مشہور نام بیدم شاہ وارثیؔ
سالِ پیدائش 1876ء
مقامِ پیدائش اٹاوہ، اتر پردیش، ہندوستان
والد کا نام سید انور
استاد نثار اکبرآبادی
روحانی مرشد حضرت حاجی وارث علی شاہ
سلسلہ وارثیہ
شہرت صوفیانہ، عارفانہ اور نعتیہ شاعری
وفات 24 نومبر 1936ء
مدفن شاہ اویس کا گورستان، دیوہ، ضلع بارہ بنکی
بعض ادبی صفحات پر ان کی زندگی کا عمومی زمانہ 1876–1936ء درج ہے، جبکہ صوفی نامہ ان کی وفات کی تاریخ 24 نومبر 1936ء بیان کرتا ہے۔
Visit My blog On Imam Hmad Raza Brelvi click here
ابتدائی زندگی اور تعلیم
بیدم شاہ وارثیؔ کا اصل نام غلام حسین تھا۔ وہ 1876ء میں اٹاوہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید انور تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت بھی اٹاوہ ہی میں ہوئی۔ بچپن ہی سے ان کے اندر شاعری کا ذوق موجود تھا۔ وہ دوسروں کی غزلیں سنتے اور انہیں گنگنایا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہی شوق باقاعدہ شاعری کی طرف لے گیا۔
Visit My blog On IQBAL AZEEM Click here
شاعری کی طرف سفر
شاعر بننے کی خواہش انہیں آگرہ لے گئی، جہاں انہوں نے معروف شاعر نثار اکبرآبادی سے کسبِ فیض کیا۔ نثار اکبرآبادی خود شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز شاگرد اور مرید تھے۔ استاد کی صحبت اور مسلسل مشق نے بیدمؔ کی شاعری کو نکھارا اور وہ جلد ہی ایک ممتاز شاعر کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔
Visit Rekhta for urdu adab
حضرت وارث علی شاہ سے تعلق
بیدم شاہ وارثیؔ کی زندگی کا سب سے اہم پہلو ان کا حضرت حاجی وارث علی شاہ سے روحانی تعلق تھا۔ وہ حضرت وارث علی شاہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلۂ وارثیہ سے وابستہ ہوگئے۔ ان کے دل میں اپنے مرشد کے لیے انتہائی گہری عقیدت اور محبت تھی۔ اسی روحانی نسبت کی وجہ سے ان کے نام کے ساتھ وارثی منسوب ہوا اور وہ بیدم شاہ وارثیؔ کے نام سے مشہور ہوئے۔
Visit My POEM MAZDOOR PULI Click here
سراج الشعرا‘‘ اور ’’لسان الطریقت
بیدمؔ کو ان کے روحانی اور شعری مقام کی وجہ سے ’’سراج الشعرا‘‘ اور ’’لسان الطریقت‘‘ جیسے خطابات سے بھی یاد کیا گیا۔ ان کی شاعری میں عشق، معرفت، تصوف، فقر، روحانیت اور محبتِ رسول ﷺ نمایاں موضوعات ہیں۔
Visit My Ghazal BAZN E HASTI MN Click here
بیدمؔ کی نعتیہ شاعری
بیدم شاہ وارثیؔ کا سب سے نمایاں ادبی مقام نعت گوئی میں ہے۔ ان کے نعتیہ کلام میں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے والہانہ محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔ ایک جدید تحقیقی مطالعے کے مطابق بیدمؔ کی نعتیہ شاعری میں سیرتِ نبوی ﷺ، اخلاقِ نبوی، شمائل، رحمت، معجزات اور مقامِ رسالت جیسے موضوعات صوفیانہ انداز میں سامنے آتے ہیں۔
ان کی مشہور نعت کا مطلع ہے
بے خود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ
یہ نعت ان کی شناخت بن جانے والے کلام میں شمار ہوتی ہے۔ صوفی نامہ بھی انہیں اسی نعت کے حوالے سے معروف نعت گو شاعر قرار دیتا ہے۔
Visit My Blog On Famous Poet BASHEER BADAR Click here
بیدمؔ کی شاعری کی خصوصیات
بیدمؔ کے کلام میں کئی رنگ ملتے ہیں
نعت
حمد
منقبت
غزل
صوفیانہ شاعری
عارفانہ کلام
رباعیات
سلام
بھجن
ٹھمری
دادرا
پوربی زبان کا کلام
ان کی شاعری میں عشقِ حقیقی، عشقِ رسول ﷺ، معرفت، تصوف، درد و سوز اور روحانی کیفیات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
VISIT MY POEM (ASAL) NOOR E MUHAMMADI Click here
مرشد سے محبت
بیدمؔ اپنے مرشد حضرت وارث علی شاہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ روایت کے مطابق جب وہ کوئی نئی غزل یا منقبت کہتے تو عام لوگوں کو سنانے سے پہلے آستانۂ وارث پر حاضر ہوکر اپنا کلام پیش کرتے تھے۔ وہ دنیاوی مدح سرائی اور اہلِ دنیا کی خوشامد سے دور رہنے کے لیے بھی معروف تھے۔ ’’پھولوں کی چادر‘‘ بیدمؔ نے اپنے پیر و مرشد حضرت وارث علی شاہ کی منظوم سوانح بھی لکھی، جس کا عنوان ’’پھولوں کی چادر‘‘ بتایا جاتا ہے۔ یہ ان کی مرشد سے عقیدت کا ایک خوبصورت ادبی اظہار ہے۔
Read My Blog On TUFAIL HOSHIARPURI Click here
بیدم شاہ وارثیؔ کی معروف کتابیں
ریختہ کے مطابق بیدم شاہ وارثیؔ سے منسوب متعدد کتب دستیاب ہیں، جن میں نمایاں یہ ہیں
مصحفِ بیدم
دیوانِ بیدم
دیوانِ بیدم — کرشمۂ وارثی
دیوانِ مصحفِ بیدم
دیوانِ بیدم شاہ وارثی
جگر پارہ — ارمغانِ بیدم
بوستان وارث الانبیاء
پھولوں کی چادر
نورالعین / مصحفِ بیدم
مثلاً مصحفِ بیدم کا ایک مطبوعہ ایڈیشن 1935ء کا درج ہے، جبکہ نورالعین — مصحفِ بیدم کے 1936ء کے ایڈیشن کی تفصیل بھی موجود ہے۔
Visit My Poem MUAHADA (THE PACT) Click Here
وفات
حضرت حاجی وارث علی شاہ کا وصال 1905ء میں ہوا۔ بیدم شاہ وارثیؔ اپنے مرشد کے وصال کے بعد تقریباً 31 سال مزید زندہ رہے اور 24 نومبر 1936ء کو وفات پائی۔ ان کی تدفین شاہ اویس کے گورستان، دیوہ، ضلع بارہ بنکی میں ہوئی۔
ادبی مقام
بیدم شاہ وارثیؔ اردو صوفیانہ اور نعتیہ شاعری کے اہم ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی خاص خوبی یہ ہے کہ انہوں نے تصوف اور عشقِ رسول ﷺ کو نہایت مؤثر شعری زبان میں بیان کیا۔ ان کا کلام محض جذباتی شاعری نہیں بلکہ معرفت، روحانیت اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مضامین کا بھی حامل ہے
Visit My Ghazal QIS QAYAMAT KI GHARRI Click here
غزل
اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے
تو پھر سجدہ مری ہر لغزش مستانہ ہو جائے
وہی دل ہے جو حسن و عشق کا کاشانہ ہو جائے
وہ سر ہے جو کسی کی تیغ کا نذرانہ ہو جائے
یہ اچھی پردہ داری ہے یہ اچھی رازداری ہے
کہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے
مرا سر کٹ کے مقتل میں گرے قاتل کے قدموں پر
دم آخر ادا یوں سجدۂ شکرانہ ہو جائے
تری سرکار میں لایا ہوں ڈالی حسرت دل کی
عجب کیا ہے مرا منظور یہ نذرانہ ہو جائے
شب فرقت کا جب کچھ طول کم ہونا نہیں ممکن
تو میری زندگی کا مختصر افسانہ ہو جائے
وہ سجدے جن سے برسوں ہم نے کعبہ کو سجایا ہے
جو بت خانے کو مل جائیں تو پھر بت خانہ ہو جائے
کسی کی زلف بکھرے اور بکھر کر دوش پر آئے
دل صد چاک الجھے اور الجھ کر شانہ ہو جائے
یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے
سحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا
بنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے
وہ مے دے دے جو پہلے شبلی و منصور کو دی تھی
تو بیدمؔ بھی نثار مرشد مے خانہ ہو جائے
Visit My EXCLUSIVE INTERVIEW Click Here
نعت
عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزوئے رسولؐ
کہاں کہاں لئے پھرتی ہے جستجوئے رسول
خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزوئے رسولؐ
خوشا وہ آنکھ جو ہو محو حسن روئے رسول
تلاش نقش کف پائے مصطفیٰ کی قسم
چنے ہیں آنکھوں سے ذرات خاک کوئے رسول
پھر ان کے نشۂ عرفاں کا پوچھنا کیا ہے
جو پی چکے ہیں ازل میں مئے سبوئے رسول
بلائیں لوں تری اے جذب شوق صل علیٰ
کہ آج دامن دل کھنچ رہا ہے سوئے رسولؐ
شگفتہ گلشن زہرا کا ہر گل تر ہے
کسی میں رنگ علی اور کسی میں بوئے رسولؐ
عجب تماشا ہو میدان حشر میں بیدمؔ
کہ سب ہوں پیش خدا اور میں رو بروئے رسول
VISIT MY POEM MAAN (MOTHER) CLICK HERE
نعت
آئی نسیم کوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کھنچنے لگا دل سوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
طوبیٰ کی جانب تکنے والو آنکھیں کھولو ہوش سنبھالو
دیکھو قدح دل جوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ہم سب کا رخ سوئے کعبہ سوئے محمد روئے کعبہ
کعبے کا کعبہ کوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
نام اسی کا باب کرم ہے دیکھو یہیں محراب حرم ہے
دیکھو خم ابروئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
بھینی بھینی خوشبو لہکی بیدمؔ دل کی دنیا مہکی
کھل گئے جب گیسوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
Visit My NAAT MERI HAYAT KA JOHAR Click here
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

Comments
Post a Comment