Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Muhammad Ali Zahoori Qasoori: Biography, Famous Naats and Naat Poetry

ممحمد علی ظہوری قصوری 🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙 یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔ نام محمد_علی اور تخلص ظہورؔی ہے۔ Visit My Blog On Great Naat Poet Bedam Warsi Click Here 12؍اگست 1932ء کو موضع آرائیاں علاقہ نواب صاحب لاہور، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ظہورؔی صاحب سترہ برس کی عمر میں میاں ظہور الدین نقشبندی رحمة ﷲ عليه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ انھوں نے اپنے مرشد کریم کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا اور محمد علی سے محمد علی ظہوری ہوگئے۔ ظہوری صاحب ایک عام اسکول ٹیچر تھے۔ انھوں نے نعت خوانوں کی تربیت کے لیے مجلس حسان کے نام سے ایک ادارہ 1966ء میں قائم کیا تھا۔ نعت گوئی اور نعت خوانی کی پاکیزہ روایت کو ایک مستند حیثیت سے فروغ دینے میں مجلس حسان کی...

Muhammad Ali Zahoori Qasoori: Biography, Famous Naats and Naat Poetry

ممحمد علی ظہوری قصوری

🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙

یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔

نام محمد_علی اور تخلص ظہورؔی ہے۔




Visit My Blog On Great Naat Poet Bedam Warsi Click Here

12؍اگست 1932ء کو موضع آرائیاں علاقہ نواب صاحب لاہور، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ظہورؔی صاحب سترہ برس کی عمر میں میاں ظہور الدین نقشبندی رحمة ﷲ عليه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ انھوں نے اپنے مرشد کریم کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا اور محمد علی سے محمد علی ظہوری ہوگئے۔ ظہوری صاحب ایک عام اسکول ٹیچر تھے۔ انھوں نے نعت خوانوں کی تربیت کے لیے مجلس حسان کے نام سے ایک ادارہ 1966ء میں قائم کیا تھا۔ نعت گوئی اور نعت خوانی کی پاکیزہ روایت کو ایک مستند حیثیت سے فروغ دینے میں مجلس حسان کی شبانہ روز کوششوں کا ثمر بھی شامل ہے۔ محمد علی ظہوری کی نعت اور نعت خوانی کے اثرات پورے ملک پر چھائے رہے۔ نصف صدی تک نعت خوانی کی خدمات انجام دیں۔

محمد علی ظہوری 11؍اگست 1999ء بروز بدھ صبح 10 بجے شریف میڈیکل سٹی ہاسٹل رائے ونڈ لاہور، پاکستان میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی تدفین اُنکی وصیت کے مطابق موضع آرائیاں رائے ونڈ روڈ لاہور میں مرکز توصیف کے سبزہ زار میں ہوئی۔ خوبی قسمت کا یہ عالم ہے کہ ان کو لحد میں اتارتے وقت ان کے ہونہار شاگر سرور حسین نقشبندی موقع محل کی مناسبت سے ان کی نعت مبارکہ یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو۔ پڑھ کی نبیﷺ کی نعت لحد میں اتار دو پڑھ رہے تھے۔ یہ نعت مبارکہ ان کے آخری مجموعہ کلام توصیف کی آخری نعت ہے۔

محمد علی ظہوری قصوری کی نعتیہ شاعری کے محاسن

محمد علی ظہوری قصوری کی نعتیہ شاعری کا سب سے نمایاں وصف عشقِ رسول ﷺ اور والہانہ عقیدت ہے۔ ان کے کلام میں حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت محض ایک شعری موضوع نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی جذبہ بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ نعت میں اپنے جذبات کا اظہار نہایت ادب، احترام اور عاجزی کے ساتھ کرتے ہیں، جس سے ان کے اشعار میں عقیدت کی ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

ان کی نعتیہ شاعری میں سوز و گداز اور قلبی کیفیت نمایاں ہے۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے جذبات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ دل کی کیفیت بھی قاری تک منتقل کرنا چاہتا ہے۔ محبتِ مصطفیٰ ﷺ، شوقِ زیارتِ مدینہ منورہ اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضری کی آرزو جیسے جذبات ان کے کلام کو ایک روحانی تاثیر عطا کرتے ہیں۔

ظہوری قصوری کے نعتیہ اسلوب کا ایک اہم حسن سادگی، روانی اور دل نشیں زبان ہے۔ وہ ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو بیک وقت شعری حسن بھی رکھتے ہیں اور عام قاری کے لیے قابلِ فہم بھی ہیں۔ ان کے ہاں لفظوں کی بناوٹ کے بجائے جذبے کی صداقت زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت براہِ راست دل پر اثر کرتی ہے۔

ان کی شاعری میں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت، شمائل اور عظمتِ رسالت سے وابستگی بھی نمایاں ہے۔ وہ مدحتِ رسول ﷺ کے ذریعے قاری کے دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں عقیدت کے ساتھ ساتھ ایک تربیتی پہلو بھی محسوس ہوتا ہے، کیونکہ نعت انسان کو اپنے محبوبِ حقیقی ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

محمد علی ظہوری قصوری کی نعتیہ شاعری کا ایک اور قابلِ ذکر وصف موسیقیت اور ترنم ہے۔ ان کے اشعار میں الفاظ کی نشست، بحر کی روانی اور قافیہ و ردیف کا حسن ایسا آہنگ پیدا کرتا ہے جو نعت کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سننے میں بھی مؤثر بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام نعت خوانی کی محفل میں بھی اپنی تاثیر قائم کرتا ہے۔

مختصراً، محمد علی ظہوری قصوری کی نعتیہ شاعری میں عشقِ رسول ﷺ، عقیدت، سوز و گداز، سادگی، روانی، شعری موسیقیت اور ادبِ رسالت جیسے اوصاف نمایاں ہیں۔ ان کا کلام محض مدحِ رسول ﷺ نہیں بلکہ محبت و عقیدت کی ایک ایسی قلبی ترجمانی ہے جو قاری کو بھی اس روحانی کیفیت میں شریک کر دیتی ہے۔ یہی خصوصیات ان کی نعتیہ شاعری کو اردو نعت کے خوب صورت سرمائے میں ایک قابلِ قدر مقام عطا کرتی ہیں۔

نعت

فلک کے نظارو زمیں کی بہارو، سب عیدیں مناؤ حضورﷺ آگئے ہیں
اٹھو غم کے مارو چلو بے سہارو خبر یہ سناؤ حضورﷺ آگئے ہیں

انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا وہ سارے رسولوں کا سلطان آیا
ارے کج کلاہو ارے بادشاہو نگاہیں جھکاؤ حضورﷺ آگئے ہیں

ہوا چار سو رحمتوں کا بسیرا اجالا اجالا سویرا سویرا
حلیمہ کو پہنچی خبر آمنہ کی میرے گھر میں آؤ حضورﷺ آگئے ہیں

ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے فضاؤں میں نغمات صل علیٰ کے
درودوں کے کجرے سلاموں کے تحفے غلامو سجاؤ حضورﷺ آگئے ہیں

کہاں میں ظہورؔی کہاں ان کی باتیں کرم ہی کرم ہے یہ دن اور راتیں
جہاں پر بھی جاؤ دلوں کو جگاؤ یہی کہتے جاؤ حضورﷺ آگئے ہیں

نعت

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو
پڑھ کر نبیﷺ کی نعت لحد میں اتار دو

دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمال یار
اے موت مجھ کو تھوڑی سی مہلت ادھار دو

سنتے ہیں جانکنی کا ہے لمحہ بہت کٹھن
لے کر نبیﷺ کا نام یہ لمحہ گزار دو

گر جیتنا ہے عشق میں لازم یہ شرط ہے
کھیلو اگر یہ بازی تو ہر چیز ہار دو

یہ جان بھی ظہورؔی نبیﷺ کے طفیل ہے
اس جان کو حضورﷺ کا صدقہ اتاردو

نعت

جب مسجد نبویﷺ کے مینار نظر آئے
اللّٰه کی رحت کے آثار نظر آئے

منظر ہو بیاں کیسے، الفاظ نہیں ملتے
جس وقت محمدﷺ کا دربار نظر آئے

بس یاد رہا اتنا سینے سے لگی جالی
پھر یاد نہیں کیا کیا انوار نظر آئے

دکھ درد کے ماروں کو غم یاد نہیں رہتے
جب سامنے آنکھوں کے غم خوار نظر آئے

مکے کی فضاوں میں، طیبہ کی ہواوں میں
ہم نے تو جدھر دیکھا سرکارﷺ نظر آئے

چھوڑ آیا ظہورؔی میں دل و جان مدینے میں
اب جینا یہاں مجھ کو دشوار نظر آئے



Visit My NAAT MERI HAYAT KA JOHAR Click here
ماہ ربیع الاول میں محمد علی ظہوری کی نعت کے لئیے کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے یہ بلاگ افضل شکیل ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام کے لیئے لکھا گیا ہے جس کے جملہ حقوق بحق مصنف افضل شکیل سندھو محفوظ ہیں

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. ظہوری صاحب کی نعتیں بچپن سے سنتے آئے ہیں اللہ ان کی مغفرت کرے بہت مشہور نعت خواں تھے آج تک ان کی نعتیں اسی ذوق و شوق سے سنی اور پڑھی جاتی ہیں

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp