Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Sehba Akhtar: A Renowned Pakistani Urdu Poet and Writer

صہبا اختر — شاعرِ مشاعروں کی جان ✦ خاص طور پر afzalshakee.blogspot.com کے لیے ✦ صہبا اختر اصل نام: اختر علی رحمت ✦ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۱ جموں ✦ ۱۹ فروری ۱۹۹۶ کراچی ✦ ❀ شاعرِ مشاعروں کی جان ❀ Read My Beutiful ghazal for wife click here ✦ تعارف و حالاتِ زندگی صہبا اختر (اصل نام اختر علی رحمت ) ایک ممتاز پاکستانی شاعر، نغمہ نگار اور بلند آواز مشاعروں کے ہر دلعزیز فنکار تھے۔ وہ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۱ء کو جموں میں پیدا ہوئے اور ۱۹ فروری ۱۹۹۶ء کو کراچی میں وفات پائی۔ انہوں نے حمد، نعت، غزل، نظم، گیت اور ملی نغموں سمیت تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ نام اختر علی رحمت اور صہبا تخلص تھا۔۳۰؍ستمبر۱۹۳۱ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔ تعلیم و...

Sehba Akhtar: A Renowned Pakistani Urdu Poet and Writer

صہبا اختر — شاعرِ مشاعروں کی جان
✦ خاص طور پر afzalshakee.blogspot.com کے لیے ✦

صہبا اختر اصل نام: اختر علی رحمت

✦ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۱ جموں ✦ ۱۹ فروری ۱۹۹۶ کراچی ✦
شاعرِ مشاعروں کی جان

Read My Beutiful ghazal for wife click here

✦ تعارف و حالاتِ زندگی

صہبا اختر (اصل نام اختر علی رحمت) ایک ممتاز پاکستانی شاعر،

نغمہ نگار اور بلند آواز مشاعروں کے ہر دلعزیز فنکار تھے۔ وہ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۱ء کو جموں میں پیدا ہوئے اور ۱۹ فروری ۱۹۹۶ء کو کراچی میں وفات پائی۔ انہوں نے حمد، نعت، غزل، نظم، گیت اور ملی نغموں سمیت تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ نام اختر علی رحمت اور صہبا تخلص تھا۔۳۰؍ستمبر۱۹۳۱ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔ تعلیم وتربیت والدہ کی سرپرستی میں بریلی اور علی گڑھ میں ہوئی۔تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے ۔ نامساعد حالا ت کی وجہ سے وہ مزید تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے انھوں نے کئی جگہ ملازمت کی۔ بعدازاں محکمۂ خوراک میں انسپکٹر ملازم ہوگئے اور ترقی کرکے راشننگ کنٹرولر کے عہدے تک پہنچے۔ صہبااختر کو شعر وسخن کا ذوق اوائل عمر سے تھا۔ان کا کلام ملک کے مقتدر ادبی رسالوں میں چھپتا تھا۔ریڈیو سے وابستہ ہونے کے بعدگیت لکھے اور ان گیتوں کی بدولت فلم لائن میں پہنچے۔ سات سال تک روزنامہ’حریت‘ سے وابستہ رہے۔ روزنامہ ’مشرق‘ میں قطعات بھی لکھتے رہے۔صہبا اختر نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزلوں کی نسبت نظمیں زیادہ کہی ہیں۔ انھوں نے ملی نغمے اور دوہے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔۱۹؍فروری۱۹۹۶ء کو کراچی میں اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔ا ن کی تصانیف کے نام یہ >/ہیں:’سرکشیدہ‘(شعری مجموعہ)، ’اقراء‘، ’سمندر‘،’ مشعل‘۔ اعزاز: صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:258


Visit My Punjabi Ghazal Is Rah Di Musafat Click here
🏛️ خاندان والد منشی رحمت علی — معروف ڈرامہ نویس و شاعر
🕌 ہجرت تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے، کراچی مستقل مسکن
🎤 مشاعروں کی جان منفرد، گرجدار اور پرجوش ترنم — بے حد مقبول
🇵🇰 ملی نغمے پاکستانیت کے جذبے سے سرشار، آج بھی زبان زدِ عام
فنی خصوصیات: غزل، نظم، گیت، قطعہ، دوہا اور ملی نغمہ نگاری — ہر صنف میں بلند مقام۔ ان کے کلام میں جوش ملیح آبادی اور نظیر اکبر آبادی کا عوامی رنگ نمایاں ہے۔ فلمی نغمات بھی لازوال تخلیق کیے۔
• • •

Read My Blog On Jiger Muradabadi Click here
غزل
مجھے ملا وہ بہاروں کی سر خوشی کے ساتھ گل و سمن سے زیادہ شگفتگی کے ساتھ
وہ رات چشمۂ ظلمات پر گزاری تھی وہ جب طلوع ہوا مجھ پہ روشنی کے ساتھ
اگر شعور نہ ہو تو بہشت ہے دنیا بڑے عذاب میں گزری ہے آگہی کے ساتھ
یہ اتفاق ہیں سب راہ کی مسافت کے چلے کسی کے لیے جا ملے کسی کے ساتھ

Visit My Ghazal Bazm E Hasti Mn Click here
غزل
ہم اپنے بخت سیہ کے اثر میں رہتے ہیں وہ رات ہے کہ ستارے نظر میں رہتے ہیں
تماشہ گاہ طلوع و غروب سے ہٹ کر ہم اک سواد‌ شب بے سحر میں رہتے ہیں
نہ تھی خدا کی زمیں تنگ جن کے قدموں پر فغاں کہ قید وہ دیوار و در میں رہتے ہیں
وہ آگہی کے سمندر کہاں ہیں جن کے لئے تمام عمر یہ پیاسے سفر میں رہتے ہیں
ہوائے کوچۂ محبوب سے کہے تو کون کہ ہم بھی آرزوئے نامہ بر میں رہتے ہیں
وہ شہر یار سخن نام جن کا صہباؔ ہے فقیر بن کے تری رہ گزر میں رہتے ہیں

Visit My Poem AANKHEN Click here
پاگل عورت

ایک جوان سی اور دیوانی عورت کو

میں نے سڑک پر اکثر گھومتے دیکھا ہے

گاہ کسی سائے کی طرف مصروف خرام

اور کبھی وحشت میں جھومتے دیکھا ہے


اس کی سرخ آنکھوں میں پاگل پن کے سوا

اور بھی کچھ ہے جس کا کوئی نام نہیں

اک ایسی بیداری اس پر طاری ہے

جس کے مقدر میں اب کوئی شام نہیں


اس کے پتھر جیسے چپ چپ چہرے پر

اک سنگین اداسی ناچتی رہتی ہے

اس کی سوئی سوئی گہری پلکوں میں

راتوں کی تاریکی جاگتی رہتی ہے


اس کے ماتھے پر بکھری زلفوں کا دھواں

جیسے ختم نہ ہونے والا چاند گہن

کیا جانے کس آنکھ سے ٹوٹا تارا ہے

کیا جانے کس سورج کی آوارہ کرن


کیا جانے کس کی بیٹی ہے کس کی بہن

کیا جانے کس باپ کا دل کس ماں کا نور

ایک بگولہ اپنے ویرانے سے جدا

ایک بھٹکتی روح اپنے مرقد سے دور


وہ فٹ پاتھ پہ اور کبھی شہراہوں پر

کیا جانے کس دھن میں تنہا پھرتی ہے

شب کو آخر بار مسافت سے تھک کر

کیا جانے کس گوشے میں جا گرتی ہے


کوئی شریعت جس سے نہیں لے سکتی حساب

جس کا دل نیکی سے خالی ہے

جانے کس سگ زادہ خباثت کے ہاتھوں

اب وہ بچے کی ماں بننے والی ہے

✦ صہبا اختر ✦

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp