Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Abdul Hameed Adam – Life, Poetry, and Literary Legacy

Abdul Hameed Adam – Life, Poetry, and Literary Legacy عبد الحمید عدم – حیات، شاعری اور ادبی خدمات عبد الحمید عدم اردو ادب کے ایک منفرد اور باکمال شاعر تھے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا۔ ان کا شمار اُن شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کو ایک نئی فکری جہت عطا کی۔ ابتدائی زندگی عبد الحمید عدم 1910 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبد الحمید تھا جبکہ "عدم" ان کا تخلص تھا۔ انہوں نے باقاعدہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی، مگر اپنی ذاتی مطالعہ اور مشاہدے کی بنیاد پر علم و ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ادبی سفر عدم کی شاعری کا آغاز نوجوانی میں ہوا، اور جلد ہی وہ اپنی منفرد آواز کے باعث پہچانے جانے لگے۔ ان کی شاعری میں سادگی، بے ساختگی، اور گہری فکر نمایاں ہے۔ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر ایک عام انسان کے جذبات اور مسائل کو بیان کرتے تھے۔ شاعری کا انداز عبد الحمید عدم کی غزلوں میں زندگی کی حقیقتیں، محبت، محرومی، اور طنز و مزاح کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک خاص قسم کی بے باکی...

شک shak poem

Shak شک


Watch this poem on youtube

نظم شک

میرے خدا
تیری قدرتوں پر
مجھے کامل یقین ہے
تجھ سی قدرت رکھنے والا
اور کوئی نہیں ہے
ہر عیب و غلطی سے مبرا
میں تیری ذات ہی سمجھتا ہوں
میں نہیں مانتا
تجھ سے کوئی غلطی سر زد ہو سکتی ہے
مگر
اے میرے خدا
مجھے اب یہ شک کیونکر ہوا
تو لاکھوں بھٹکتے سسکتے انسانوں کی
ادھوری قسمتوں میں
بنیادی انسانی حقوق
لکھنا بھول گیا ہے
تو سب کا رازق مالک خالق
پھر بھی لوگ
نان جویں کے ایک ٹکڑے کے لئے
غیرتی عزتیں عصمتیں
پس پشت ڈالنے کو تیار
تو زمانے کے جعلی خداؤں کا خدا
مگر پھر بھی لوگ
ان معاشی خداؤں کے آگے
روزی اور روزگار کے واسطے
سفارشیں پرچیاں رشوتیں
پیش کرنے پہ مجبور ہیں
ان کے دل ان کے لب
اس طلب کے سبب
کتنے مہجور ہیں
کیا تو نہیں جانتا
کتنے سرکش جوان
معاشی فکر میں غلطاں
خودکشی کے سمندر میں
محسور ہیں
خدایا
ہر اک ذی روح جسم
تیری منشا سے پیدا ہوا
ہر حرف و فن فہم و تن
تیری رضا سے ہویدا ہوا
تو پھر ان کی قسمتوں میں
زندگی کی عنایات لکھ دے
ان تنومند بیکار جسموں کو
زندگی کی تمنا سے بھر دے

میرا شک دور کر دے

Section 1

میرے خدا
تیری قدرتوں پر
مجھے کامل یقین ہے
تجھ سی قدرت رکھنے والا
اور کوئی نہیں ہے
ہر عیب و غلطی سے مبرا
میں تیری ذات ہی سمجھتا ہوں
میں نہیں مانتا
تجھ سے کوئی غلطی سر زد ہو سکتی ہے
The speaker starts by affirming their unwavering faith in God's omnipotence. They acknowledge that there is no other
being as powerful and free from faults and errors as God. The speaker is convinced that God, being perfect, cannot
make mistakes.

Section 2

مگر
اے میرے خدا
مجھے اب یہ شک کیونکر ہوا
تو لاکھوں بھٹکتے سسکتے انسانوں کی
ادھوری قسمتوں میں
بنیادی انسانی حقوق
لکھنا بھول گیا ہے
تو سب کا رازق مالک خالق
پھر بھی لوگ
نان جویں کے ایک ٹکڑے کے لئے
غیرتی عزتیں عصمتیں
پس پشت ڈالنے کو تیار
Urdu Poetry & Ghazals Blog

However, the speaker begins to express doubt, questioning why there seems to be a lack of basic human rights in the
incomplete destinies of countless suffering people. They find it perplexing that, despite God being the provider and
creator, many people are willing to compromise their honor and dignity just for a piece of bread.

Section 3

تو زمانے کے جعلی خداؤں کا خدا
مگر پھر بھی لوگ
ان معاشی خداؤں کے آگے
روزی اور روزگار کے واسطے
سفارشیں پرچیاں رشوتیں
پیش کرنے پہ مجبور ہیں
ان کے دل ان کے لب
اس طلب کے سبب
تنے مہجور ہیں
The speaker addresses God as the supreme deity above all false gods of the world. Yet, they observe that people are
compelled to bow down to these economic deities, offering bribes and recommendations in desperate attempts to secure
their livelihood. This submission has left their hearts and lips parched with longing.

Section 4

کیا تو نہیں جانتا
کتنے سرکش جوان
معاشی فکر میں غلطیاں
خودکشی کے سمندر میں
محسور ہیں
خدایا
ہر اک ذی روح جسم
تیری منشا سے پیدا ہوا
ہر حرف و فن فہم و تن
تیری رضا سے ہویدا ہوا
تو پھر ان کی قسمتوں میں
زندگی کی عنایات لکھ دے
ان تنومند بیکار جسموں کو
زندگی کی تمنا سے بھر دے

میرا شک دور کر دے


The speaker questions if God is unaware of the rebellious youth who, burdened by economic worries, end up making grave
mistakes and sometimes even resort to suicide. They remind God that every living being and every aspect of knowledge
and art is a manifestation of His will. Thus, the speaker pleads with God to bless these strong but idle bodies with
the gifts of life and fill them with the desire to live, asking God to dispel their doubts.

Summary of the Poem

In "نظم شک," Afzal Shakeel Sandhu navigates the paradox of faith and doubt. The poem starts with a declaration of faith in God's perfection and omnipotence but then transitions into a series of poignant questions about the suffering and injustices witnessed in the world. The speaker grapples with the apparent absence of basic human rights and the economic struggles that lead people to compromise their dignity. They reflect on the desperation that drives people to seek help from false economic gods, highlighting the disparity between divine providence and worldly hardships. Ultimately, the speaker pleads with God to bestow life’s blessings upon the afflicted, seeking to resolve their inner conflict and reaffirm their faith.


🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. No doubt 🤷‍♂️ shak poem have wonderful lesson for us.

    ReplyDelete
  2. کمال کر دیا کس مہارت سے نظم میں عام لوگوں کو خالق کے ساتھ جوڑا گیا ہے اس کے لئیے یقیناً فنی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کے بلاگ اور شاعری میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے

    ReplyDelete
  3. اتنی پیاری اور خوبصورت نظم ہے اور نہائت اعلیٰ سبق بھی ہے خدا سے آپ نے ہم جیسے گناہگار بندوں کے لئیے سہولیات مانگی ہیں خدا آپ کے اس شک کو جلد از جلد دور کرے تاکہ پسی ہوئی انسانیت کا بھلا ہو سکے

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا زکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی ترح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کحل جاتے ہینہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمھے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نع رھمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ صر...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp