Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Qamar Jalalvi Biography | Urdu Ghazal Poet (1887–1968)

ققمر جلالوی (1887–1968) قمر جلالوی (اردو: قمَر جلالوی)، جن کا اصل نام محمد حسین تھا، اردو کے معروف شاعر، ادیب اور غزل گو تھے۔ انہیں استاد قمر جلالوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ابتدائی زندگی قمر جلالوی 1887 میں بھارت کے شہر علی گڑھ کے قریب جلالی میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1947 میں وہ پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہو گئے۔ ان کا انتقال 4 اکتوبر 1968 کو کراچی میں ہوا۔ ادبی زندگی قمر جلالوی کو کلاسیکی اردو غزل کے بہترین شعراء میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں سادگی، روانی اور جذبات کی گہرائی نمایاں ہے۔ انہوں نے محض آٹھ سال کی عمر میں شاعری شروع کر دی تھی، اور بیس سال کی عمر تک ان کا کلام خاصا مقبول ہو چکا تھا۔ زندگی کے ابتدائی ایام میں انہوں نے مالی مشکلات کا سامنا کیا اور سائیکل مرمت کی دکانوں پر کام کیا۔ اسی وجہ سے انہیں ابتدا میں "استاد" کہا جانے لگا، کیونکہ برصغیر میں ہنر مند افراد کو استاد کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں جب ان کی شاعری کو شہرت ملی تو ناقدین نے بھی انہیں استاد قمر جلالوی کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ وفات استاد قمر جلالوی کا ...

Qamar Jalalvi Biography | Urdu Ghazal Poet (1887–1968)

ققمر جلالوی (1887–1968)

قمر جلالوی (اردو: قمَر جلالوی)، جن کا اصل نام محمد حسین تھا، اردو کے معروف شاعر، ادیب اور غزل گو تھے۔ انہیں استاد قمر جلالوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی

قمر جلالوی 1887 میں بھارت کے شہر علی گڑھ کے قریب جلالی میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1947 میں وہ پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہو گئے۔ ان کا انتقال 4 اکتوبر 1968 کو کراچی میں ہوا۔

ادبی زندگی

قمر جلالوی کو کلاسیکی اردو غزل کے بہترین شعراء میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں سادگی، روانی اور جذبات کی گہرائی نمایاں ہے۔

انہوں نے محض آٹھ سال کی عمر میں شاعری شروع کر دی تھی، اور بیس سال کی عمر تک ان کا کلام خاصا مقبول ہو چکا تھا۔

زندگی کے ابتدائی ایام میں انہوں نے مالی مشکلات کا سامنا کیا اور سائیکل مرمت کی دکانوں پر کام کیا۔ اسی وجہ سے انہیں ابتدا میں "استاد" کہا جانے لگا، کیونکہ برصغیر میں ہنر مند افراد کو استاد کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں جب ان کی شاعری کو شہرت ملی تو ناقدین نے بھی انہیں استاد قمر جلالوی کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔

وفات

استاد قمر جلالوی کا انتقال 4 اکتوبر 1968 کو کراچی، پاکستان میں ہوا۔ وہ اردو ادب میں اپنی لازوال غزلوں کے باعث آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔

کتب

ان کے شعری مجموعوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:

  • رشکِ قمر (Rashk-e Qamar)
  • اوجِ قمر (Auj-e Qamar)
  • تجلّیاتِ قمر (Tajalliyat-e Qamar)
  • غمِ جاوداں (Gham-e-Javedan)
  • آئے ہیں وہ مزار پہ (Aaye Hain Woh Mazaar Pe)
  • دبا کے قبر میں سب چل دیے (Daba Ke Qabr Mein Sab Chal Diye)

غزل

قمر جلالوی

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو

دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو

مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے
حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو

سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو

دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو

اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو

'قمر' ذرا بھی نہیں تم کو خوفِ رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو




غزل

قمر جلالوی

مریضِ محبت انہی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم کا جب آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے

انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے
تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے

مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
ادھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے
'قمر' اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے




غزل

قمر جلالوی

کب مرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شبِ فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینیٔ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں

تاروں کی بہاروں میں بھی 'قمر' تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں




غزل

قمر جلالوی

سجدے تیرے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو
تو اے بتِ کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو

غنچے کے چٹکنے پہ نہ گلشن میں خفا ہو
ممکن ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو

کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو
تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو

انساں کسی فطرت پہ تو قائم ہو کم از کم
اچھا ہو تو اچھا ہو برا ہو تو برا ہو

اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی
جو حشر کہ ظالم ترے کوچے سے اٹھا ہو

اترا کے یہ رفتارِ جوانی نہیں اچھی
چال ایسی چلا کرتے ہیں جیسی کہ ہوا ہو

مے خانے میں جب ہم سے فقیروں کو نہ پوچھا
یہ کہتے ہوئے چل دیے ساقی کا بھلا ہو

اللہ رے او دشمنِ اظہارِ محبت
وہ درد دیا ہے جو کسی سے نہ دوا ہو

تنہا وہ مری قبر پہ ہیں چاک گریباں
جیسے کسی صحرا میں کوئی پھول کھلا ہو

منصور سے کہتی ہے یہی دارِ محبت
اس کی یہ سزا ہے جو گناہ گارِ وفا ہو

جب لطف ہو اللہ ستم والوں سے پوچھے
تو یاس کی نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہو

فرماتے ہیں وہ سن کے شبِ غم کی شکایت
کس نے یہ کہا تھا کہ 'قمر' تم ہمیں چاہو

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. Wah kia baat hey jnaab jo aap ne un ki ghazl pehley number pr lgai hey meri favorite hey

    ReplyDelete
  2. قمر جلالوی ایک باکمال شاعر تھے پاکستان آنے کے بعد کافی سٹرگل کرنی پڑی پھر پہچان بن گئی اور دور و نزدیک ان کے کلام کو اہمیت دی جانے لگی

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ ص...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp