سید حسین عباس رضوی حسنؔ
نام سید حسین عباس رضوی اور تخلص حسنؔ ہے۔
✦ پیدائش اور تعلیم
18؍اگست 1946ء کو انبالہ، ہریانہ، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اورینٹل کالج، لاہور سے ایم اے (اردو) اور پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔
✦ ادبی اور عملی زندگی
حسن رضوی کو پی ٹی وی پر اور بعد میں کئی چینلز پر بہت بار سنا وہ باقاعدہ ایک کمپیر بھی تھے اور ان کو کئی پروگرامز کی میزبانی کرتے بھی دیکھا وہ اپنے دور کے مقبول آدمی تھے ایف سی کالج لاہور میں شعبہ اردو کے سربراہ، میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی کے چیئرمین اور روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے ادبی ایڈیشن کے انچارج تھے۔
حسنؔ رضوی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے شاعر تھے۔ ریڈیو اور ٹی وی سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔ ان کی عمدہ کمپیئرنگ اور کمنٹری ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی
1991ء میں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات پر صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔
حسنؔ رضوی 15؍فروری 2002ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کرگئے۔
✦ حسنؔ رضوی کی تصانیف
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
- کبھی کتابوں میں پھول رکھنا
- کوئی آنے والا ہے
- اس کی آنکھیں شام
- خواب سہانے یاد آتے ہیں
- دیکھا ہندوستان
- ہرے سمندروں کا سفر
- چینیوں کے چین میں
- اقبال کے فکری آئینے
- گفت و شنید
- خیالات
✦ منتخب کلامِ حسنؔ رضوی ✦
کھلی فضاؤں کا عہد نامہ
لہو کی بارش
زمین کے سینے پہ مدتوں سے برس رہی تھی
لہو میں ڈوبے ہوئے کبوتر فضا میں عرصے سے اڑ رہے تھے
فضا میں جلتے لہو کی خوشبو بکھر چکی تھی
ہر ایک گوشہ
ہر ایک قریہ
اندھیری شب کے مہیب سائے میں گھر چکا تھا
ہر ایک انسان مر چکا تھا
لہو کی بارش تھمی تو دیکھا کہ ایک انسان
زمیں کے لوگوں سے کہہ رہا ہے
کہ خواب غفلت سے جاگ جاؤ
محبتوں کے دیے جلا کر ہر ایک گوشے کو جگمگاؤ
اٹھو کہ تم ہی اندھیری شب کے مہیب سایوں کی چاندنی ہو
اٹھو کہ تم ہی صداقتوں کے محبتوں کے پیامبر ہو
تم ایک ہو کر اٹھو کہ تم کو تمہارا دشمن بھی جان جائے
تم ہی ہو سورج تم ہی ستارے
تم ہی سمندر تم ہی کنارے
سب ایک ہو کر اٹھے تو دیکھا
گلاب خوشبو فضا میں ہر سو مہک رہی تھی
ہر اک کبوتر فلک پہ سورج سا لگ رہا تھا
ہر ایک گوشے میں روشنی کے حسین جگنو چمک رہے تھے
یہ دن بھی کیسا عجیب دن تھا
محبتوں کا
صداقتوں کا
کہ اس دن ہم سے ہمارے قائد نے یہ کہا تھا
ہم ایک ہو کر یہ عہد کر لیں
کھلی فضاؤں میں سانس لیں گے
وطن کی خاطر ہی جان دیں گے
خمار بارا بنکوی پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
غزل
سانجھ سویرے پھرتے ہیں ہم جانے کس ویرانے میں
ساون جیسی دھوپ لکھی ہے قسمت کے ہر خانے میں
اس نے پیار کے سارے بندھن اک لمحے میں توڑ دئے
جس کی خاطر رسوا ہیں ہم اس بے درد زمانے میں
شب کی سیاہی اور بڑھے گی اور ستارے ٹوٹیں گے
کچھ تو وقت لگے گا آخر نیا سویرا آنے میں
کتنے پیپل سوکھ گئے ہیں کتنے دریا خشک ہوئے
کتنے موسم بیت گئے ہیں بادل کو بہلانے میں
سیدھے سادے پنچھی کی مانند وہ شاید لوٹ آئے
آس لگائے بیٹھے ہیں ہم اپنے حیرت خانے میں
پڑھنا لکھنا چھوٹ گیا ہے ساجن جب سے روٹھ گیا
کڑوی کڑوی سے لگتی ہے اب تو ہر شے کھانے میں
شہزاد احمد پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
غزل
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا
ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا
وہ چاند چہرے وہ بہکی باتیں سلگتے دن تھے مہکتی راتیں
وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر محبتوں کے پیام لکھنا
گلاب چہروں سے دل لگانا وہ چپکے چپکے نظر ملانا
وہ آرزوؤں کے خواب بننا وہ قصۂ ناتمام لکھنا
مرے نگر کی حسیں فضاؤ کہیں جو ان کا نشان پاؤ
تو پوچھنا یہ کہاں بسے وہ کہاں ہے ان کا قیام لکھنا
کھلی فضاؤں میں سانس لینا عبث ہے اب تو گھٹن ہے ایسی
کہ چاروں جانب شجر کھڑے ہیں صلیب صورت تمام لکھنا
گئی رتوں میں حسنؔ ہمارا بس ایک ہی تو یہ مشغلہ تھا
کسی کے چہرے کو صبح کہنا کسی کی زلفوں کو شام لکھنا
امام احمد رضا خاں بریلوی پر بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
غزل
نہ وہ اقرار کرتا ہے نہ وہ انکار کرتا ہے
ہمیں پھر بھی گماں ہے وہ ہمیں سے پیار کرتا ہے
میں اس کے کس ستم کی سرخیاں اخبار میں دیکھوں
وہ ظالم ہے مگر ہر ظلم سے انکار کرتا ہے
منڈیروں سے کوئی مانوس سی آواز آتی ہے
کوئی تو یاد ہم کو بھی پس دیوار کرتا ہے
یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ہیں
بھلا کچے گھڑے پر کون دریا پار کرتا ہے
ہمیں یہ دکھ کہ وہ اکثر کئی موسم نہیں ملتا
مگر ملنے کا وعدہ ہم سے وہ ہر بار کرتا ہے
حسنؔ راتوں کو جب سب لوگ میٹھی نیند سوتے ہیں
تو اک خواب آشنا چہرہ ہمیں بیدار کرتا ہے
میری نظم مزدور پلی پڑھنے کے لئے یہا کلک کریں

حسن رضوی پی ٹی وی کے بہت سے پروگراموں میں آئے بہت سے پروگراموں کی نقابت بھی کی اس حوالے سے انہیں اس دور کا ہر شخص جانتا اور پہچانتا ہے ان کی شاعری بھی بڑی اعلیٰ تھی ایک کلام تو میڈم نور جہاں نے کبھی کتابوں میں پھول رکھنا گایا جو بہت مقبول ہوا آپ نے ان پر بلاگ لکھ کر پورا ایک عہد یاد کروا دیا ہے
ReplyDelete