BaBa Fareed , Great spirtual personality and First Punjabi Poet,حضرت Baba Farid — پہلی عظیم پنجابی شاعر اور روحانی پیشوا
حضرت بابا فرید — پہلی عظیم پنجابی شاعر اور روحانی پیشوا
نام و نسب
:حضرت بابا فریدؒ کا اصل نام فرید الدین مسعود گنج شکر تھا۔ آپ 1173ء میں موجودہ پاکستان کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے آپ عبادت اور تقویٰ کی طرف مائل تھے۔ آپ کی والدہ نے آپ کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور دین سے محبت آپ کے دل میں پیدا کی۔ بعد میں آپ سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ قطب الدین بختیار کاکی کے مرید بنے۔ سخت ریاضت، روزہ، عبادت اور خدمتِ خلق کے ذریعے آپ نے روحانی بلندی حاصل کی۔ آپ کو “گنج شکر” کا لقب ملا، جس کا مطلب ہے “مٹھاس کا خزانہ” — یہ آپ کے اخلاق اور تعلیمات کی شیرینی کی علامت ہے۔والدہ کا نام قرسم خاتون ؒ اور والد محترم قاضی جلال الدین ہیں۔ بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے۔ آپ بغیر کسی شک و شبہ کے پنجابی ادب کے پہلے اور پنجابی شاعری کی بُنیاد مانے جاتے ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کے مُشہور بزرگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اسلام کی شمع جلائی اور صرف ایک اللہ کی دُنیا کی پہچان کروائی۔ بابا فرید584/ 1173 میں ملتان کے ایک قصبے کھوتووال میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء کابل کے فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ کہتے ہیں کہ بابا فرید کےد شیخ شعیب سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے جو شہاب الدین غوری کے زمانے میں ملتان کے قصبہ کھوتووال میں آ کر آباد ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق ان کے دادا ہجرت کر کے لاہور آئے اور اس کے بعد کچھ وقت قصور میں گزار کر کھوتوال چلے گئے۔
شجرۂ نسب
حضرت عمر فاروقؓ │ شیخ عبدالرحمن │ شیخ عبداللہ │ شیخ عبدالقاہر │ شیخ شعیب │ شیخ وجیہ الدین │ شیخ جمال الدین سلیمان │ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ
نوٹ:
تاریخی روایات میں بعض ناموں میں معمولی اختلاف ملتا ہے، مگر عمومی طور پر آپ کو فاروقی النسب تسلیم کیا جاتا ہے۔
تعلیم و تربیت
آپ نے ابتدائی تعلیم ملتان میں حاصل کی، جو اس وقت مسلم تعلیم کا مرکز تھا۔ بعد میں آپ دہلی چلے گئے جہاں آپ نے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے زیر اثر اسلامی تعلیمات اور تصوف سیکھا
روحانی سفر
اپنے مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی وفات (1235ء) کے بعد، بابا فرید نے ہانسی (بھارت) سے اجودھن (موجودہ پاکپتن، پاکستان) ہجرت کی اور وہاں اپنے روحانی مشن کو جاری رکھا
چشتی سلسلہ
آپ چشتی صوفی سلسلے کے عظیم ترین بزرگوں میں سے ایک ہیں اور جنوبی ایشیا میں صوفی مت کو پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کیا
حضرت ابو اسحاق شامیؒ │ خواجہ شریف زندنیؒ │ خواجہ عثمان ہارونیؒ │ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ │ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ │ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ │ حضرت نظام الدین اولیاءؒ
بابا فریدؒ — پنجابی شاعری کے بانی
حضرت بابا فریدؒ کو پنجابی ادب کا پہلا بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے پنجابی زیادہ تر بولی جانے والی زبان تھی، مگر بابا فریدؒ نے اسے ادبی اور روحانی وقار عطا کیا۔
آپ کی شاعری سادہ، پُراثر اور گہری حکمت سے بھرپور ہے۔ آپ کے اشعار میں زندگی کی ناپائیداری، موت کی حقیقت، عاجزی، صبر اور اللہ کی محبت کا درس ملتا ہے۔
آپ کے بعض اشعار سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب میں بھی شامل ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی تعلیمات مذہبی حدود سے بالاتر تھیں۔
آپ کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر مانا جاتا ہے۔ آپ کی شاعری محبتِ الٰہی، سادگی اور انسانیت کے درس پر مبنی ہے۔
مرشد کی وفات پر ان کو چشتیہ سنگت کا سربراہ بنایا گیا۔ وہ معین الدین چشتی اور قطب الدین بختیار کاکی کے بعد اس کے تیسرے سربراہ تھے۔ اور حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرشد تھے۔ عظیم صوفی بزرگ تھے جنھوں نے جاگیر ہونے کے باوجود اجودھن (پاکپتن) جو اس وقت کفرستان تھا، قبرستان میں اگنے والی جھاڑی (کری) سے ڈیلے حاصل کر کے پانی میں ابال کر کھاتے لیکن کبھی کسی سے مستعار شے لے کر نہ کھائی۔ انھوں نے دیگر علما کرام، صوفیا کرام، مشائخ اور درویشوں کی طرح محبت، بھائی چارے، امن و امان اور باہمی میل جول کا درس دیا جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے اسلام قبول کیا
Watch My Ghazal Merey liye Dua Kro
تعلیمات اور پیغام
بابا فرید نے زہد و تقویٰ، عاجزی، انسانیت سے محبت اور خدا کی وحدانیت پر زور دیا۔ آپ کی مشہور تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ "اگر تمہیں اپنی عزت عزیز ہے تو کسی سے کچھ نہ مانگو
"1️⃣ عاجزی
بابا فریدؒ کے نزدیک تکبر انسان کو روحانی طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ انکساری اختیار کرنی چاہیے۔
2️⃣ صبر
آپ فرماتے تھے کہ مشکلات اللہ کی آزمائش ہیں۔ جو صبر کرتا ہے، وہی کامیاب ہوتا ہے۔
3️⃣ محبت اور خدمت
آپ کا پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھا۔ آپ کی خانقاہ میں ہر مذہب اور طبقے کے لوگ آتے تھے۔
مزار اور اثرات
آپ نے 5 محرم الحرام 1265ء سن عیسوی بمطابق 666ھ 92 سال کی عمر میں وفات پائی اور پاکپتن میں دفن ہوئے جہاں 'بہشتی دروازہ' کے نام سے مشہور دربار ہر سال زائرین کی توجہ کا مرکز بنتا ہے
آج بھی ہزاروں عقیدت مند وہاں حاضری دیتے ہیں۔
آپ کی شاعری نے بعد میں آنے والے عظیم پنجابی شعرا کو متاثر کیا، جن میں شامل ہیں:
شاہ حسین
بلھے شاہ
وارث شاہ
حضرت سلطان باھو
میاں محمد بخش
ان سب نے اسی صوفیانہ روایت کو آگے بڑھایا جو بابا فریدؒ نے شروع کی تھی۔
watch My Poem SHAK
آج کے دور میں اہمیت
آج کے مادہ پرستانہ اور پریشان کن دور میں بابا فریدؒ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی عارضی ہے، دل کو پاک رکھو، دوسروں سے محبت کرو، اور خدا کو یاد رکھو۔ اصل کامیابی دولت یا شہرت نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی ہے۔
اختتامیہ
حضرت بابا فریدؒ صرف ایک شاعر یا بزرگ نہیں تھے بلکہ پنجابی زبان اور روحانیت کے معمار تھے۔ انہوں نے سادہ الفاظ میں ایسی حکمت بیان کی جو صدیوں بعد بھی زندہ ہے۔
خلفاء
حضرت بابا فریدؒ سلسلۂ چشتیہ کے عظیم پیشوا تھے۔ آپ کے کئی مرید اور خلفاء ہوئے، مگر چند نام تاریخ میں خاص طور پر نمایاں ہیں
1️⃣ حضرت نظام الدین دہلویؒ
آپ سب سے مشہور خلیفہ ہیں۔ دہلی میں آپ نے سلسلۂ چشتیہ کو عروج عطا کیا۔ محبت، رواداری اور خدمتِ خلق آپ کی تعلیمات کا مرکز تھیں۔ آج بھی آپ کی درگاہ دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
2️⃣ حضرت علاء الدین صابر کلیریؒ
مشہور بزرگِ صابر پاک
آپ نہایت مجاہدہ کرنے والے بزرگ تھے۔ کلیار شریف (ہندوستان) میں آپ کا مزار ہے اور آپ کو سلسلۂ چشتیہ صابریہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔
3️⃣ حضرت جمال الدین ہانسویؒ
آپ علم و تقویٰ میں ممتاز تھے اور ہانسی (ہریانہ) میں دین کی خدمت انجام دی۔
4️⃣ حضرت شیخ بدرالدین اسحاقؒ
آپ حضرت بابا فریدؒ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے اور روحانی فیض کے وارثوں میں شمار ہوتے ہیں۔
Watch my poem Merey Peghember
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu



Baba fareed ne hmarey ekaqey k tmam brey qabeelon ko muslamaan kia aaj tak un ka bohat asr hai
ReplyDeleteآپ درست فرما رہے ہیں
Deleteبابا فرید بہت بڑی ہستی ہیں جن کی بدولت لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کا طرزِ زندگی نہایت سادہ جس سے ملتے اس کا دل موہ لیتے وہ حقیقی اللہ کے ولی ہیں اور لوگ آج بھی ان کی تعلیمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں
ReplyDeleteبابا فرید کی شخصیت بڑی منفرد ہے انہوں نے پنجاب کے قبیلے کے قبیلے مسلمان کئیے
ReplyDelete