raabta ustwar tha | Loss of Love and Fading Identity – A Heartfelt Urdu Ghazal
رابطہ استوار نہ رہا
رابطہ استوار تھا نہ رہا
دل میرا بیقرار تھا نہ رہا
اپنی بے چین آرزو کی قسم
میں کبھی سوگوار تھا نہ رہا
شام ساکت تھی چاند تھا مدھم
اس گھڑی انتظار تھا نہ رہا
رخ روشن کی دید سے محروم
آیئنہ اشکبار تھا نہ رہا
خواہشیں بے لگام ہونے لگیں
خود پہ جو اختیار تھا نہ رہا
چاند غاروں میں چھپ گیا ہوگا
ایک ہی یار غار تھا نہ رہا
یاد تو کر تمہاری نظروں میں
میں کبھی با وقار تھا نہ رہا
ہیں پریشان آج موسمی پھول
باغ پر بھی نکھار تھا نہ رہا
کل میرے دوست یہ کہیں گے شکیل
ایک نغمہ نگار تھا نہ رہا
غزل کی اردو وضاحت (Description in Urdu):
یہ غزل انسانی جذبات کی شکست و ریخت، محبت کے زوال اور ذات کے بکھرنے کی ایک گہری اور درد بھری تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر ابتدا ہی میں اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ جو تعلق کبھی مضبوط تھا، اب باقی نہیں رہا اور دل کی بے قراری بھی ماند پڑ چکی ہے۔
اشعار میں ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو کبھی اپنی خواہشات اور احساسات سے بھرپور تھا، مگر وقت کے ساتھ وہ کیفیت بھی ختم ہو گئی۔ انتظار، چاہت، اور دید کی آرزو جیسے جذبات بھی اب دم توڑ چکے ہیں۔ آئینہ جو کبھی جذبات کا عکاس تھا، اب اشکبار بھی نہیں رہا، یعنی دکھ کی شدت بھی کسی حد تک ماند ہو چکی ہے۔
غزل میں خواہشات کے بے قابو ہونے اور خود پر اختیار کے ختم ہو جانے کا ذکر ایک داخلی ٹوٹ پھوٹ کی علامت ہے۔ "یارِ غار" کا استعارہ نہ صرف قربت بلکہ گہری رفاقت کی علامت ہے، جس کا نہ رہنا تنہائی کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
آخری اشعار میں شاعر اپنی سماجی اور شخصی پہچان کے مٹنے کا ذکر کرتا ہے، جہاں کبھی عزت اور وقار تھا، اب وہ بھی باقی نہیں رہا۔ یہاں تک کہ فطرت (موسمی پھول اور باغ) بھی اس زوال کی گواہی دیتی محسوس ہوتی ہے۔
مقطع میں شاعر اپنے انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ اسے صرف ایک گزرے ہوئے نغمہ نگار کے طور پر یاد کریں گے، جو اب دنیا میں موجود نہیں۔
یہ غزل قاری کو نہ صرف محبت کے انجام بلکہ انسان کی داخلی کیفیت، تنہائی، اور وقت کی بے رحمی پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
English Translation
The bond we shared no longer stayed,
My heart is restless, no longer swayed.
By my uneasy longing, I swear it true,
I was never one who mourned like you.
The evening stood still, the moon was dim,
In that moment, waiting faded within.
Deprived of seeing that radiant face,
The mirror no longer wept in its place.
Desires began to run wild and free,
I lost all control that once governed me.
Perhaps the moon has hidden in caves afar,
For I no longer have that single companion-star.
Remember—within your searching eyes,
I once stood with honor, held in high guise.
Today even seasonal flowers seem distressed,
The garden itself has lost its grace and zest.
Tomorrow, my friends will quietly say, Shakeel,
A singer of songs no longer remains this way.
This heartfelt Urdu ghazal captures the pain of emotional separation and inner restlessness. The poet portrays fading relationships, lost dignity, and unfulfilled desires through powerful metaphors such as a dim moon, a silent evening, and a colorless garden. Each couplet reflects the gradual erosion of love and identity, making this ghazal a strong example of contemporary Urdu poetry.
UrduPoint - Poetry
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu
Comments
Post a Comment