Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Qaiser Ul Jafri: A Distinguished Voice in Modern Urdu Poetry

قیصر الجعفری - ممبئی کا درویش شاعر | مکمل بلاگ ✨ قیصر الجعفری ✨ شہرِ ممبئی کا وہ درویش شاعر جس کا کلام چراغِ راہ ہے "یہ ہیں وہ قیصر الجعفری جن کی غزلیں سن سن کر ہم سمجھتے رہے کہ یہ نذیر قیصر کی ہیں" ✍️ مختصر ترین تعارف قیصر الجعفری ممبئی کے ایک ایسے درویش شاعر تھے جن کی لکھی ہوئی غزلیں آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ غلطی سے یہ کلام اکثر نذیر قیصر کے نام منسوب کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیصر الجعفری نے اپنے طویل 75 سالہ شعری سفر میں اردو شاعری کو وہ گہرائی دی ہے جس کی مثال کم ملتی ہے۔ 💔 کتنی مہنگی چیز تھی دنیا، کتنی سستی چھوڑ چلے 💔 ~ قیصر الجعفری 📖 فہرست مضامین تعارف اور ایک افسانوی غلط فہمی کا ازالہ زندگی کا سفر: بمبئی کے گلی کوچوں سے شعری بلندیوں تک شاعری کی خصوصیات: سادگی کے پردے میں گہرا المیہ وہ مشہور اشعار جنہوں نے دل جی...

انصاف بک رہا ہے Insaaf Bik Raha Hai – A Powerful Urdu Poem on Justice, Corruption & Society

انصاف بک رہا ہے Insaaf Bik Raha Hai – A Powerful Urdu Poem on Justice, Corruption & Society

The inefficiency and backlog of cases in Pakistan's judicial system further contribute to its collapse. The courts are overwhelmed with cases, leading to prolonged delays in hearings and verdicts. This inefficiency discourages people from seeking legal recourse and undermines the principle of timely justice. The combination of these factors—corruption, political interference, and inefficiency—creates a vicious cycle that hampers the judiciary's ability to uphold justice and the rule of law.

Historically, the judiciary in Pakistan has struggled with issues of corruption, inefficiency, and political interference. These problems have undermined public trust in the legal system, as citizens often find it difficult to secure timely and fair justice. Corruption within the judiciary, where bribes and favoritism can influence decisions, further exacerbates the situation, creating an environment where the rule of law is compromised, and justice is not evenly administered.

To restore faith in the judiciary, comprehensive reforms are needed, focusing on ensuring judicial independence, enhancing transparency, and improving case management processes. Without such reforms, the judiciary system in Pakistan risks further deterioration, posing a significant threat to the country's legal and democratic framework.


Urdu Poetry & Ghazals Blog

انصاف بک رہا ہے

تم مانو یا نہ مانو انصاف بک رہا ہے
اب اپنی اپنی ٹھانو انصاف بک رہا ہے

وکلا کیساتھ ہوتی ہے منصف کی ساز باز
جاٹو ، وڈیرو ، خانو انصاف بک رہا ہے

بے فیصلہ پڑے ہیں لاکھوں مقدمات
تم معری بات مانو انصاف بک رہا ہے

آزاد عدلیہ ہوں ، آزاد ہوں ادارے
اے جج بے ایمانو انصاف بک رہا ہے

قانون سربلند رہے مادر وطن میں
مشکل ہے اب جوانو انصاف بک رہا ہے

اک جیسے ریفرنس مگر فیصلے جدا
خود کو خدا نہ جانو انصاف بک رہا ہے

اس قوم کو خدا کے لئے زندہ رہنے دو
عدلیہ کے نگہبانو انصاف بک رہا ہے

انصاف کے بغیر کہاں جی سکے گی قوم
اے لوگ بے زبانو انصاف بک رہا ہے

اس بے قدر حیات پہ حیران ہے شکیل
جمہور کے دیوانو انصاف بک رہا ہے

اردو میں مکمل تفصیل

یہ نظم "انصاف بک رہا ہے" ہمارے معاشرے کے ایک نہایت حساس اور اہم مسئلے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عدل و انصاف جیسے مقدس اصول بھی مفادات اور طاقت کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ شاعر نے نہایت جرات اور سچائی کے ساتھ اس تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے کہ انصاف اب ایک اصول نہیں بلکہ ایک سودا بنتا جا رہا ہے۔

نظم کے اشعار میں عدالتی نظام کی کمزوریوں، وکلا اور منصفین کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ، اور بااثر طبقوں جیسے جاٹ، وڈیرے اور خان کے اثر و رسوخ کو نمایاں کیا گیا ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ طاقتور افراد کے لیے فیصلے آسانی سے بدل جاتے ہیں۔

بے فیصلہ پڑے ہیں لاکھوں مقدمات" جیسے اشعار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ شاعر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جب مقدمات برسوں تک لٹکے رہیں تو مظلوم کو انصاف کیسے ملے گا؟

نظم میں آزاد عدلیہ اور اداروں کے دعووں پر بھی تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔ شاعر ججوں اور عدالتی نگہبانوں کو مخاطب کر کے ان کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے کہ انصاف صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی تقاضا ہے، جس کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔

آخر میں شاعر قوم کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر انصاف کا نظام اسی طرح کمزور رہا تو معاشرہ تباہی کی طرف بڑھ جائے گا۔ یہ نظم نہ صرف ایک شکایت ہے بلکہ ایک بیداری کی صدا بھی ہے، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔


Ye Nazm Youtube pr dekhen

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. It is a unique poem on this issue everybody knows in our country judicial system is totally biased and fraud.

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے س...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے ما...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily appare...
Follow This Blog WhatsApp