Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Mir Unees vs Mirza Dabeer: A Comparative Study of Urdu Marsiya Poetry

میر انیس و مرزا دبیر انیسویں صدی کے لکھنؤ میں اردو مرثیہ نگاری کا جو سنہری دور تھا، اس کی سب سے یادگار اور پرجوش فصل میر انیس اور مرزا دبیر کے معرکوں نے سجائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عزاداری محرم کی مجالس نہ صرف عقیدت کا مرکز تھیں بلکہ ادبی معرکہ آرائی کا میدان بھی بن گئی تھیں۔ لکھنؤ کی تہذیب و ادب پرور فضا میں دونوں عظیم مرثیہ گوؤں کے حامیوں میں "انیسیہ" اور "دبیریہ" کے نام سے دو گروہ بن گئے، جو ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے استاد کے فن کی برتری ثابت کرنے کے لیے دل و جان سے لگے رہے۔ یہ معرکے "گھمسان کا رن" کی مانند تھے، مگر یہ رن تلواروں کا نہیں، الفاظ، تشبیہات، بندشوں اور تصویر کشی کا تھا۔ تاریخی پس منظر مرزا سلامت علی دبیر (پیدائش: 29 اگست 1803ء، دہلی — وفات: 6 مارچ 1875ء، لکھنؤ) دہلی سے لکھنؤ آئے اور میر مظفر حسین ضمیر کی شاگردی میں مرثیہ نگاری کا فن سیکھا۔ ان کے مرثیوں میں عربی و فارسی کے گہرے مطالعے کی جھلک ملتی تھی، وہ مضمون آفرینی، تخیل اور بلیغ الفاظ کے استعمال میں ماہر تھے۔ انہوں نے ہزاروں مرثیے لکھے، جن میں ایک پورا مرثیہ "بے نقط" بھ...

mn roya | When Injustice Prevails – A Ghazal of Social Pain


kisi ghareeb ki ezat luti to mn roya
nizam e jabr ko taqat mili to mn roya

When Injustice Prevails – A Ghazal of Social Pain

By Afzal Shakeel Sandhu


Urdu Ghazal

کسی غریب کی عزت لٹی تو میں رویا
نظام جبر کو طاقت ملی تو میں رویا

امیر ظلم کے ایواں کا حکمران بنا
شریف نفس کو دولت ملی تو میں رویا

حقوق یافتہ لوگوں کے محل اونچے ہوئے
بھوکے گھر کی عزت بکی تو میں رویا

حرام رزق وسیلہ حرام کاموں کا
کمین زادوں کو شوکت ملی تو میں رویا

دلوں میں فرقہ پرستی کی دیویاں قائم
فروغ دین کی دعوت نلی تو میں رویا

بنی کے دین کو ٹکڑوں میں بانٹنے والو
یہود و کفر کی شہرت ہوئی تو میں رویا

سود ملت اسلام کا اصل قاتل
معاشی جبر کو طاقت ملی تو میں رویا

ناپید آج ہے امتیاز شرق و غرب
شرق میں غرب کی صورت بنی تو میں رویا

امت آقا کی تعلیم کی ہوئی تارک
آنکھ سوئے حرم اٹھ گئی تو میں رویا

نبی کی صورت و کردار دیکھنا ہو گا
جو بولنے کی اجازت ملی تو میں رویا

جدید دور میں یہ اختلاط مرد و زن
نشاط زیست قیامت بنی تو میں رویا

جدیدیت میں نہاں پھر سے جاہلی صفات
جنس زمانے کی عادت بنی تو میں رویا

شکیل بد سے برا ہو چکا جدید انسان
جدتوں کی جدا رت چلی تو میں رویا


Description (Urdu)

یہ غزل موجودہ دور کے اخلاقی، معاشی اور سماجی زوال کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی، طبقاتی فرق، فرقہ واریت اور دینی اقدار سے دوری پر گہرا دکھ اور کرب ظاہر کیا ہے۔ یہ کلام ایک بیداری کی صدا ہے جو انسان کو اپنے کردار، معاشرے اور سمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

یہ غزل موجودہ دور کے سماجی، معاشی اور اخلاقی زوال کی ایک بھرپور عکاسی ہے۔ شاعر نے نہایت درد مندی کے ساتھ ان ناانصافیوں کو بیان کیا ہے جو معاشرے میں عام ہو چکی ہیں۔ غریب کی بے بسی، امیر کی بالادستی، حلال و حرام کی تمیز کا ختم ہونا، فرقہ واریت کا فروغ، اور امت مسلمہ کی فکری و عملی کمزوری—یہ سب اس غزل کے مرکزی موضوعات ہیں۔

شاعر ہر اس موقع پر اشکبار ہوتا ہے جہاں ظلم کو تقویت ملتی ہے اور حق کو دبایا جاتا ہے۔ یہ کلام نہ صرف ایک حساس دل کی آواز ہے بلکہ ایک بیداری کا پیغام بھی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔


English Summary

This ghazal expresses deep sorrow over injustice, inequality, and moral decline in modern society. The poet highlights the suffering of the poor, the rise of corrupt power, and the loss of ethical and religious values. It is a powerful reflection and a call for awareness.

This poignant couplet reflects the deep sorrow and emotional turmoil experienced when witnessing the violation of a poor person's dignity and the empowerment of an oppressive system. It captures the essence of social injustice and the empathetic response to human suffering. Through its heartfelt expression, the couplet highlights the stark realities of societal issues, evoking a powerful call for awareness and change.


Rekhta - Urdu Poetry

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. Nazm to achi hey lekin article mukamal nhi hey

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا زکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی ترح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کحل جاتے ہینہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمھے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نع رھمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ صر...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp