kisi ghareeb ki ezat luti to mn roya
nizam e jabr ko taqat mili to mn roya
When Injustice Prevails – A Ghazal of Social Pain
By Afzal Shakeel Sandhu
Urdu Ghazal
کسی غریب کی عزت لٹی تو میں رویا
نظام جبر کو طاقت ملی تو میں رویا
امیر ظلم کے ایواں کا حکمران بنا
شریف نفس کو دولت ملی تو میں رویا
حقوق یافتہ لوگوں کے محل اونچے ہوئے
بھوکے گھر کی عزت بکی تو میں رویا
حرام رزق وسیلہ حرام کاموں کا
کمین زادوں کو شوکت ملی تو میں رویا
دلوں میں فرقہ پرستی کی دیویاں قائم
فروغ دین کی دعوت نلی تو میں رویا
بنی کے دین کو ٹکڑوں میں بانٹنے والو
یہود و کفر کی شہرت ہوئی تو میں رویا
سود ملت اسلام کا اصل قاتل
معاشی جبر کو طاقت ملی تو میں رویا
ناپید آج ہے امتیاز شرق و غرب
شرق میں غرب کی صورت بنی تو میں رویا
امت آقا کی تعلیم کی ہوئی تارک
آنکھ سوئے حرم اٹھ گئی تو میں رویا
نبی کی صورت و کردار دیکھنا ہو گا
جو بولنے کی اجازت ملی تو میں رویا
جدید دور میں یہ اختلاط مرد و زن
نشاط زیست قیامت بنی تو میں رویا
جدیدیت میں نہاں پھر سے جاہلی صفات
جنس زمانے کی عادت بنی تو میں رویا
شکیل بد سے برا ہو چکا جدید انسان
جدتوں کی جدا رت چلی تو میں رویا
Description (Urdu)
یہ غزل موجودہ دور کے اخلاقی، معاشی اور سماجی زوال کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی، طبقاتی فرق، فرقہ واریت اور دینی اقدار سے دوری پر گہرا دکھ اور کرب ظاہر کیا ہے۔ یہ کلام ایک بیداری کی صدا ہے جو انسان کو اپنے کردار، معاشرے اور سمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
یہ غزل موجودہ دور کے سماجی، معاشی اور اخلاقی زوال کی ایک بھرپور عکاسی ہے۔ شاعر نے نہایت درد مندی کے ساتھ ان ناانصافیوں کو بیان کیا ہے جو معاشرے میں عام ہو چکی ہیں۔ غریب کی بے بسی، امیر کی بالادستی، حلال و حرام کی تمیز کا ختم ہونا، فرقہ واریت کا فروغ، اور امت مسلمہ کی فکری و عملی کمزوری—یہ سب اس غزل کے مرکزی موضوعات ہیں۔
شاعر ہر اس موقع پر اشکبار ہوتا ہے جہاں ظلم کو تقویت ملتی ہے اور حق کو دبایا جاتا ہے۔ یہ کلام نہ صرف ایک حساس دل کی آواز ہے بلکہ ایک بیداری کا پیغام بھی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
English Summary
This ghazal expresses deep sorrow over injustice, inequality, and moral decline in modern society. The poet highlights the suffering of the poor, the rise of corrupt power, and the loss of ethical and religious values. It is a powerful reflection and a call for awareness.
This poignant couplet reflects the deep sorrow and emotional turmoil experienced when witnessing the violation of a poor person's dignity and the empowerment of an oppressive system. It captures the essence of social injustice and the empathetic response to human suffering. Through its heartfelt expression, the couplet highlights the stark realities of societal issues, evoking a powerful call for awareness and change.
Rekhta - Urdu Poetry
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu
Nazm to achi hey lekin article mukamal nhi hey
ReplyDelete