خمار بارہ بنکوی: شخصیت اور شاعری © 2026 Afzal Shakeel Sandhu — All Rights Reserved. خمار بارہ بنکوی شخصیت، فن اور شاعری کا ایک جامع جائزہ ✍️ تحریر: افضل شکیل سندھو Visit My Blog On SHAKIL BADAYAUNI click here اردو ادب کے دھانے میں جب بھی غزل گوئی کا ذکر آتا ہے تو ایک نام جو دلوں میں اتر جاتا ہے، وہ ہے خمار بارہ بنکوی ۔ سادگی، روانی اور گہرے جذبات کی شاعری کرنے والے اس عظیم شاعر نے اپنی فطری موسیقی اور منفرد اسلوب سے اردو غزل کو ایک نیا آسمان عطا کیا۔ آج ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی زندگی، فن اور شاعری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ تعارف اور ابتدائی زندگی خمار بارہ بنکوی کا اصل نام محمد حیدر خان تھا۔ وہ 19 ستمبر 1919ء کو بارہ بنکی، اودھ (موجودہ اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا قلمی نام 'خمار'...
Tamana nhi rahi تمنا نہیں رہی یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی This ghazal, written by Afzal Shakeel Sandhu, captures the essence of profound disillusionment and a deep sense of detachment from worldly desires and fleeting dreams. It reflects the poet's internal struggle and his resignation to the transience of life and its aspirations. غزل یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی ساقی اٹھاؤ جام تمنا نہیں رہی دنیائے رفتنی کے ادھورے خیال و خواب الجھے پڑے ہیں کام تمنا نہیں رہی راہوں میں قمقموں کی بدولت ہو روشنی یہ حسن اہتمام تمنا نہیں رہی جی چاہتا ہے جسم کا بت توڑ پھوڑ دوں بت کو کہاں دوام تمنا نہیں رہی جانے دو اب نا کر میرے دل کو تسلیاں اے عشقِ نا تمام تمنا نہیں رہی سوز طلب،آہ سرد، شام بے کسی میرے رہیں غلام تمنا نہیں رہی پہلو میں دل کے درد کی کلیاں کھلی رہیں یاروں سے ہو کلام تمنا نہیں رہی شوریدہ سر جہاں میں خیالات زندگی اتنے بلند و بام تمنا نہیں رہی اجڑا ہے اب شکیل گلستانِ آرزو دنیا کو صد سلام تمنا نہیں رہی اردو میں مکمل تفصیل ...