عدیم ہاشمی: باغی شاعر، درد کا راوی | مکمل بلاگ عدیم ہاشمی باغی مزاج کا شاعر، جلاوطن صدا، لازوال غزلوں کا خالق پیدائش 1 اگست 1946 • فیروزپور، برطانوی ہند وفات 5 نومبر 2001 • شکاگو، امریکہ قلمی نام عدیم (اصل نام: فصیح الدین) شہرت شاعر، ڈراما نگار، نغمہ نگار، مزاحمتی آواز عدیم ہاشمی اردو ادب کے ان منفرد شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے فکر و فن سے روایت کو توڑا اور اپنا الگ راستہ بنایا۔ روایتی غزل کے حسن و عشق کے سانچے میں بغاوت، استبداد اور تنہائی کو اس انداز میں پرویا کہ وہ نہ صرف اپنے دور بلکہ آج بھی ایک زندہ حقیقت ہیں۔ وہ شاعر جس نے پاکستان ٹیلی ویژن کو وہ گیت دیے جو تین نسلوں کی دھڑکن بن گئے، ڈرامے لکھے، مزاح کا ایک شہرہ آفاق سلسلہ "گیسٹ ہاؤس" تخلیق کیا، اور پھر اپنے ہی ملک میں کئی بار جلاوطن ہوئے۔ فاصلے ایسے بھی ہوں گے، یہ کسی نے سوچا؟ "کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ اتنے بڑے فاصلے ہوں گے؟" — عدیم ہاشمی، ایک لازوال غزل ...
Tamana nhi rahi تمنا نہیں رہی یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی This ghazal, written by Afzal Shakeel Sandhu, captures the essence of profound disillusionment and a deep sense of detachment from worldly desires and fleeting dreams. It reflects the poet's internal struggle and his resignation to the transience of life and its aspirations. غزل یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی ساقی اٹھاؤ جام تمنا نہیں رہی دنیائے رفتنی کے ادھورے خیال و خواب الجھے پڑے ہیں کام تمنا نہیں رہی راہوں میں قمقموں کی بدولت ہو روشنی یہ حسن اہتمام تمنا نہیں رہی جی چاہتا ہے جسم کا بت توڑ پھوڑ دوں بت کو کہاں دوام تمنا نہیں رہی جانے دو اب نا کر میرے دل کو تسلیاں اے عشقِ نا تمام تمنا نہیں رہی سوز طلب،آہ سرد، شام بے کسی میرے رہیں غلام تمنا نہیں رہی پہلو میں دل کے درد کی کلیاں کھلی رہیں یاروں سے ہو کلام تمنا نہیں رہی شوریدہ سر جہاں میں خیالات زندگی اتنے بلند و بام تمنا نہیں رہی اجڑا ہے اب شکیل گلستانِ آرزو دنیا کو صد سلام تمنا نہیں رہی ردو میں ا Description: یہ خوبصورت غزل انسانی ز...