خخبر|افضل شکیل سندھو کے قلم سے نکلا ہوا ایک خوبصورت افسانہ نوٹ قارئین کرام آپ شعر و شاعری پڑھ کر اور سن کر اکتا نہ گئے ہوں اس لیے میں آپ کو اس یکسانیت سے نکالنے کے لیے آپکے لیے ایک افسانہ لے کر حاضر ہوا ہوں یہ افسانہ منتھلی گہراب ساہیوال میں اگست 2003 کو شائع ہوا امید ہے آپ اس افسانے کو پڑھ کر محظوظ ہونگے ۔ خبر،ایک دلچسپ کہانی ایک دلچسپ افسانہ افسانہ خبر ایک دیلچسپ کہانی تحریر : افضل شکیل سندھو موسم سرما کی تیز ہوا جسم سے ٹکرا کے گد گدی پیدا کر رہی تھی۔گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسٹیشن سے باہر برقی قمقموں کی ہلکی ہلکی روشنی عجیب مزا دے رہی تھی رات اگرچہ اندحیری تھی لیکن دلکش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نے دس سال کے بعد اپنے پیارے شہر مین قدم رکھا تھا۔اسٹیشن کے باہر رکشے تھے تانگے تھے لیکن میں نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔ سڑک پر پیدل چلتے ہوئے بہت سی یادوں نے گھیرا ڈال لیا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف دکا نیں تھیں کچھ بند کچھ کھلی اور کچھ ادھ کھلی۔ میں اپنے وطن کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس کرنا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک موڑ پر مجھے چائے کی دکان کھلی نظر آئی۔ وہاں تین آدمی چائے پی...
Tamana nhi rahi تمنا نہیں رہی یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی This ghazal, written by Afzal Shakeel Sandhu, captures the essence of profound disillusionment and a deep sense of detachment from worldly desires and fleeting dreams. It reflects the poet's internal struggle and his resignation to the transience of life and its aspirations. غزل یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی ساقی اٹھاؤ جام تمنا نہیں رہی دنیائے رفتنی کے ادھورے خیال و خواب الجھے پڑے ہیں کام تمنا نہیں رہی راہوں میں قمقموں کی بدولت ہو روشنی یہ حسن اہتمام تمنا نہیں رہی جی چاہتا ہے جسم کا بت توڑ پھوڑ دوں بت کو کہاں دوام تمنا نہیں رہی جانے دو اب نا کر میرے دل کو تسلیاں اے عشقِ نا تمام تمنا نہیں رہی سوز طلب،آہ سرد، شام بے کسی میرے رہیں غلام تمنا نہیں رہی پہلو میں دل کے درد کی کلیاں کھلی رہیں یاروں سے ہو کلام تمنا نہیں رہی شوریدہ سر جہاں میں خیالات زندگی اتنے بلند و بام تمنا نہیں رہی اجڑا ہے اب شکیل گلستانِ آرزو دنیا کو صد سلام تمنا نہیں رہی Watch this Ghazal on youtube Description of the G...