غغلام ہمدانی مصحفیؔ: ایک تعارف غلام ہمدانی مصحفیؔ کا شمار اردو کے اساتذۂ سخن میں ہوتا ہے۔۔۔ غلام ہمدانی ان کا نام اور مصحفیؔ تخلص تھا۔ اکثر تذکرہ نگارو نے ان کی جائے پیدائش امروہہ لکھی ہے، تاہم مہذب لکھنوی میر حسن کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ دہلی کے قریب اکبر پور میں پیدا ہوئے۔ بہرحال ان کا بچپن امروہہ ہی میں بسر ہوا۔ مصحفی 1747 میں پیدا ہوئے۔۔۔ خاندانی پس منظر اور معاشی زوال مصحفیؔ کے آباء و اجداد خوشحال تھے اور حکومت کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے، لیکن سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی خاندان کی خوشحالی بھی رخصت ہو گئی۔ نتیجتاً مصحفیؔ کی پوری زندگی معاشی تنگ دستی میں گزری۔ روزگار کی تلاش نے انہیں مسلسل ایک شہر سے دوسرے شہر کی خاک چھاننے پر مجبور کیے رکھا۔ تلاشِ معاش اور ادبی تربیت وہ دہلی آئے جہاں تلاشِ معاش کے ساتھ ساتھ اہلِ علم و فضل کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ بعد ازاں آنولہ گئے، کچھ عرصہ ٹانڈے میں قیام کیا اور ایک سال لکھنؤ میں رہے۔ اسی دوران ان کی ملاقات سوداؔ سے ہوئی جو اس وقت فرخ آباد سے لکھنؤ منتقل ہو چکے تھے۔ مصحفیؔ، سوداؔ سے بے حد متاثر ہوئے۔ بعد ازاں وہ دوبارہ دہلی ...
https://youtu.be/IF5PTmqUZh0 https://youtu.be/c3tlzBOXQqE Very beautiful, fantastic and realistic ghazal in which words are used beautifuly.These verces depict the situation of love 💖,and hate.love is the subject of all times favorite. غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا Watych My exclusive interview Ghazal My hem is no longer bound by loyalty In th...