بشیر بدر: مکمل سوانح عمری، شاعری، کتابیں اور ادبی مقام ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر ہے اور وہ 15 فروری 1935ء کو ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید نذیر ایک سرکاری ملازم تھے اور والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ بچپن ہی سے بشیر بدر میں ادب اور شاعری کے شوق کی جھلک دکھائی دینے لگی۔ وہ اپنے دوستوں اور گھر والوں کے سامنے اشعار کہنے لگے اور ان کے اشعار میں محبت، احساس اور جذبات کی نزاکت واضح تھی۔ ان کا بچپن ایک علمی ماحول میں گزرا، جس نے بعد میں ان کی شخصیت اور شاعری پر گہرا اثر ڈالا۔ ابتدائی تعلیم میں انہوں نے اپنی قابلیت اور ذہانت کے جوہر دکھائے اور کلاس کے بہترین طلبہ میں شمار ہوئے۔ تعلیم اور علمی سفر بشیر بدر نے اپنی اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ یہاں انہوں نے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی تحقیق اور مطالعہ کا دائرہ وسیع تھا، جس میں اردو ادب کے ساتھ فارسی اور انگریزی زبان کی مہارت بھی شامل تھی۔ یونیورسٹی میں قیام کے دوران انہوں نے اپنے ادبی ذوق کو مزید نکھارا اور غزل کی جدید صنف میں اپنا منفرد انداز پیدا ک...
https://youtu.be/IF5PTmqUZh0 https://youtu.be/c3tlzBOXQqE Very beautiful, fantastic and realistic ghazal in which words are used beautifuly.These verces depict the situation of love 💖,and hate.love is the subject of all times favorite. غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا Watych My exclusive interview Ghazal My hem is no longer bound by loyalty In th...