غزل کی روشنی میں: بزم ہستی اور شعار زندگی | مکمل تجزیہ غزل · فکری گہرائی · علامتی اظہار بزمِ ہستی میں شعارِ زندگی ہونے نہ پائے تاریک دور، امیدوں کی ناکامی اور انا کے خول کا فنی بیانیہ بزم ہستی میں شعار زندگی ہونے نہ پائے ظلمتوں کا دور ہے روشنی ہونے نہ پائے ہے توقع آج کی محفل میں وہ بھی آئیں گے دیکھ لینا اب کوئی دیوانگی ہونے نہ پائے چمن کے کانٹوں سے میں یہ بارہا کہتا رہا ان سے کوئی بے تکلف آدمی ہونے نہ پائے انتہائے جبر ہے ، مےخانہ حیات میں حکم ساقی آ گیا ہے مےکشی ہونے نہ پائے جب دیا دل ، دے دیا ، یہ انا کا خول کیوں ایسی غلطی کا اعادہ پھر کبھی ہونے نہ پائے میں بہت رنجیدہ خاطر ہوں دنیا والے سن میرے ارمانوں کے اندر کھلبلی ہونے نہ پائے میں وہی بے ربط آنگن ہوں جس آنگن شکیل چاند ہو سر پر مگر چاندنی ہونے نہ پائے ⸻ مکمل غزل ، شاعر: افضل شکیل سندھو ⸻ ● پہلی نظر میں غزل کا منظرنامہ یہ غ...
دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا | damn Mera pabnd | Lost Echoes of Loyalty | Urdu Ghazal by Afzal Shakeel
https://youtu.be/IF5PTmqUZh0 https://youtu.be/c3tlzBOXQqE Very beautiful, fantastic and realistic ghazal in which words are used beautifuly.These verces depict the situation of love 💖,and hate.love is the subject of all times favorite. غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا Description (Urdu): یہ غزل انسانی جذبات، ٹوٹے ہوئے وعدوں اور وفا کے زوال کی ایک ...