حضرت بابا فریدؒ کی فارسی اور پنجابی شاعری کا تحقیقی جائزہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ برصغیر کی صوفی روایت کے وہ درخشاں ستارے ہیں جنہوں نے نہ صرف روحانیت کی شمع روشن کی بلکہ زبان و ادب کو بھی نئی جہت عطا کی۔ آپؒ کی شاعری دو بڑی زبانوں—فارسی اور پنجابی—میں ملتی ہے۔ فارسی میں آپ کا کلام صوفیانہ معرفت کا آئینہ دار ہے جبکہ پنجابی میں آپ نے عام انسان کے دل کی آواز کو روحانی پیغام سے جوڑا۔ فارسی کلام کا جائزہ بابا فریدؒ کا فارسی کلام تصوف کی کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں عشقِ حقیقی، فقر، صبر اور دنیا کی ناپائیداری جیسے موضوعات نمایاں ہیں فارسی شاعری کا تجزیہ میں بابا صاحب کی اس غزل سے کروں گا جو میری شاعری کی چوتھی کاپی جو 1998 سے 2002 تک کی میری شاعری کا احاطہ کرتی ہے کے سرورق پر لکھی ہوئی ہے ۔ سجدہ بسوِئے قبلہ ابروئے تست فرض ایماں بکفر سلسلہ موئے تست فرض اردو ترجمہ: سجدہ تیری ابرو کو قبلہ کی طرف کرنا فرض ہے، ایمان کا کفر سے جُڑا ہونا بھی تیرے زلف کے سلسلے سے وابستہ ہونا فرض ہے۔ مفہوم: تیری بھنویں ہی میرا قبلہ ہیں، انہی کی طرف جھکنا عبادت ہے۔ ایمان اور کفر ک...
https://youtu.be/IF5PTmqUZh0 https://youtu.be/c3tlzBOXQqE Very beautiful, fantastic and realistic ghazal in which words are used beautifuly.These verces depict the situation of love 💖,and hate.love is the subject of all times favorite. غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا Watych My exclusive interview Ghazal My hem is no longer bound by loyalty In th...