حضرت بابا فرید — پہلی عظیم پنجابی شاعر اور روحانی پیشوا نام و نسب : حضرت بابا فریدؒ کا اصل نام فرید الدین مسعود گنج شکر تھا۔ آپ 1173ء میں موجودہ پاکستان کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے آپ عبادت اور تقویٰ کی طرف مائل تھے۔ آپ کی والدہ نے آپ کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور دین سے محبت آپ کے دل میں پیدا کی۔ بعد میں آپ سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ قطب الدین بختیار کاکی کے مرید بنے۔ سخت ریاضت، روزہ، عبادت اور خدمتِ خلق کے ذریعے آپ نے روحانی بلندی حاصل کی۔ آپ کو “گنج شکر” کا لقب ملا، جس کا مطلب ہے “مٹھاس کا خزانہ” — یہ آپ کے اخلاق اور تعلیمات کی شیرینی کی علامت ہے۔والدہ کا نام قرسم خاتون ؒ اور والد محترم قاضی جلال الدین ہیں۔ بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے۔ آپ بغیر کسی شک و شبہ کے پنجابی ادب کے پہلے اور پنجابی شاعری کی بُنیاد مانے جاتے ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کے مُشہور بزرگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اسلام کی شمع جلائی اور صرف ایک اللہ کی دُنیا کی پہچان کروائی۔ بابا فرید584/ 1173 میں ملتان کے ایک قصبے کھوتووال میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء کابل کے فرخ شاہ...
https://youtu.be/IF5PTmqUZh0 https://youtu.be/c3tlzBOXQqE Very beautiful, fantastic and realistic ghazal in which words are used beautifuly.These verces depict the situation of love 💖,and hate.love is the subject of all times favorite. غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا Watych My exclusive interview Ghazal My hem is no longer bound by loyalty In th...