Skip to main content

Posts

Showing posts from July, 2023

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Ustad Daman Complete Profile | A Legendary Punjabi Poet

اسطورۂ مزاح | اُستاد دامن کا فنی سفر | مکمل مضمون 🗣️ اُستاد دامن پُرانا کھلونا، نیا مذاق وہ شخص جس نے ہنسی کو غریبوں کی پونجی بنا دیا ✍️ تحریر : شاہد رضوی | ۲۰۲۵ | اُستاد دامن نمبر ا ُستاد دامن ... صرف ایک نام نہیں، ایک مکمل اساطیری داستان ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے جس نے پاکستان کی تاریک گلیوں، جاگیردارانہ ظلم، مہنگائی اور افلاس کے دور میں بھی ہنسی کی شمع روشن رکھی۔ ان کا اصل نام ‘میاں محمد دین’ تھا، لیکن عوام نے پیار سے ‘دامن’ کہہ کر پکارا — کیونکہ ان کا دامنِ کرم اتنا وسیع تھا کہ غمگین دلوں کو سکون ملتا تھا۔ ان کی مزاح میں طنز کی تیغ بھی تھی اور محبت کی مٹھاس بھی۔ یہ مضمون اُستاد دامن کی شخصیت، فن، لازوال جملوں اور ان کے اُس دورِ سادگی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جب اسٹیج پر کھڑے ہو کر وہ پورا سمندر ہنسانے کی طاقت رکھتے تھے۔ پاکستان کے سنہرے دورِ ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور فلمی صنعت میں اُستاد دامن نے مزاح کی ا...

damn Mera pabnd | Lost Echoes of Loyalty | Urdu Ghazal by Afzal Shakeel

غزل — وفا اور بے وفائی کی کہانی | افضل شکیل سندھو غزل — وفا اور بے وفائی کی کہانی غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا تعارف یہ غزل انسانی جذبات، محبت، وفا اور وقت کے بدلتے رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے نہایت دلنشین انداز میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ وقت کے ساتھ جذبات، تعلقات اور امیدیں بھی بدل جاتی ہیں۔ مرکزی خیال غزل کا بنیادی خیال یہ ہے کہ محبت اور وفا جیسے جذبے اب اپنی اصل صورت میں باقی نہیں رہے۔ شاعر ایک ایسے دور کی تصویر پیش کرتا...

Tere Baghair Ab To Guzara Bhi Nahin Hai – A Deep Urdu Ghazal of Love & Loneliness

Tere Baghair Ab To Guzara Bhi Nahin Hai –تیرے بغیر اب تو گذارا بھی نہیں ہے This is my ghazal which is very favorite of my wife, therefore she insist me to make blog of its first verse. غزل تیرے بغیر اب تو گذارا بھی نہیں ہے اس درد کے قلزم کا کنارا بھی نہیں ہے میری بلندیوں کا سبب جانے کون ہے میں نے تو اپنے آپ کو مارا بھی نہیں ہے اس دور انحطاط میں گم کردہ راہ کو رب کی طرح کا کوئی سہارا بھی نہیں ہے کیسے گرا دوں اپنے تخیل کی یاد گار قتل اپنی آرزو کا گوارا بھی نہیں ہے اس بد نصیب شام میں اک لمحہ بھی شکیل اس کا اگر نہیں تو ہمارا بھی نہیں ہے اردو میں یہ غزل محبت کی شدت، جدائی کے کرب اور داخلی بے بسی کی ایک نہایت اثر انگیز تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کے بغیر زندگی کو ادھورا محسوس کرتا ہے، جہاں نہ کوئی سہارا باقی رہتا ہے اور نہ ہی درد کا کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے۔ "اس درد کے قلزم کا کنارا بھی نہیں ہے" جیسے اشعار دل کی بے انتہا کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ غزل میں تصور اور حق...

Tutte Dil Naal Katni Raat – A Deep Punjabi Poem on Pain, Love & Life Struggles

پنجابی غزل - شکیل حسن ٹٹے دل نال کٹنی رات بڑی اوکھی اے ایس واری لنگھنی برسات بڑی اوکھی اےbr> جنھا فقر دا دارو پیتا جیوندے نے اناں لوکاں وانگ حیات بڑی اوکھی اے چڑھدا سورج دل روشن نئیں کر سکدا دل وچ چانن کرن دی بات بڑی اوکھی اے شکیل حسن دے آسے پاسے کی پھرنا ہر تھاں ونڈنی عشق خیرات بڑی اوکھی اے پنجابی غزل کی خوبصورت تشریح ٹٹے دل نال کٹنی رات بڑی اوکھی اے ایس واری لنگھنی برسات بڑی اوکھی اے اس شعر میں شاعر دل کی ٹوٹ پھوٹ اور رات کی تنہائی کو بیان کرتا ہے۔ جنھا فقر دا دارو پیتا جیوندے نے اناں لوکاں وانگ حیات بڑی اوکھی اے یہ شعر درویشی اور فقر کی مشکل زندگی کو بیان کرتا ہے۔ چڑھدا سورج دل روشن نئیں کر سکدا دل وچ چانن کرن دی بات بڑی اوکھی اے اصل روشنی اندر کی ہوتی ہے، جو حاصل کرنا مشکل ہے۔ شکیل حسن دے آسے پاسے کی پھرنا ہر تھاں ونڈنی عشق خیرات بڑی اوکھی اے یہ شعر عشق کی تقسیم اور جذبات کی شدت کو بیان کرتا ہے۔ 📌 پنجابی وچ Description: ایہہ نظم/کلام انسان دے اندرلے دکھ، ٹُ...

Mere Samandar Wujood Mein – A Deep Urdu Ghazal of Imagination, Silence & Journey

ممیرے سمندر وجود میں کبھی ڈوبنا merey samander wajood mn kabhi doobna merey takhiual ki aag mn kabhi koodna Watch my poem Naseehat غزل میرے سمندر وجود میں کبھی ڈوبنا میرے تخیل کی آگ میں کبھی کودنا روشنی کے سفر پہ نکلا ہوا ہوں دوست مجھے روشنی کی راکھ میں کبھی ڈھونڈنا یہ جو قلب تازہ ہوا سے بہلا ہے ناگہاں یہی بات بگڑے ماحول میں کبھی پوچھنا میں خاموش رہ کر مزے میں ہوں میرے دوستو یہ پہیلی مست بہار میں کبھی پوچھنا ابھی تک تو جاری و ساری ہے سفر زندگی ہو سکے میرے بعد میں کبھی روٹھنا یہ سفر بھی کتنا عجیب و راحت فریب ہے تم بھی منزل کی آس میں کبھی جھومنا یونہی لطف روٹھا رہا سدا تجھ سے شکیل یہ ہونٹ چٹکتی شام میں کبھی چومنا 📌 اردو میں یہ غزل ایک گہرے فکری اور روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے جہاں شاعر اپنے وجود، تخیل اور احساسات کی دنیا میں قاری کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ابتدائی اشعار میں "سمندر وجود" اور "تخیل کی آگ" جیسے استعارے انسان کے باطنی جہان کی وسعت اور شدت کو ظاہر کرتے ہیں، جو قاری کو سوچ کے نئے زاویے...

انصاف بک رہا ہے Insaaf Bik Raha Hai – A Powerful Urdu Poem on Justice, Corruption & Society

انصاف بک رہا ہے Insaaf Bik Raha Hai – A Powerful Urdu Poem on Justice, Corruption & Society The inefficiency and backlog of cases in Pakistan's judicial system further contribute to its collapse. The courts are overwhelmed with cases, leading to prolonged delays in hearings and verdicts. This inefficiency discourages people from seeking legal recourse and undermines the principle of timely justice. The combination of these factors—corruption, political interference, and inefficiency—creates a vicious cycle that hampers the judiciary's ability to uphold justice and the rule of law. Historically, the judiciary in Pakistan has struggled with issues of corruption, inefficiency, and political interference. These problems have undermined public trust in the legal system, as citizens often find it difficult to secure timely and fair justice. Corruption within the judiciary, where bribes and favoritism can influence decisions, further exacerbates ...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے س...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے ما...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily appare...
Follow This Blog WhatsApp