Tufail Hoshiarpuri: The Melodious Ghazals and Naat Reciterسوانحِ حیات طفیل ہوشیارپوری میں نے طفیل ہوشیارپوری کو پی ٹی وی کے سالانہ مشاعروں کے ذریعے پہچانا۔ وہ اپنا کلام ہمیشہ ترنم میں پڑھا کرتے تھے، اور اسی اندازِ ادائیگی نے انہیں میرے اُن پسندیدہ شعرا میں شامل کر دیا جنہیں میں کم عمری ہی سے پسند کرتا آیا ہوں۔ پی ٹی وی پر یا تو رمضان شریف کے موقع پر نعتیہ مشاعرہ نشر ہوتا تھا یا پھر سالانہ مشاعرہ رات گئے دکھایا جاتا تھا۔ چونکہ مجھے شعر و ادب سے بچپن ہی سے گہرا لگاؤ رہا ہے، اس لیے شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا کہ میں ان مشاعروں کو دیکھنے سے محروم رہ جاؤں۔ ان کے آخری دور کے ایک پنجابی مشاعرے میں، انہوں نے پنجابی زبان میں ایک نعت ترنم کے ساتھ پیش کی، جس کا پہلا شعر آج بھی میری یادداشت میں محفوظ ہے۔ہ پنجابی شعر یوں ہے جس کی جھولی کبھی خالی نہیں رہتی جو میرے محمد ﷺ کا سوالی ہے ان کی آواز نہایت خوبصورت تھی، اور وہ بڑی دلکشی کے ساتھ کلام پڑھا کرتے تھے۔ ان کا کچھ کلام آج بھی ان ہی کی آواز میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ انہی میں ان کی ایک غزل خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اس غزل کا مطلع نہایت عمد...
https://youtu.be/IF5PTmqUZh0 https://youtu.be/c3tlzBOXQqE Very beautiful, fantastic and realistic ghazal in which words are used beautifuly.These verces depict the situation of love 💖,and hate.love is the subject of all times favorite. غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا Watych My exclusive interview Ghazal My hem is no longer bound by loyalty In th...