گدی نشین | ایک تلخ سچ پر مبنی نظم گدی نشین ایک بہترین اردو نظم ہے جس میں افضل شکیل سندھو نے جعلی روحانی پیشواؤں اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ مکمل نظم اور تفصیل پڑھیں۔ گدی نشین سمجھتے ہیں لوگوں کو کمی کمین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین دین خدا سے لگن کاش ہو ذکر و فکر میں مگن کاش ہو سمجھتے ہیں غربہ سے ملنا توہین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین شریعت کی جن کو خبر تک نہیں شرافت میں جن کی لگر تک نہیں یہ توڑ لیتے ہیں غلچے حسین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین اصولوں سے انکو جدائی لکھی ہے قسمت میں جیسے برائی لکھی ہے سیاست کے سارے یہ پکے شوقین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین میں نوش بدزن اراضی کے وارث کبھی بھی نہ سیکھا اسوہ حارث مقدس مقامات کے ہیں امین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین دیہی ابادی کو بھٹکائے رکھنا پہنچے ہوئےخود کو منوائے رکھنا مریدوں کو ہوتا ہے پورا یقین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین ولی اللہ اللہ کی الفت کا حامل رسول خدا کے پیاروںمیں شامل خدا کے لیے جھکتی تھی وہ جبین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین انہیں کیا خبر کیا ہے علم روحانی تصوف کی دولتہے کیسے کمانی ح...
https://youtu.be/IF5PTmqUZh0 https://youtu.be/c3tlzBOXQqE Very beautiful, fantastic and realistic ghazal in which words are used beautifuly.These verces depict the situation of love 💖,and hate.love is the subject of all times favorite. غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا Watych My exclusive interview Ghazal My hem is no longer bound by loyalty In th...