سساغر صدیقی: ایک تعارف ساغر صدیقی ایسا شاعر ہے جسے میں بچپن سے پڑھتا آیا ہوں سکول دور میں ہی ان کے بارے کتاب خریدی جو پھر ان کی کلیات خریدی جو آج بھی میری ذاتی لائبریری میں موجود ہے ان کا تعارف میں آپ کو انہی کی تحریر سے کرواتا ہوں اردو شاعری کے درد آشنا، جنوں صفت اور المیہ کردار شاعر ساغر صدیقی 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد اختر تھا۔ ساغر کا بچپن ایسی شدید غربت میں گزرا جہاں اسکول یا مدرسے کی باقاعدہ تعلیم کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ فاقہ کشی اور محرومی ان کے گھر کی مستقل حقیقت تھی۔ ابتدائی تعلیم اور شعری ذوق کی بیداری Watch my beautiful Naat اسی ماحول میں محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن ساغر کے لیے نعمت ثابت ہوئے۔ ساغر ان کے ہاں آنے جانے لگے اور وہیں سے انہیں ابتدائی تعلیم میسر آئی۔ تاہم انبالہ کی تنگ دستی اور عسرت نے ساغر کے دل میں ایک بے چینی پیدا کر دی۔ چنانچہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں وہ انبالہ کو خیرباد کہہ کر امرتسر جا پہنچے امرتسر: محنت، فن اور شاعری کا سنگم امرتسر میں ساغر نے روزگار کی تلاش میں لکڑی کی کنگھیاں بنانے والی ایک دکان پر ملازمت اختیار ک...
خخبر|افضل شکیل سندھو کے قلم سے نکلا ہوا ایک خوبصورت افسانہ نوٹ قارئین کرام آپ شعر و شاعری پڑھ کر اور سن کر اکتا نہ گئے ہوں اس لیے میں آپ کو اس یکسانیت سے نکالنے کے لیے آپکے لیے ایک افسانہ لے کر حاضر ہوا ہوں یہ افسانہ منتھلی گہراب ساہیوال میں اگست 2003 کو شائع ہوا امید ہے آپ اس افسانے کو پڑھ کر محظوظ ہونگے ۔ خبر،ایک دلچسپ کہانی ایک دلچسپ افسانہ افسانہ خبر ایک دلچسپ کہانی تحریر : افضل شکیل سندھو موسم سرما کی تیز ہوا جسم سے ٹکرا کے گد گدی پیدا کر رہی تھی۔گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسٹیشن سے باہر برقی قمقموں کی ہلکی ہلکی روشنی عجیب مزا دے رہی تھی رات اگرچہ اندھیری تھی لیکن دلکش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نے دس سال کے بعد اپنے پیارے شہر مین قدم رکھا تھا۔اسٹیشن کے باہر رکشے تھے تانگے تھے لیکن میں نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔ سڑک پر پیدل چلتے ہوئے بہت سی یادوں نے گھیرا ڈال لیا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف دکا نیں تھیں کچھ بند کچھ کھلی اور کچھ ادھ کھلی۔ میں اپنے وطن کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس کرنا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک موڑ پر مجھے چائے کی دکان کھلی نظر آئی۔ وہاں تین آدمی چائے پی ...