Oqat e Ass Muyasser hey zindgi ko qaleel || Kati hai umr khyalon ki pervi mn shakeel
Description:
This beautiful ghazal by Afzal Shakeel Sandhu captures the essence of human emotions—hope, despair, longing, and resilience. It reflects on life's brevity, the pains of separation, and the yearning for a radiant ideal. The poet delves into the trials and joys of existence, emphasizing self-reliance amidst life's adversities. A deep exploration of emotions and thoughts, the verses resonate with those who have experienced the bittersweet realities of life.
غزل
اوقات آس میسر ہیں زندگی کو قلیل
کٹی ہے عمر خیالوں کی پیروی میں شکیلؔ
اداس شام کی پلکوں سے موتیوں کا بہاؤ
لمحہ لمحہ جدائی کا ہو چکا ہے طویل
نشاطِ زیست کے لمحات دل کو بھا نہ سکے
زندگی کے ستم کی کیا یہ کم ہے دلیل
وہ روشنی ہے تو میں روشنی کا طالب ہوں
ڈھونڈتا ہوں ابھی تک وہ ایک شکل جمیل
دل سے آنچ کا اخراج لطف دیتا ہے
زمانہ چاہے ہمیں کر لے لاکھ بار رذیل
سہارے اپنوں کے بے سود کاش دنیا میں
خود آپ کرتے ہم اپنی زندگی تشکیل
تفصیل
یہ غزل انسانی زندگی کی مختصر مدت، خوابوں کی پیروی، اور جذباتی کشمکش کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی بہت کم وقت کے لیے میسر ہوتی ہے، مگر انسان اس قلیل وقت کو اکثر خیالوں، خواہشوں اور ادھورے خوابوں کے پیچھے گزار دیتا ہے۔
پہلے شعر میں زندگی کی ناپائیداری اور وقت کی تیزی سے گزر جانے کا احساس نمایاں ہے۔ "خیالوں کی پیروی" ایک ایسا استعارہ ہے جو انسان کی ان خواہشات کی عکاسی کرتا ہے جو اکثر حقیقت کا روپ نہیں دھار پاتیں مگر پوری زندگی انسان کو مصروف رکھتی ہیں۔
اداس شام اور آنکھوں سے بہتے موتی جدائی اور غم کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ منظر قاری کے دل میں ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے، جہاں ہر لمحہ طویل محسوس ہوتا ہے اور وقت جیسے رک سا جاتا ہے۔
شاعر زندگی کی خوشیوں کو بھی سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب زندگی کے دکھ اتنے زیادہ ہوں تو چند لمحوں کی خوشی بھی دل کو مطمئن نہیں کر سکتی۔ یہ احساس انسان کی اندرونی بے چینی اور عدمِ اطمینان کی عکاسی کرتا ہے۔
روشنی اور "شکلِ جمیل" دراصل ایک اعلیٰ مقصد، خوبصورتی یا سچائی کی تلاش کی علامت ہیں۔ شاعر اب تک اس تلاش میں سرگرداں ہے، جو انسانی فطرت کا ایک اہم پہلو ہے کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی حقیقت یا حسن کی تلاش میں رہتا ہے۔
آخری اشعار میں شاعر خودداری اور خود انحصاری کا پیغام دیتا ہے۔ وہ اس خیال کو رد کرتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی خود سنوارنی چاہیے۔
مجموعی طور پر یہ غزل زندگی کی تلخ حقیقتوں، جذباتی گہرائی، اور خود شناسی کا ایک خوبصورت امتزاج ہے جو قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے بلکہ اسے اپنی زندگی کے بارے میں نئے زاویے سے غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
Translation:
Moments of Hope Are Brief for Life is Fleeting
Life has been spent in the heroism of thoughts, Shakeel.
The Flow of Tears from the Lashes of a Sad Evening
Every moment of separation has grown long and weary.
The Joys of Life Failed to Win Over the Heart
Isn't this proof enough of life's relentless trials?
If She Is Light, Then I Am the Seeker of Light
Still searching for that one radiant beauty.
The Heat of the Heart's Release Brings Comfort
No matter how the world demeans us a thousand times.
Relying on Loved Ones Was in Vain in This World
If only we could shape our lives on our own.
Watch my website
Watch this poetry
Another wonderful poetry
Nice ghazal
Watch my another ghazal
Rekhta - Urdu Poetry
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu --------------*-------*--------*---------------- Note : Copyright Disclaimer Under Section 107 of the Copyright Act 1976, allowance is made for "fair use" for purposes such as criticism, comment, news reporting, teaching, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favor of fair use. _________Thanks For Watching___
Comments
Post a Comment