Skip to main content

Posts

Showing posts from May, 2023

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Mir Unees vs Mirza Dabeer: A Comparative Study of Urdu Marsiya Poetry

میر انیس و مرزا دبیر انیسویں صدی کے لکھنؤ میں اردو مرثیہ نگاری کا جو سنہری دور تھا، اس کی سب سے یادگار اور پرجوش فصل میر انیس اور مرزا دبیر کے معرکوں نے سجائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عزاداری محرم کی مجالس نہ صرف عقیدت کا مرکز تھیں بلکہ ادبی معرکہ آرائی کا میدان بھی بن گئی تھیں۔ لکھنؤ کی تہذیب و ادب پرور فضا میں دونوں عظیم مرثیہ گوؤں کے حامیوں میں "انیسیہ" اور "دبیریہ" کے نام سے دو گروہ بن گئے، جو ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے استاد کے فن کی برتری ثابت کرنے کے لیے دل و جان سے لگے رہے۔ یہ معرکے "گھمسان کا رن" کی مانند تھے، مگر یہ رن تلواروں کا نہیں، الفاظ، تشبیہات، بندشوں اور تصویر کشی کا تھا۔ تاریخی پس منظر مرزا سلامت علی دبیر (پیدائش: 29 اگست 1803ء، دہلی — وفات: 6 مارچ 1875ء، لکھنؤ) دہلی سے لکھنؤ آئے اور میر مظفر حسین ضمیر کی شاگردی میں مرثیہ نگاری کا فن سیکھا۔ ان کے مرثیوں میں عربی و فارسی کے گہرے مطالعے کی جھلک ملتی تھی، وہ مضمون آفرینی، تخیل اور بلیغ الفاظ کے استعمال میں ماہر تھے۔ انہوں نے ہزاروں مرثیے لکھے، جن میں ایک پورا مرثیہ "بے نقط" بھ...

خوابوں کا ایک شہر Khawabon Ka Ek Shehar – A Poem About Peace, Humanity & A World Without War

خوابوں کا ایک شہرKhawabon Ka Ek Shehar – A Poem About Peace, Humanity & A World Without War خوابوں کا ایک شہر ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دل میں سجا ہوا وہ شہر جس میں امن و محبت کی آرزو کھل کھل کے پھول بننے کا اظہار کر چکی رنج و ملال گر چہ ہیں تقدیر زندگی تقدیر دھول بننے سے انکار کر چکی آو نہ آج مل کر سارے ہم کریں خوابوں کی سرزمیں کو بچانے کی جستجو لمحات قیمتی ہیں میرے دوستو کریں ہم تصورات کو پانے کی جستجو ورنہ تو جوہروں کے یہ کشتے کمال ہیں لمحوں کو اب عروج ہے کل یہ زوال ہیں آو بچایئں گھر کو سبھی پرملال ہیں خطرے تاریکیوں کے ابھی نو نہال ہیں ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دلمیں سجا ہوا میں نے یہ نظم ایٹمی ہتھیاروں کی دنیا بھر میں بھرمار کے خلاف لکھی تھی۔ مقصد صاف ظاہر ہے کے دنیا میں ایٹمی جنگوں کو روک کر دنیا کو پر امن اور انسانوں کے رہنے کے قابل بنانا ہے۔اس نظم میں نے یہی کہنا چاہا ہے کہ ابھی ان جنگوں کے خطرے نو نہال ہیں ابھی تمام انسان ان خطرات کو مل کر روک سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک دفع یہ جن...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا زکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی ترح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کحل جاتے ہینہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمھے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نع رھمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ صر...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp