گدی نشین | ایک تلخ سچ پر مبنی نظم گدی نشین ایک بہترین اردو نظم ہے جس میں افضل شکیل سندھو نے جعلی روحانی پیشواؤں اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ مکمل نظم اور تفصیل پڑھیں۔ گدی نشین سمجھتے ہیں لوگوں کو کمی کمین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین دین خدا سے لگن کاش ہو ذکر و فکر میں مگن کاش ہو سمجھتے ہیں غربہ سے ملنا توہین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین شریعت کی جن کو خبر تک نہیں شرافت میں جن کی لگر تک نہیں یہ توڑ لیتے ہیں غلچے حسین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین اصولوں سے انکو جدائی لکھی ہے قسمت میں جیسے برائی لکھی ہے سیاست کے سارے یہ پکے شوقین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین میں نوش بدزن اراضی کے وارث کبھی بھی نہ سیکھا اسوہ حارث مقدس مقامات کے ہیں امین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین دیہی ابادی کو بھٹکائے رکھنا پہنچے ہوئےخود کو منوائے رکھنا مریدوں کو ہوتا ہے پورا یقین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین ولی اللہ اللہ کی الفت کا حامل رسول خدا کے پیاروںمیں شامل خدا کے لیے جھکتی تھی وہ جبین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین انہیں کیا خبر کیا ہے علم روحانی تصوف کی دولتہے کیسے کمانی ح...
خوابوں کا ایک شہر خوابوں کا ایک شہر ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دل میں سجا ہوا وہ شہر جس میں امن و محبت کی آرزو کھل کھل کے پھول بننے کا اظہار کر چکی رنج و ملال گر چہ ہیں تقدیر زندگی تقدیر دھول بننے سے انکار کر چکی آو نہ آج مل کر سارے ہم کریں خوابوں کی سرزمیں کو بچانے کی جستجو لمحات قیمتی ہیں میرے دوستو کریں ہم تصورات کو پانے کی جستجو ورنہ تو جوہروں کے یہ کشتے کمال ہیں لمحوں کو اب عروج ہے کل یہ زوال ہیں آو بچایئں گھر کو سبھی پرملال ہیں خطرے تاریکیوں کے ابھی نو نہال ہیں ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دلمیں سجا ہوا میں نے یہ نظم ایٹمی ہتھیاروں کی دنیا بھر میں بھرمار کے خلاف لکھی تھی۔ مقصد صاف ظاہر ہے کے دنیا میں ایٹمی جنگوں کو روک کر دنیا کو پر امن اور انسانوں کے رہنے کے قابل بنانا ہے۔اس نظم میں نے یہی کہنا چاہا ہے کہ ابھی ان جنگوں کے خطرے نو نہال ہیں ابھی تمام انسان ان خطرات کو مل کر روک سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک دفع یہ جنگیں کسی جنون کی بنا پر شروع ہو گیئں تو انہیں روکنا نا ممکن ہو جائے گا اور انسا...