آنکھیں بچپن کی شاعری: ایک ابتدائی تخلیق تعارف یہ نظم شاعر کے اس دور کی یادگار ہے جب انہوں نے ابھی باقاعدہ طور پر اپنا تخلص "شکیل" بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ یہ تخلیق نہ صرف ایک معصوم ذہن کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس میں وہ گہرائی بھی موجود ہے جو بعد میں ایک پختہ شاعر کی پہچان بنتی ہے۔ اس شاعری میں محبت، محرومی، اور سماجی رویوں کے اثرات کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر کے اندر تخلیقی صلاحیت شروع ہی سے موجود تھی۔ نظم آنکھیں بلند و بام دریچوں سے جھانکتی آنکھیں دل فگار کو آباد کر کے کیا لیں گی کسی کو اپنا بنانے کی نقرئی یاسیں سکون شہر کو برباد کر کے کیا لیں گی رہی نہ شہر خموشاں میں بھی خاموشی چراغ دل اور دنیا ہنوز بے ہوشی جو اعتبار نہیں ہے ہمیں محبت پر نحیف دل کو وہ فرہاد کر کے کیا لیں گی ہر ایک چیز بھلی ہے نگار خانے کی مراد ہے انہیں دولت بھرے زمانے کی پھنسا ہی لیتے ہیں مغرور جال بینش میں غریب شخص کو ناشاد کر کے کیا لیں گی نہ دیکھ افضل بےذوق تم تو ناداں ہو ابتدا کوچ ہے کوچے سے جس پہ شاداں ہو ہماری گنگ زبان...
خوابوں کا ایک شہرKhawabon Ka Ek Shehar – A Poem About Peace, Humanity & A World Without War خوابوں کا ایک شہر ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دل میں سجا ہوا وہ شہر جس میں امن و محبت کی آرزو کھل کھل کے پھول بننے کا اظہار کر چکی رنج و ملال گر چہ ہیں تقدیر زندگی تقدیر دھول بننے سے انکار کر چکی آو نہ آج مل کر سارے ہم کریں خوابوں کی سرزمیں کو بچانے کی جستجو لمحات قیمتی ہیں میرے دوستو کریں ہم تصورات کو پانے کی جستجو ورنہ تو جوہروں کے یہ کشتے کمال ہیں لمحوں کو اب عروج ہے کل یہ زوال ہیں آو بچایئں گھر کو سبھی پرملال ہیں خطرے تاریکیوں کے ابھی نو نہال ہیں ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دلمیں سجا ہوا میں نے یہ نظم ایٹمی ہتھیاروں کی دنیا بھر میں بھرمار کے خلاف لکھی تھی۔ مقصد صاف ظاہر ہے کے دنیا میں ایٹمی جنگوں کو روک کر دنیا کو پر امن اور انسانوں کے رہنے کے قابل بنانا ہے۔اس نظم میں نے یہی کہنا چاہا ہے کہ ابھی ان جنگوں کے خطرے نو نہال ہیں ابھی تمام انسان ان خطرات کو مل کر روک سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک دفع یہ جن...