Tufail Hoshiarpuri: The Melodious Ghazals and Naat Reciterسوانحِ حیات طفیل ہوشیارپوری
میں نے طفیل ہوشیارپوری کو پی ٹی وی کے سالانہ مشاعروں کے ذریعے پہچانا۔ وہ اپنا کلام ہمیشہ ترنم میں پڑھا کرتے تھے، اور اسی اندازِ ادائیگی نے انہیں میرے اُن پسندیدہ شعرا میں شامل کر دیا جنہیں میں کم عمری ہی سے پسند کرتا آیا ہوں۔ پی ٹی وی پر یا تو رمضان شریف کے موقع پر نعتیہ مشاعرہ نشر ہوتا تھا یا پھر سالانہ مشاعرہ رات گئے دکھایا جاتا تھا۔ چونکہ مجھے شعر و ادب سے بچپن ہی سے گہرا لگاؤ رہا ہے، اس لیے شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا کہ میں ان مشاعروں کو دیکھنے سے محروم رہ جاؤں۔
ان کے آخری دور کے ایک پنجابی مشاعرے میں، انہوں نے پنجابی زبان میں ایک نعت ترنم کے ساتھ پیش کی، جس کا پہلا شعر آج بھی میری یادداشت میں محفوظ ہے۔ہ پنجابی شعر یوں ہے
اوہدی جھولی کدی رہندی نیئں خالی
جو ہے میرے محمد ﷺ دا سوالی
ان کی آواز نہایت خوبصورت تھی، اور وہ بڑی دلکشی کے ساتھ کلام پڑھا کرتے تھے۔ ان کا کچھ کلام آج بھی ان ہی کی آواز میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ انہی میں ان کی ایک غزل خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اس غزل کا مطلع نہایت عمدہ تخلیق ہے، جو اس طرح ہے
تیرے غم کا نہ بھید کھولیں گے
ہم بغیر آنسوؤں کے رو لیں گے
Watch my Poem SURAAGHابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر
طفیل ہوشیارپوری کا اصل نام محمد طفیل تھا۔ آپ 1912ء میں ہوشیارپور (برطانوی ہندوستان، موجودہ بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ہوشیارپور اس زمانے میں علمی و ادبی سرگرمیوں کا ایک معتبر مرکز تھا، جس نے ان کے ذوقِ ادب کو ابتدائی عمر ہی میں جِلا بخشی۔ انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اردو، فارسی اور پنجابی ادب کا گہرا مطالعہ کیا۔
ادبی سفر کا آغاز
طفیل ہوشیارپوری نے اپنے عملی کیریئر کا آغاز برطانوی ہندوستان میں اپنے آبائی شہر ہوشیارپور میں ایک اسکول ٹیچر کی حیثیت سے کیا۔ جب برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کی تحریک نے زور پکڑا اور تحریکِ پاکستان اور آل انڈیا مسلم لیگ کو عوامی مقبولیت حاصل ہونے لگی تو طفیل ہوشیارپوری مسلم لیگ کے سیاسی جلسوں میں حب الوطنی پر مبنی نظمیں پڑھنے لگے۔
برطانوی حکام نے اس سیاسی سرگرمی کے باعث انہیں ملازمت سے معطل کر دیا۔ اسی دوران اُس وقت کے معروف فلم اداکار آغا سلیم رضا نے انہیں چند فلمی پروڈیوسروں سے متعارف کرایا، جس کے نتیجے میں 1946ء میں انہوں نے فلمی گیت نگار کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ قیامِ پاکستان سے قبل، 1947ء سے پہلے، انہوں نے برطانوی ہندوستان میں بننے والی چند فلموں کے لیے نغمے تحریر کیے۔
1947 ء میں تقسیمِ ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے لاہور، پاکستان آ گئے اور یہاں صحافت کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ بعد ازاں 1952ء میں انہوں نے ریڈیو پاکستان، لاہور میں شمولیت اختیار کی۔
طفیل ہوشیارپوری نے شاعری کا آغاز کم عمری میں کیا۔ ابتدا میں غزل کہی، بعد ازاں نظم، نعت اور پنجابی شاعری میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی شعری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید احساسات کو اپنی آواز دی۔
اسلوبِ شاعری اور فکری جہات
ان کی شاعری کا بنیادی وصف سادگی، سوز اور داخلیت ہے۔ غزل میں وہ انسانی غم، خاموش درد، ضبط اور تہذیبی وقار کو نہایت نفاست سے برتتے ہیں۔ ان کے اشعار میں جذبات کا اظہار شور سے نہیں بلکہ گہرے سکوت سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں قاری کے دل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔
نعتیہ اور پنجابی شاعری
طفیل ہوشیارپوری کو نعتیہ شاعری میں بھی خاص مقام حاصل ہے۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان میں بھی نعتیں کہیں، جو عقیدت، خلوص اور سادگی کا خوبصورت نمونہ ہیں۔ ان کی پنجابی نعتیں عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوئیں، خصوصاً وہ نعت جو انہوں نے مشاعروں میں ترنم کے ساتھ پیش کی۔
مشاعرے اور ترنم
طفیل ہوشیارپوری کو پاکستان ٹیلی وژن (PTV) کے سالانہ اور نعتیہ مشاعروں کے ذریعے ملک گیر شہرت ملی۔ ان کی آواز نہایت سریلی، شائستہ اور پراثر تھی۔ وہ اپنا کلام ترنم میں پڑھتے تھے، جس سے اشعار کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ ان کا مشاعرانہ انداز آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
تصانیف و ادبی خدمات
اگرچہ طفیل ہوشیارپوری نے زیادہ تر شہرت مشاعروں اور غزل گوئی کے ذریعے حاصل کی، تاہم ان کے مجموعے اور منتشر کلام اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کا کلام رسائل، جرائد اور ادبی نشستوں میں باقاعدگی سے شائع اور پڑھا جاتا رہا۔
شخصیت اور ادبی وقار
وہ نہایت منکسرالمزاج، باوقار اور سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے۔ شہرت کے باوجود انکساری ان کی شخصیت کا نمایاں وصف رہی۔ ادبی حلقوں میں ان کا احترام کیا جاتا تھا اور ہم عصر شعرا انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
وفات اور ادبی مقام
طفیل ہوشیارپوری کا انتقال 4 جنوری 1993ء کو ہوا۔ آپ کو ماڈل ٹاؤن قبرستان، لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات سے اردو اور پنجابی شاعری ایک خوش آہنگ، باوقار اور درد مند آواز سے محروم ہو گئی۔ آج بھی ان کا کلام، خصوصاً ترنم میں پڑھی گئی غزلیں اور نعتیں، سامعین اور قارئین کے دلوں کو متاثر کرتی ہیں اور ادبِ اردو میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔
Watch my Poem SHAK
| نغمے کا عنوان | گلوکار | شاعر | موسیقار | فلم / نوٹس |
|---|---|---|---|---|
| نی سہائے چوڑے والئیے، تُو اک بار آ جا | عنایت حسین بھٹی | طفیل ہوشیارپوری | ماسٹر عنایت حسین | یہ نغمہ نئی آزاد ریاستِ پاکستان میں موسیقار عنایت حسین اور شاعر طفیل ہوشیارپوری دونوں کے لیے ایک بریک تھرو ہٹ ثابت ہوا — فلم شمی (1950) |
| دل کو لگا کے کہیں ٹھوکر نہ کھانا، ظالم زمانہ ہے یہ ظالم زمانہ | منور سلطانہ، علی بخش ظہور | طفیل ہوشیارپوری | ماسٹر غلام حیدر | فلم بےقرار (1950) |
| راتاں میراں بنا کے ربّا انہیراں، نصیباں والے تارے ڈُب گئے | زبیدہ خانم | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم شہری بابو (1953) |
| بھگن والیو، نام جپو مولا نام | عنایت حسین بھٹی | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم شہری بابو (1953) |
| چھڈ جاویں نہ چنّا بانہہ پھڑ کے | زبیدہ خانم | طفیل ہوشیارپوری | غلام احمد چشتی | فلم پتن (1955) |
| بندے چاندی دے، سونے دی نَتھ لے کے | زبیدہ خانم | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم چن ماہی (1956) |
| واسطہِ رب دا تُوں جائیں وے کبوترے | منور سلطانہ | طفیل ہوشیارپوری | جی۔ اے۔ چشتی | فلم دُلا بھٹی (1956) |
| تیری الفت میں صنم، دل نے بہت درد سہے | زبیدہ خانم | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم سرفروش (1956) |
| پھر لیئاں چن ماہی اکھیاں، ڈُب گئے آس دے تارے | زبیدہ خانم | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم چن ماہی (1956) |
| ساڈے انگ انگ وچ پیار نے پینگاں پائیاں نے | زبیدہ خانم، سلیم رضا | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم چن ماہی (1956) |
| نین سے نین ملائے رکھنے کو | بڑے فتح علی خان، زاہدہ پروین و دیگر | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم وعدہ (1957) |
| ساڈی نظراں توں ہوئیاں کیوں دور دس جا | عنایت حسین بھٹی | طفیل ہوشیارپوری | جی۔ اے۔ چشتی | فلم زلفاں (1957) |
| آئے موسم رنگیلے سہانے، جیا نہ ہی مانے، تُو چھٹی لے کے آ جا بلما | زبیدہ خانم | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم سات لاکھ (1957) |
| بانوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری، چندا سے پیار | نور جہاں | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم انارکلی (1958) |
| اے مردِ مجاہد، جاگ ذرا، اب وقتِ شہادت ہے آیا | عنایت حسین بھٹی و دیگر | طفیل ہوشیارپوری | رشید عطرے | فلم چنگیز خان (1958) |
| او دلّاں دیاں میلیاں نے چن جیہاں صورتاں | عنایت حسین بھٹی | طفیل ہوشیارپوری | جی۔ اے۔ چشتی | فلم مٹی دیاں مُورتاں (1960) |
اعزازات اور پہچان
طفیل ہوشیارپوری کو 1994ء میں صدرِ پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
Tufail Hoshiarpuri
I came to know Tufail Hoshiarpuri through PTV’s annual mushairas. He always recited his poetry in a melodious, rhythmic style, and it was this very manner of recitation that made him one of my favorite poets—poets I have admired since my early childhood.
On PTV, either a Naatia Mushaira was broadcast during the month of Ramadan, or the annual mushaira was aired late at night. As I have had a deep attachment to poetry and literature since childhood, it was rare for me to miss these programs.
In one of the Punjabi mushairas from the later phase of his career, he recited a Punjabi Naat in tarannum. The first verse of that
Naat is still preserved in my memory.
The Punjabi couplet is as follows:
His lap is never left empty,
Who is a humble supplicant of my Muhammad (ﷺ).
His voice was extremely beautiful, and he recited his poetry with great grace and charm. Some of his work is still available on the internet in his own voice. Among them, one of his ghazals is especially noteworthy. The opening couplet (matla) of this ghazal is a remarkable creation, which goes like this:
We will not reveal the secret of your sorrow,
We shall weep without shedding tears.
Biography of Tufail Hoshiarpuri
Wach My poem Jhoomer
Early Life and Education
Tufail Hoshiarpuri was born in 1912 in Hoshiarpur, British India (now in India). His real name was Muhammad Tufail. Hoshiarpur was an important center of literary and cultural activity at that time, which greatly influenced his intellectual and artistic development. He received formal education and developed a deep interest in Urdu, Persian, and Punjabi literature.
Beginning of Literary Career
He started his career as a school teacher in his hometown Hoshiarpur, British India. As the call for the British to quit India grew, the Pakistan movement and the All India Muslim League gained popularity. Tufail Hoshiarpuri started reading patriotic poems in Muslim League political gatherings. British authorities suspended him from his job as a school teacher. Agha Saleem Raza, a film actor at that time, introduced him to some film producers and he, therefore, launched his career as a film song lyricist in 1946. He wrote film songs for some films in British India before the independence of Pakistan in 1947.
After the partition in 1947, he migrated to Lahore, Pakistan and started his career as a journalist there. He later joined Radio Pakistan, Lahore in 1952.
He began writing poetry at a young age. Initially, he focused on ghazal, but later expanded his creative expression to nazm, naat, and Punjabi poetry. His work reflects a fine balance between classical tradition and modern sensibility.
Poetic Style and Themes
The hallmark of Tufail Hoshiarpuri’s poetry is simplicity, emotional depth, and restraint. His ghazals often explore inner sorrow, silent suffering, patience, and refined emotional expression. Rather than loud dramatization, his poetry speaks through calmness and subtle intensity.
Naat and Punjabi Poetry
He holds a distinguished position in Naatia poetry as well. Alongside Urdu, he composed Punjabi naats that are marked by sincerity, devotion, and lyrical beauty. These Punjabi compositions gained immense popularity, especially when recited in a melodious style during mushairas.
Mushairas and Tarannum
Tufail Hoshiarpuri gained nationwide recognition through annual and naatia mushairas broadcast on Pakistan Television (PTV). His voice was exceptionally melodious and dignified. He recited his poetry in tarannum (rhythmic style), which enhanced the emotional impact of his verses. His mushaira performances are still fondly remembered.
Literary Contributions
Although he was primarily known for his ghazals and public recitations, his poetic collections and scattered works remain an important part of Urdu literary heritage. His poetry was regularly published in literary magazines and appreciated in literary circles.
Personality and Literary Standing
He was known for his humility, grace, and seriousness of temperament. Despite fame, he remained modest and dignified. Among his contemporaries, he enjoyed great respect and was regarded as a poet of refined taste and emotional depth.
Death and Legacy
Tufail Hoshiarpuri passed away on 4 January 1993. He was laid to rest at the Model Town Graveyard, Lahore. His death marked the loss of a melodious, dignified, and emotionally profound voice in Urdu and Punjabi poetry. Even today, his ghazals and naats—especially those recited in tarannum—continue to resonate with readers and listeners alike.
Poetry Mehfil
Popular film songs
Awards and recognition
Pride of Performance Award by the President of Pakistan in 1994.See Qawali Saanson ki mala pe By Nusrat Fateh Ali Khan and written By Tufail Hoshiarpuri
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu


سانسوں کی مالا پر سمروں نس دن پی کا نام
ReplyDeleteاپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام
پریم کے رنگ میں ایسے ڈوبی بن گیا ایک ہی روپ
شیام کی مالا جپتے جپتے آپ بنی میں شیام
انگ انگ میں رچی ہوئی ہے یوں موہن کی پریت
ایک آنکھ ورنداون میری دوجی گوکل دھام
پریم پیالہ جب سے پیا ہے جی کا ہے یہ حال
انگاروں پر نیند آ جائے کانٹوں پر آرام
پیتم کا کچھ دوش نہیں ہے وہ تو ہیں نردوس
اپنے آپ سے باتیں کر کے ہو گئی میں بدنام
جاگ اٹھتی ہے جب ہردے میں پریم کی سچی جوت
اس نگری میں ہو جاتا ہے پیتم کا وشرام
جی نے جب سے جان لیا ہے دکھ بھی ہے ان کی دین
پاپ سمجھ رکھا ہے میں نے لینا سکھ کا نام
جیون کا سنگار ہے پریتم مانگ کا ہے سندور
پریتم کی نظروں سے گر کر جینا ہے کس کام
درشن جل کی پیاسی آنکھیں رو رو کر گئیں سوکھ
اندھیاروں میں ڈوب گئے برہن کے صبح و شام
طفیل ہشیارپوری
This comment has been removed by the author.
Deleteاع
ReplyDeleteبہت اعلیٰ
ReplyDeleteشکریہ
Deleteبہت اعلیٰ
ReplyDeleteShukriya
Deleteآج اس آرٹیکل سے پتا چلا اتنے مشہور پنجابی اور اردو گیت طفیل ہوشیارپوری کے لکھے ہوئے ہیں
ReplyDeleteThank you
Deleteواسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا، چٹھی میرے ڈھول نوں پچاویں وے کبوترا
ReplyDeleteاللہ کی رحمت کا سایا، توحید کا پرچم لہرایا ، اے مردِ مجاہد جاگ ذرا ، اب وقتِ شہادت ہے آیا
آج ان نغموں کے خالق طفیل ہوشیار پوری کی 33 ویں برسی ہے
طفیل ہوشیار پوری 17 جولائی 1914 کو پیدا ہوئےاور 4 جنوری 1993 کو انتقال ہوا۔
طفیل ہوشیار پوری نےعملی زندگی کا آغاز معلمی سے کیا۔ بعد میں فلمی دنیا اور مشاعروں کے ہوگئے۔ ماہنامہ ’’محفل‘‘ اور ہفت روزہ ’’صاف گو‘‘ جاری کئے ۔ کوئی مشاعرہ ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں بعد از مرگ تمغۂ حسنِ کارکردگی کا اعزاز دیا ۔
بے قرار، ریحانہ، چپکے چپکے، پرائے دیس مین، گلنار، شمی، دلا بھٹی، چن ماہی، سر فروش، روحی، وعدہ، شہری بابو، مٹی دیاں مورتاں، قسمت کی کامیابی میں طفیل ہوشیار پوری کے گانوں کا بھی حصہ تھا۔
طفیل ہوشیار پوری کے مجموعہ ہائے کلام :
میرے محبوب وطن، جامِ مہتاب، ساغرِ خورشید، شعلۂ جام، تجدیدِ جام، تجدیدِ شکوہ، رحمتِ یزداں
کچھ اور مقبول نغمات :
نی سوہے چوڑے والئے ( شمی)
راتاں میریاں بنا کے ربا نھیریاں، نصیباں والے تارے ڈب گئے ( شہری بابو)
اکھاں کھول کے پچھان، میں ہوگئی آں جوان ( گڈی گڈا)
ساڈے انگ انگ وچ پیار نے پینگھاں پائیاں نے (چن ماہی)
بُندے چاندی دے سونے دی نتھ لے کے (چن ماہی)
تینوں چم چم دل نال لاواں ، چٹھیے سجناں دئیے (چن ماہی)
ماہی موت دا سنیہا دتا گھل وے (چن ماہی)
ساڈیاں نظراں توں ہویوں کاہنوں دور دس جا ( زلفاں)
ناں ناں ناں چھڈ میری بانہہ (زلفاں)
کرے ناں بھروسہ کوئی دنیا دے پیار دا ( مٹی دیاں مورتاں )
میری چنی دیاں ریشمی تنداں
shukriya janab
DeleteWah bohat khooob
ReplyDeleteBohat shukriya tareekh padaish mn ferq hey lekin jo mn search ki or confirm krney ki koshish ki wo 1912 hi hey
DeleteBohat umdah article
ReplyDeleteThanks
DeleteUmda
ReplyDeleteThanks
ReplyDeleteان کے لکھے ہوئے گیت بہت مقبول اور عوام میں مشہور ہیں بڑے بڑے گلوکاروں نے ان کے لکھے گیت گائے وہ بڑے شاعر تھے اور اچھے انسان تھے
ReplyDeleteکوئی شک نہیں اس بات میں
Deleteزندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جایئں ہم تو کیا
ReplyDeleteدنیا سے خاموشی سے گزر جایئں ہم تو کیا
یہ غزل تو اخیر ہے
ye ghazal Munier Niazi ki hey
Deleteبہت خوب اعلیٰ درجے کا مضمون ہے اور اسکو پڑھ کر کتنی ساری معلومات میں اضافہ ہوا ہے
ReplyDeleteبہت نوازش آپ کی
Deleteاس تحریر میں دیئے گئے مواد کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طفیل ہوشیارپوری ایک بڑے اور اہم شاعر تھے
ReplyDeleteیقیناً
Deleteعمدہ تخلیقی صلاحیتوں کا مالک تھا
ReplyDeleteتخلیقی صلاحیتیں بھی رب کی عنایت سے ہی ممکن ہوتی ہیں
ReplyDeletewonderful poetry
ReplyDeleteun ka likha hua geet saanso ki mala to amr ho gya hey
ReplyDeleteآپ نے سو فیصد درست فرمایا استاد نصرت فتح علی خان نے اس کو گایا شہرت پاتے پاتے اب یہ امر ہو گیا ہے اب ہر چھوٹے بڑے گلوکار نے اسے گایا ہے
DeleteWah tufail wah
ReplyDelete