اصل روز الست سے تجھ کو ڈھونڈنے نکلا ہوں اتنی عمر گزاری تیری چاہت میں صدیوں پہلے میں نے رب کے سامنے تیرا نام لیا اتنےزمانوں بعد بھی مجھ کو تیرے نام نے تھام لیا جب تک اسیر قفس عنصری ہوں اس قید سے آزادی تک میں تجھے تلاش کرتا رہا تیری ہستی کے اک اک پہلو کا دم بھرتا رہا کیونکہ ہر نقل اصل کی طرف گامزن ہے تو میری اصل ہے یا رحمت عالم حدیثِ جابر بن عبداللہؓ (حدیثِ نور) اور میری نظم کا باطنی پس منظر اسلامی روایت میں ایک مشہور روایت “حدیثِ نور” کے نام سے معروف ہے جسے حضرت جابر بن عبداللہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس روایت کے مطابق جب جابرؓ نے حضور اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا فرمایا؟ تو جواب میں نورِ محمدی ﷺ کا ذکر آیا۔ اگرچہ اس روایت کی اسنادی حیثیت پر محدثین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن صوفیاء اور اہلِ محبت نے اسے ایک روحانی حقیقت اور عرفانی استعارے کے طور پر قبول کیا ہے۔ اس تصور کے مطابق کائنات کی تخلیق کا آغاز نورِ محمدی ﷺ سے ہوا اور تمام موجودات اسی نور کی تجلیات ہیں۔ یہی وہ فکری پس منظر ہے جو میری نظم کے باطن میں موجزن تھا۔ ...
دنیا کی تمنا ہے نہ دولت کی طلب ہے duniya ki tamna hey na dolat ki talb hey Naat This "Naat" (a form of poetry in praise of the Prophet Muhammad) by Afzal Shakeel Sandhu is an exquisite expression of love, reverence, and devotion. The poet articulates his deep spiritual connection and admiration for the Prophet Muhammad, highlighting the transformative power of his presence and the peace he brings to the poet's life. Let's delve into the poem's description and analysis: Description of the Naat *1. Beyond Worldly Desires:* The poet begins by declaring that he has no desire for worldly wealth or status. His heart, filled with love for the Prophet, finds its ultimate solace and purpose in this divine love. This line sets a tone of spiritual transcendence, where material desires are insignificant compared to the love for the Prophet. *2. Unique Beauty:* The poet asserts that the beauty of the world pales in comparison to the unique and unparalleled grace of...