Tufail Hoshiarpuri: The Melodious Ghazals and Naat Reciterسوانحِ حیات طفیل ہوشیارپوری میں نے طفیل ہوشیارپوری کو پی ٹی وی کے سالانہ مشاعروں کے ذریعے پہچانا۔ وہ اپنا کلام ہمیشہ ترنم میں پڑھا کرتے تھے، اور اسی اندازِ ادائیگی نے انہیں میرے اُن پسندیدہ شعرا میں شامل کر دیا جنہیں میں کم عمری ہی سے پسند کرتا آیا ہوں۔ پی ٹی وی پر یا تو رمضان شریف کے موقع پر نعتیہ مشاعرہ نشر ہوتا تھا یا پھر سالانہ مشاعرہ رات گئے دکھایا جاتا تھا۔ چونکہ مجھے شعر و ادب سے بچپن ہی سے گہرا لگاؤ رہا ہے، اس لیے شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا کہ میں ان مشاعروں کو دیکھنے سے محروم رہ جاؤں۔ ان کے آخری دور کے ایک پنجابی مشاعرے میں، انہوں نے پنجابی زبان میں ایک نعت ترنم کے ساتھ پیش کی، جس کا پہلا شعر آج بھی میری یادداشت میں محفوظ ہے۔ہ پنجابی شعر یوں ہے جس کی جھولی کبھی خالی نہیں رہتی جو میرے محمد ﷺ کا سوالی ہے ان کی آواز نہایت خوبصورت تھی، اور وہ بڑی دلکشی کے ساتھ کلام پڑھا کرتے تھے۔ ان کا کچھ کلام آج بھی ان ہی کی آواز میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ انہی میں ان کی ایک غزل خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اس غزل کا مطلع نہایت عمد...
Aaj aap k liye aik qata,a le kr hazir hua hoon Is umeed k Saath k aap ko Pasand aye ga or aap Pasand krtey hue like, comment or subscribe kren gey. قطعہ qata,a نیست کو ہست کر کے چھوڑ دیا وعدہ الست کر کے چھوڑ دیا تو بھی مالک عجیب مالک ہے اوج کو۔ پست کر کے چھوڑ دیا Neest ko hast kr k chor diya Wada e alast kr k chor diya TU b maalik ajeeb maalik he Ouj ko past kr k chor diya Here is the description and translation of the given verses in English: Verse in Roman Urdu: Nīst ko hast kar ke choṛ diyā Waʿda alast kar ke choṛ diyā To bhī mālik ʿajīb mālik hai Auj ko past kar ke choṛ diyā Description and Translation: Nīst ko hast kar ke choṛ diyā Translation: "He turned non-existence into existence and then left it." Description: This line suggests the act of creation, where something that did not exist (non-existence) was brought into being (...