```html حفیظ تائبؒ — اردو، پنجابی، عربی اور فارسی کے عہد ساز نعت گو شاعر، محقق اور نقاد 🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙 یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔ ذاتی زندگی اور تعارف اصل نام: عبد الحفیظ تخلص: تائب پیدائش: 14 فروری 1931ء کو پشاور (ننہال) میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی شہر احمد نگر، ضلع گوجرانوالہ تھا۔ والد کا نام: حاجی چراغ دین منہاس قادری، جو ایک امام، خطیب اور ادیب تھے۔ وفات: کینسر کے عارضے کے باعث 13 جون 2004ء کو لاہور میں وفات پائی اور علامہ اقبال ٹاؤن (کریم بلاک) کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی حفیظ تائب نے ابتدائی تعلیم دلاور نگر اور مڈل احمد نگر سے حاصل کی، جبکہ میٹرک گجرات سے کیا۔ ذوق کے مطابق اردو اور پنجابی میں بی اے کا امتحان پرائیویٹ پ...
ننیست کو ہست کر کے چھوڑ دیا Aaj aap k liye aik qata,a le kr hazir hua hoon Is umeed k Saath k aap ko Pasand aye ga or aap Pasand krtey hue like, comment or subscribe kren gey. قطعہ نیست کو ہست کر کے چھوڑ دیا وعدہ الست کر کے چھوڑ دیا تو بھی مالک عجیب مالک ہے اوج کو۔ پست کر کے چھوڑ دیا Read My Poem GHAR PYARA GHAR click here Neest ko hast kr k chor diya Wada e alast kr k chor diya TU b maalik ajeeb maalik he Ouj ko past kr k chor diya اردو تفصیل یہ قطعہ ایک گہری فلسفیانہ سوچ اور انسانی وجود کے رازوں کو نہایت مختصر مگر پراثر انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر نے تخلیق کے عمل، وعدۂ الست اور انسان کی تقدیر میں موجود اتار چڑھاؤ کو بڑی مہارت سے شعری قالب میں ڈھالا ہے۔ پہلے مصرعے میں "نیست" سے "ہست" تک کا سفر بیان کیا گیا ہے، جو کائنات اور انسان کی تخلیق کا ایک علامتی اظہار ہے۔ دوسرے مصرعے میں وعدۂ الست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ازلی رش...