میر انیس و مرزا دبیر انیسویں صدی کے لکھنؤ میں اردو مرثیہ نگاری کا جو سنہری دور تھا، اس کی سب سے یادگار اور پرجوش فصل میر انیس اور مرزا دبیر کے معرکوں نے سجائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عزاداری محرم کی مجالس نہ صرف عقیدت کا مرکز تھیں بلکہ ادبی معرکہ آرائی کا میدان بھی بن گئی تھیں۔ لکھنؤ کی تہذیب و ادب پرور فضا میں دونوں عظیم مرثیہ گوؤں کے حامیوں میں "انیسیہ" اور "دبیریہ" کے نام سے دو گروہ بن گئے، جو ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے استاد کے فن کی برتری ثابت کرنے کے لیے دل و جان سے لگے رہے۔ یہ معرکے "گھمسان کا رن" کی مانند تھے، مگر یہ رن تلواروں کا نہیں، الفاظ، تشبیہات، بندشوں اور تصویر کشی کا تھا۔ تاریخی پس منظر مرزا سلامت علی دبیر (پیدائش: 29 اگست 1803ء، دہلی — وفات: 6 مارچ 1875ء، لکھنؤ) دہلی سے لکھنؤ آئے اور میر مظفر حسین ضمیر کی شاگردی میں مرثیہ نگاری کا فن سیکھا۔ ان کے مرثیوں میں عربی و فارسی کے گہرے مطالعے کی جھلک ملتی تھی، وہ مضمون آفرینی، تخیل اور بلیغ الفاظ کے استعمال میں ماہر تھے۔ انہوں نے ہزاروں مرثیے لکھے، جن میں ایک پورا مرثیہ "بے نقط" بھ...
Home Sweet Home , Ghar Pyara Ghar
This poem published in Daily Peghaam (Sahiwal) on Thursday , 28 May,1998.Today 27 years, 4 months , and 7 days had passed , I become young to old but the poem still fresh like the city on wich it is depicted.📖 Description
"Ghar Pyara Ghar" is a heartfelt poem by Afzal Shakeel Sandhu, published in Daily Peghaam on 28 May 1998. The poem reflects deep love for the poet’s hometown Sahiwal, highlighting its cultural richness, peaceful lifestyle, agricultural beauty, and warm-hearted people. It is a poetic tribute to the city that nurtured countless memories, portraying Sahiwal as a symbol of home, comfort, and belonging.گھر پیارا گھر نظم
افضل شکیل سندھو شاعری
ساہیوال پر نظم
ڈیلی پیغام 1998 شاعری
گھر کی محبت کی شاعری
وطن کی یاد نظم
پنجابی اردو شاعری
ساہیوال کی ثقافت شاعری
گھر کی یاد نظم
کلاسک اردو نظم
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuWritten by: Afzal Shakeel Sandhu


