بزمِ ہستی میں شعارِ زندگی ہونے نہ پائے
تاریک دور، امیدوں کی ناکامی اور انا کے خول کا فنی بیانیہ
ظلمتوں کا دور ہے روشنی ہونے نہ پائے
دیکھ لینا اب کوئی دیوانگی ہونے نہ پائے
ان سے کوئی بے تکلف آدمی ہونے نہ پائے
حکم ساقی آ گیا ہے مےکشی ہونے نہ پائے
ایسی غلطی کا اعادہ پھر کبھی ہونے نہ پائے
میرے ارمانوں کے اندر کھلبلی ہونے نہ پائے
چاند ہو سر پر مگر چاندنی ہونے نہ پائے
● پہلی نظر میں غزل کا منظرنامہ
یہ غزل افضل شکیل سندھو کی ایک ایسی کائناتی مایوسی اور داخلی بے چینی کی ترجمان ہے جہاں ہر ممکنہ اچھائی، روشنی، بے تکلفی، محبت، چاندنی اور حتیٰ کہ دیوانگی بھی “ہونے نہ پائے” کی نفی میں گرفتار ہے۔ ہر مصرع ایک ڈرامائی حقیقت پیش کرتا ہے: معاشرہ، تقدیر یا انسانی نفسیات اس قدر گرفتہ ہے کہ بقا کی بنیادی لذتیں، اصول اور سچائی ظلمت کے استیلا میں دم توڑ دیتی ہیں۔ شاعر نے ‘بزم ہستی’ (زندگی کی محفل) کو موضوع بنایا — یہاں ‘شعار زندگی’ یعنی وہ اقدار جو زندگی کو معنی دیتی ہیں — رحم، محبت، آزادی، عقیدت — ان کا وجود ممکن نہیں۔ اس کے بعد آنے والے شعر طنز، خود احتسابی، استعاراتی مے خانہ، انا کا خول اور ایک ایسے آنگن کی تصویر کھینچتے ہیں جہاں چاند سر پر ہے مگر چاندنی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ تضاد اس قدر گہرا ہے کہ قاری بار بار پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
● شعری عناصر اور اسلوبیاتی خوبیاں
ردیف ‘ہونے نہ پائے’ پوری غزل میں ایک سحر انگیز موسیقی اور پُرجوش تاکید پیدا کرتی ہے۔ یہ تردیدی کیفیت نہ صرف شاعرانہ ردھم بلکہ ایک طرح کی بددعا یا حقیقت پسندانہ پیش گوئی ہے — گویا ہر شے اپنی ضد میں بدل چکی ہے۔ شاعر نے تکرار، استعارے، علامتی تشبیہات کا خوب استعمال کیا ہے: 'چمن کے کانٹے' سے مراد معاشرتی مکروہ عناصر، 'بے تکلف آدمی' سے مراد بے ساختہ انسان، 'مےخانہ حیات' زندگی کی وہ جگہ جہاں جبر کی انتہا ہے اور ساقی کا حکم مے نوشی پر پابندی عائد کرتا ہے۔ 'انا کا خول' نفسیاتی پیچیدگی کی نشاندہی کرتا ہے — دل دے کر بھی انا بچا کر رکھنا انسانی تضاد ہے۔ آخری شعر میں علامتی طور پر شکیل کا بے ربط آنگن اردو ادب کا ایک خوبصورت تضاد پیش کرتا ہے: بیرونی طور پر چاند (روشنی، حسن، علم) موجود ہے لیکن اس کا اثر (چاندنی) مفقود ہے۔ ایسا شخص یا معاشرہ جو خوبیوں سے محروم نہیں، مگر ان کا ثمر حاصل نہیں کر پاتا۔
● تشریح و تفسیر: شعر بہ شعر
▸ شعر اول: ”بزم ہستی میں شعار زندگی ہونے نہ پائے ، ظلمتوں کا دور ہے روشنی ہونے نہ پائے“
یہ غزل کا عنوان بھی ہے اور بنیادی تھیم بھی۔ شاعر کہتا ہے کہ اس زندگی کی محفل میں وہ بنیادی اقدار (شعارِ زندگی) جیسے اخلاص، عدل، محبت اور آزادی موجود نہ ہو سکیں گی۔ معاشرہ ظلمتوں کے اس دور میں جکڑا ہے کہ روشنی (سچائی، علم، انسانیت) کا آنا محال ہے۔ لفظ ’ظلمتوں کا دور‘ صرف رات یا اندھیرے کو نہیں بلکہ جہالت، استبداد اور روحانی ویرانی کی تصویر ہے۔ یہ پہلا شعر ماحول کے المیے کو قائم کرتا ہے — جیسے روشنی پر پابندی ہو۔
▸ شعر دوم: ”ہے توقع آج کی محفل میں وہ بھی آئیں گے ، دیکھ لینا اب کوئی دیوانگی ہونے نہ پائے“
شاعر امید کی کرن دکھاتا ہے — توقع ہے کہ کوئی خاص شخص (محبوب، مسیحا، یا کوئی اصلاح کرنے والا) آج کی محفل میں ضرور آئے گا۔ لیکن فوراً اپنے انداز میں ردِ عمل دیتا ہے: دیکھ لینا، اس کے بعد کوئی دیوانگی (والہانہ عشق، انقلاب، جنون، بے باکی) رونما نہ ہونے پائے۔ یہ ایک طرح کا مایوسی آمیز اظہار ہے کہ حالات اس قدر دبائو کا شکار ہیں کہ دیوانگی جیسی چیز (جو آزادی اور حقیقی عشق کی علامت ہے) زندہ نہیں رہ سکتی۔ طنز یہ ہے کہ پرجوش توقع اور پھر اس کی نفی ایک دلچسپ کیفیت پیدا کرتی ہے۔
▸ شعر سوم: ”چمن کے کانٹوں سے میں یہ بارہا کہتا رہا ، ان سے کوئی بے تکلف آدمی ہونے نہ پائے“
چمن (باغ، معاشرہ) کے کانٹے ظالم، متکبر اور چالباز لوگوں کے استعارے ہیں۔ شاعر نے بار بار انہیں سمجھایا کہ ایسے ماحول میں کوئی بے تکلف انسان پیدا نہ ہو سکے گا۔ بے تکلفی کا مطلب ہے سادہ دلی، تکلفات سے آزاد، سچا رویہ۔ یہ شعر تجربے کی گہرائی بیان کرتا ہے — شاعر نے خود تجربہ کیا اور پھر اعلان کیا کہ جب ماحول ہی کانٹوں پر مشتمل ہو تو پھول کی طرح کھلنے والا بے تکلف انسان وہاں نہیں پنپ سکتا۔
▸ شعر چہارم: ”انتہائے جبر ہے ، مےخانہ حیات میں ، حکم ساقی آ گیا ہے مےکشی ہونے نہ پائے“
یہ ایک طاقتور علامتی شعر ہے۔ ‘مےخانہ حیات’ (زندگی کا مے خانہ) جہاں روایتاً عشق و مستی ہوتی ہے، وہاں “انتہائے جبر” ہے یعنی زبردستی کی چوٹی۔ ساقی (جو مے دینے والا ہوتا ہے) خود حکم دے چکا ہے کہ مے نوشی نہ ہو۔ مے کشی محبت، بے خودی، آزادی اور سرشاری کی علامت ہے — اس پر پابندی لگا دینا گویا زندگی کی اصل روح کا گلا گھونٹنا ہے۔ شاعر نے طنزیہ انداز میں جبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ یہ شعر موجودہ سیاسی یا معاشرتی نظام کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے جہاں آزادیٔ اظہار، محبت اور روحانی بلندی پر قدغن ہے۔
▸ شعر پنجم: ”جب دیا دل ، دے دیا ، یہ انا کا خول کیوں ، ایسی غلطی کا اعادہ پھر کبھی ہونے نہ پائے“
یہ ایک گہرا نفسیاتی شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے جب میں نے دل دے دیا (محبت، اعتماد، توصدق) تو پھر انا کا خول کیوں باقی رہا؟ خود کو بچانے والا انا کا غلاف انسان کو مکمل طور پر سچی محبت سے روکتا ہے۔ شاعر اسے اپنی غلطی قرار دیتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ اس غلطی کا اعادہ نہ ہونے پائے — یعنی آئندہ دل دیتے ہوئے انا کو شامل نہ کرے، یا پھر اس قسم کا نیم دل دینا دوبارہ نہ ہو۔ یہ اپنی اصلاح کا سبق اور عشق میں مکمل سپردگی کا درس ہے۔
▸ شعر ششم: ”میں بہت رنجیدہ خاطر ہوں دنیا والے سن ، میرے ارمانوں کے اندر کھلبلی ہونے نہ پائے“
شاعر دنیا والوں سے مخاطب ہے اور اپنے دل کی حالت بیان کرتا ہے: وہ بہت رنجیدہ (دکھی، آزردہ) ہے۔ اس کی درخواست ہے کہ میرے ارمانوں (خواہشات، خواب، تمناؤں) کے اندر کھلبلی (افراتفری، بے چینی، انتشار) نہ ہونے پائے۔ مطلب یہ کہ شاعر اگرچہ غمزدہ ہے مگر چاہتا ہے کہ اس کے اندرونی خواب اور آرزوئیں بکھرنے نہ پائیں — یہ ایک خوبصورت التجا ہے کہ بیرونی مصائب کے باوجود اندر کی دنیا کو تباہ نہ ہونے دیا جائے۔
▸ شعر ہفتم (اختتامیہ): ”میں وہی بے ربط آنگن ہوں جس آنگن شکیل ، چاند ہو سر پر مگر چاندنی ہونے نہ پائے“
یہ بے نظیر شعر پوری غزل کی انتہا کو ایک مضبوط اور دردناک علامت فراہم کرتا ہے۔ ‘بے ربط آنگن’ (بکھرا ہوا، ترتیب سے خالی صحن) — شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ اے شکیل میں وہ آنگن ہوں کہ جس کے سر پر چاند (روشنی، کمال، رہنمائی) موجود ہے مگر چاندنی (اس کے اثرات، اس کی کرنیں، روشنی کا پھیلائو)اسے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسے معاشرے کی عکاسی ہے جو وسائل، استعداد اور مواقع رکھتا ہے لیکن ان سے فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
● موضوعاتی جہت اور عصری مطابقت
یہ غزل محض روایتی غم و درد کی عکاسی نہیں کرتی؛ بلکہ یہ ایک ایسے دور کی دستاویز ہے جہاں انسان اخلاقی، سماجی اور نفسیاتی بحران کا شکار ہے۔ ‘ظلمتوں کا دور’ موجودہ سیاسی استبداد، ماحولیاتی خطرات، ذہنی دبائو اور ٹیکنالوجی کے دور میں تنہائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ‘بے تکلف آدمی کا نہ ہونا’ اس بات کی علامت ہے کہ آج کل رشتے بھی تکلف، مصلحت اور فائدے کے تحت چلتے ہیں۔ ‘مے کشی پر پابندی’ ان پابندیوں کی نمائندگی کرتا ہے جو ہماری خوشیوں، فنون لطیفہ اور آزادی اظہار پر عائد کی جاتی ہیں۔ ‘انا کا خول’ خود شناسی کی دعوت دیتا ہے — کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ اس لحاظ سے غزل ایک جامع فلسفیانہ اور سماجی بیان ہے۔
Watch My Beautiful Ghazal KITAB E ISHAQ
● لسانی خوبیاں اور ترنم
غزل کے مصرعے ہموار، بلیغ اور برجستہ ہیں۔ بحر ‘مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف’ میں لکھی گئی یہ غزل باآسانی قاری کے ذہن میں اتر جاتی ہے۔ ردیف ‘ہونے نہ پائے’ مسلسل نفی کا اثر دیتی ہے اور قاری پر ایک خاص کیفیت طاری کرتی ہے — گویا امکان کی تمام راہیں بند ہو چکی ہیں۔ قوافی (پائے، آئیں گے، رہا، کشی، کیوں، سن، شکیل) بے ساختگی اور روانی پیدا کرتے ہیں۔ شاعر نے ‘چمن کے کانٹے’ اور ‘بے ربط آنگن’ جیسی تراکیب سے ندرت پیدا کی ہے۔ روزمرہ کے الفاظ کے باوجود شاعرانہ بلندی قائم ہے۔
“یہ غزل حقیقتاً ان تمام سوالوں کا مرقع ہے جو انسان موجودہ دور میں اپنے آپ سے پوچھتا ہے: کیا واقعی روشنی پھر سے لَوٹ آئے گی؟ کیا ہم اپنی انا کے خول کو توڑ پائیں گے؟ کیا محفل میں دیوانگی پھر رچے گی؟ شاعر کے پاس جوابات شاید نہیں، لیکن سوالات اتنی خوبصورتی سے اٹھائے گئے ہیں کہ قاری اندر ہی اندر جواب کی تلاش کرنے لگتا ہے۔”
● مجموعی پیغام اور فکری گہرائی
غزل کا ہر شعر ایک انتباہ، مشاہدہ اور زندگی کی تلخ حقیقت کا عکس ہے۔ شاعر نے کوئی آسانی سے فرار کی راہ نہیں دکھائی۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارے گرد و نواح میں ظلم اور جبر اس حد تک غالب ہے کہ روشنی کی آمد محال ہے پھر بھی وہ ‘توقع’ کو ترک نہیں کرتا۔ انا کا خول توڑنا اور اپنی ارمانوں میں کھلبلی روکنا انفرادی ذمہ داری کی طرف اشارہ ہے۔ آخری شعر میں ‘بے ربط آنگن’ کا ذکر زندگی کی الجھنوں کو سمیٹتا ہے — ہمارے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم چاندنی سے محروم رہتے ہیں، کیونکہ ہم اپنے اندر ترتیب اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ غزل دراصل ایک آئینہ ہے؛ جسے دیکھ کر ہم اپنے معاشرتی اور ذاتی زخموں پر غور کر سکتے ہیں۔
UrduPoint - Poetry
● اختتام: شعری ورثے میں مقام
اس غزل کا لب و لہجہ غالب اور فیض کی روایت سے ہم آہنگ ہے۔ اگرچہ یہ ہم عصر شاعر کی کاوش ہے لیکن اس میں کلاسیکی حساسیت اور جدید حقیقت نگاری دونوں موجود ہیں۔ ‘ہونے نہ پائے’ کی ردیف نے اس غزل کو یادگار بنا دیا ہے۔ یہ صرف شکوہ و شکایت نہیں، بلکہ ایک بہادری کا سوز بھی ہے — شاعر عالمِ یاس میں بھی اپنے احساسات کو خوبصورتی سے پروتا ہے۔ قارئین کے لیے یہ ایک ایسی فکری مسافت ہے جو انھیں زندگی کے المیوں کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ غزل پڑھنے کے بعد یہ تاثر قوت پکڑ لیتا ہے کہ شاید سب کچھ ہونے کے باوجود، بہت کچھ نہیں — لیکن اس احساسِ کمی کو شعری اظہار میں ڈھال دینا خود ایک بڑی روشنی ہے۔

💕💕🌹🌹
ReplyDeleteThanks My dear
DeleteBohat hi khoobsurat Kalam hey super ghazal
ReplyDeleteSubhan Allah .kia kehney , behtreen or umda ghazal
ReplyDeleteکیا کمال کی غزل ہے بلکہ ایک عرصے بعد ایک اچھی غزل دیکھنے کو ملی ہے آپ ہمارے لئیے بڑے شاعر ہیں اللہ آپ کو سلامت رکھے
ReplyDeleteمقطعے نے تو جان ہی نکال لی ہے توبہ
ReplyDeleteانتہائے جبر ہے مے خانہ حیات میں
ReplyDeleteحکم ساقی آ گیا ہے مے کشی ہونے نہ پائے
کیا خوبصورت شاعری کرتے ہیں آپ