🗣️ اُستاد دامن
پُرانا کھلونا، نیا مذاق
اُستاد دامن ... صرف ایک نام نہیں، ایک مکمل اساطیری داستان ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے جس نے پاکستان کی تاریک گلیوں، جاگیردارانہ ظلم، مہنگائی اور افلاس کے دور میں بھی ہنسی کی شمع روشن رکھی۔ ان کا اصل نام ‘میاں محمد دین’ تھا، لیکن عوام نے پیار سے ‘دامن’ کہہ کر پکارا — کیونکہ ان کا دامنِ کرم اتنا وسیع تھا کہ غمگین دلوں کو سکون ملتا تھا۔ ان کی مزاح میں طنز کی تیغ بھی تھی اور محبت کی مٹھاس بھی۔ یہ مضمون اُستاد دامن کی شخصیت، فن، لازوال جملوں اور ان کے اُس دورِ سادگی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جب اسٹیج پر کھڑے ہو کر وہ پورا سمندر ہنسانے کی طاقت رکھتے تھے۔
پاکستان کے سنہرے دورِ ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور فلمی صنعت میں اُستاد دامن نے مزاح کی اس بلندی کو چھوا جو شاید ہی کسی اور نے پایا ہو۔ وہ 1919 میں ضلع گوجرانوالہ کے ایک کمسن گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی بڑی تنگی میں گزری — جوتے بنانے کا پیشہ، بھوک کی راتیں، اور تعلیم کا فقدان۔ مگر قدرت نے ان کے اندر ایک ایسا غیر معمولی حسِ مزاح رکھا تھا کہ مصیبت بھی ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک اُن کے شو کے ٹکٹ ختم ہونے سے پہلے ہی ‘ہاؤس فل’ کا بورڈ لگ جاتا تھا۔
🌟 فقرے میں فلسفہ، قہقہے میں سیاست
اُستاد دامن کا کمال یہ تھا کہ وہ بغیر کسی گندی حرکت یا بےہودگی کے لوگوں کو قہقہوں سے لوٹ لیتے تھے۔ ان کا ایک مشہور جملہ تھا: “بھائی، میں اتنا امیر ہوں کہ میرے پاس کھانے کو روٹی نہیں، مگر دوستوں کو کھلانے کے لیے پورا دسترخوان ہے”۔ اس مذاق میں انسان دوستی اور سادگی کی انتہا نظر آتی ہے۔ ان کی مزاحیہ پرفارمنس میں عام آدمی کی پریشانیاں، افسر شاہی کی کھچاؤ، اور محلوں کے مکینوں کی مضحکہ خیز بناوٹ جھلکتی تھی۔ وہ مظلوم کی آواز بنتے لیکن انتہائی دلچسپ انداز میں، جیسے کوئی بزرگ اپنے پوتے کو سبق دے رہا ہو۔
یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ اُستاد دامن نے فلموں میں بھی شاندار کردار ادا کئے۔ فلم ‘مرزا جٹ’ سے لے کر ‘بازارِ حسین’ تک، ان کے مزاحیہ سین آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ اکثر وہ اپنے ساتھ ہمیشہ ایک ٹوٹی پھوٹی چادر اور سادہ کھیس اوڑھے نظر آتے، گویا وہ عوام سے یہ کہہ رہے ہوں: “دیکھو، میں بھی تمہاری طرح ہوں”۔ یہی سچی عوامیت ان کی پہچان بنی۔ انہوں نے کبھی مہنگے لہجے یا ساختہ پن کا استعمال نہ کیا، ہمیشہ پنجابی اور اردو کے ملاپ میں وہ حقیقت پسندانہ مزاح پیش کیا جس سے ہر طبقہ متاثر ہوا۔
🎭 اسٹیج، ریڈیو اور سنہری 60-70 کی دہائی
جب ریڈیو پاکستان میں ‘ہشت پہر’ اور ‘مزاقرات’ کے پروگرام نشر ہوتے تھے، اُستاد دامن کی آواز نے گھر گھر میں ایسے تہوار مچا دیے کہ لوگ ریڈیو کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھانا بھول جاتے۔ ان کی بے تکی مشہور باتوں کو آج بھی بوڑھے شوق سے یاد کرتے ہیں۔ راولپنڈی کے ایک مشہور تھیٹر ‘المعید ہال’ میں جب وہ اپنے ساتھیوں ظہور فلمی اور نگہت سلطانہ کے ساتھ مائیک تھامتے تو تالیاں چھت کو چھوئے لیتیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پانچ روپے میں سیر حاصل تفریح ملتی تھی، اور اُستاد دامن ہزاروں روپے کے مقابل پر خلوص کا روپیہ وصول کرتے تھے — مگر پھر بھی سادہ زندگی گزاری۔
اُن کے مزاحیہ کرداروں میں اکثر ایک ‘چاچا’ یا ‘بانکے’ کا روپ ہوتا۔ وہ خود کو ‘بھولے بھالے’ آدمی کے طور پر پیش کرتے مگر ان کی آنکھوں کی چمک اور لطیفے کی باریکی دیکھنے والوں کو ہلا کر رکھ دیتی۔ ایک بار کسی تقریب میں چیف جسٹس ان کے سامنے بیٹھے تھے، انہوں نے فوراً کہا: “جج صاحب، آپ مجھے سزا مت دینا میں تو پہلے ہی بے گناہ ہوں۔” یہ سن کر عدالت کے انداز میں قہقہے بلند ہوگئے۔ بس یہی تھے اُستاد دامن — نہ ڈر، نہ رعایت، صرف انسانیت اور سچی ہنسی۔
📜 اُستاد دامن کے لازوال لطیفے اور فقرے
ان کے معروف لطیفوں میں سے ایک مشہور ہے: ایک شخص نے اُستاد دامن سے پوچھا: ‘دامن صاحب، آپ بہت خراب حالات میں رہتے ہیں لیکن خوش رہتے ہیں، راز کیا ہے؟’ اُستاد دامن نے جواب دیا: “بس اتنا سمجھ لو کہ جب میرے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہوتی، تو میں سوچتا ہوں کہ کم از کم میرے دانت تو ہیں، جو روٹی نہ ہونے کا غم کر سکتے ہیں”۔ یہ فلسفہ ان کی شخصیت کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ دوسرے معروف جملے: “بیوی نے کہا تم تو کچھ کما کر لائو، میں نے کہا پیاری، میں تو قہقہے کماتا ہوں وہ بھی مفت تقسیم کرتا ہوں۔” ان کی ہر بات میں سیاست سے لے کر معاشی مسائل تک کی نشاندہی تھی۔
ان کی خود نوشت (جو انہوں نے تحریری طور پر نہیں چھوڑی، لیکن انٹرویوز میں بہت کچھ کہا) کے مطابق: “میں نے ہر مذاق سے پہلے اپنا غم چھپایا، تاکہ سامعین کا غم دور ہو سکے۔” کہتے ہیں کہ جس دن اُن کی والدہ کا انتقال ہوا، اس دن بھی اُنہوں نے اسٹیج شو منسوخ نہیں کیا، بلکہ لوگوں کو ہنسایا اور بعد میں کونے میں جا کر روئے۔ یہی تھی ان کی عظمت۔
🕊️ فنی میراث: دامن کا اسلوب آج بھی زندہ کیوں؟
آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں مزاح اکثر ذاتی حملوں اور توہین پر مبنی ہو گیا ہے، اُستاد دامن کا مزاح ایک مینارۂ نور کی مانند ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ہنسانے کے لیے فحش گوئی ضروری نہیں۔ اُن کی عظمت یہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی اُن کے مداح موجود تھے۔ مشہور مزاح نگار ‘جانی واکر’ اور ‘محمود علی’ نے کھل کر تسلیم کیا کہ وہ دامن صاحب سے متاثر ہیں۔ ان کا اندازِ گفتگو ‘شوکت تھانوی’ سے ملتا جلتا، مگر زیادہ لوگوں تک پہنچنے والا۔
افسوس کہ ہماری فلم انڈسٹری نے اُنہیں یاد رکھنے کے لیے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔ لیکن سوشل میڈیا نے اب ان کے کلپس دوبارہ زیرِ گردش لا دیے ہیں۔ ایک نوجوان نسل اُن کے مکالمے ‘او میری جان، او میرے دلدار، تینوں روٹیاں کھا گیا کل کا کارندہ’ پر خوب داد دیتی ہے۔ اس دور میں جب مہنگائی نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے، دامن کا مزاح ایک چارہ گر دوا ہے۔
🏺 غربت میں بھی دولتِ مزاح
اُستاد دامن آخر وقت میں بھی معمولی مکان میں رہے۔ ان کی بیوی اور بچے بھی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ راویوں کے مطابق ایک دفعہ ایک مشہور پروڈیوسر نے انہیں ڈیڑھ لاکھ روپے کا چیک دیا (جو اس وقت بہت بڑی رقم تھی) لیکن دامن صاحب نے وہ چیک اسی رات کسی یتیم خانے کے نام کر دیا۔ لوگوں نے پوچھا تو کہنے لگے “میرا اصل سرمایہ مسکراہٹ ہے، روپے تو بہت ہیں مگر میں قرض دار ہوں اپنے عوام کا”۔ کتنا خوبصورت جذبہ۔ ان کے اِنہی اوصاف کی بدولت ملک کے بڑے بڑے نامور فنکار انہیں استاد کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
غالباً 1984 میں جب وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تو لاہور کے قبرستان میں جنازہ اتنا بڑا نکلا کہ کئی کلومیٹر تک صفِ ماتم بچھی رہی۔ وہ لوگ بھی آئے جو کبھی ان کی محفلوں میں ہنستے تھے، اب آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہی فرق ہے ایک سچے فنکار اور ایک عام اداکار میں۔
📖 آج کا سبق : دامنؔ کو پڑھنا
اُستاد دامن نے 65 سال کی عمر پائی اور چھ ہزار سے زائد اسٹیج شوز، تین سو سے زائد فلمی مناظر، اور ریڈیو کے لاتعداد پروگرام کیے۔ ان کا پیغام صاف تھا: معاشی تنگی آپ کی خوشی چھین سکتی ہے لیکن آپ کے دل کی وسعت کو نہیں۔ وہ عملی طور پر قدآور شخصیت تھے مگر جب مسکراتے تو پورا ہال روشن ہو جاتا۔ آج جب ہم ڈپریشن اور اضطراب کی بیماریوں میں گھرے ہیں، اُن کے یہ کلپس سنیں تو لگتا ہے جیسے کوئی سپاہی آکر کہے، “بس ہنس لو، سب ٹھیک ہے”۔
ہمیں اپنی نسل نو کو بتانا چاہیے کہ تفریح کا مطلب بدنما حرکتوں کے ڈھیر لگانا نہیں؛ اصل فن وہ ہے جو دلوں کو جوڑے، نفرتیں مٹائے اور غموں کو شبنم کی طرح صبح ہوتے ہی اڑا دے۔ اُستاد دامن کی زبانی یاد رکھنے والے جملوں میں سے ایک یہ بھی ہے: “بھاگتے پھرتے ہو زرق و زر کے پیچھے، سنو، قہقہے کی دولت کبھی ختم نہیں ہوتی۔” چنانچہ یہ بلاگ انہی کی یاد میں ایک چھوٹا سا پھول ہے۔
ایہہ کیہ کری جانا ایں
کدے شِملے جانا ایں
کدے مَری جانا ایں
لاہی کھیس جانا ایں
کِھچی دری جانا ایں
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
دَھسا دَھس جانا ایں
دُھسا دُھوس جانا ایں
جِتّھے جانا ایں تُوں
بَن کے جلُوس جانا ایں
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
کَدی چِین جانا ایں
کدی رُوس جانا ایں
بَن کے توں امریکی
جاسُوس جانا ایں
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
لاہی کوٹ جانا ایں
ٹُنگی باہواں جانا ایں
اُڈائی قوم دا تُوں
فلُوس جانا ایں
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
اِیہہ کِیہ کری جانا ایں؟
Watch My Ghazal KIS QAYAMAT KI GHARRI THI
ایس ملک دی ونڈ کولوں یارو
بھاويں مُونہوں نہ کہیے پر وِچوں وِچی
کھوئے تُسی وی او، کھوۓ اَسی وی آں
ایہناں آزادیاں ہَتَھوں بَرباد ہونا
ہوئے تُسی وی او، ہوئے اَسی وی آں
کُجھ اُمید اے، زِندگی مِل جاۓ گی
موئے تُسی وی او، موئے اَسی وی آں
جیوندی جاں ای، موت دے مُنہ اندر
ڈھوئے تُسی وی او، ڈھوئے اَسی وی آں
جاگن والیاں رَج کے لُٹیا اے
سوئے تُسی وی او سوئے اَسی وی آں
لالی اَکھیاں دی پَئی دَس دی اے
روئے تُسی وی او روئے اَسی وی آں
Watch my Poem Gaddi Nasheen
جی او جی میرے شہر لہورا جی
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
جی او جی میرے شہر لہورا جی
رنگ رنگیلا، چَھیل چَھبِیلا
تیرا اِک اِک جی
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
ہور شہر کِیہ تیرے اَگّے
تیرے وِچ اِک دِیوا جَگّے
مُہر جِتّھے ولِیاں نُوں لگّے
کہن تَینوں، دَاتا دِی نگری
تَیتھوں وَدھ کے اَیتھے کِیہ؟
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
رُتّاں آوَن، ویلے ویلے
جَگہ جَگہ تے میلے ٹھیلے
اٹّھ دنِاں وِچ نَو نَو میلے
بُوہے بُوہے مجّھاں گاواں
،
کَھا مَکّھن تے لَسّیاں پی
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
چار چوفیرے پُھلّ پَئے مَہکَن
سوہنے سوہنے پَنچھی چَہکَن
تَینُوں ویکھ، فَرشتے سَہکَن
تیرے وِچ نیں، لہراں بہراں
کَدی نہ ہووے اُنّی ویہہ
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
جانی جان ایں، دور تُوں لَنگھے دا
مائی باپ تُوں، بُھکّھے نَنگے دا
رَکھوالا سوہنے جَھنڈے دا
تیرے ویہڑے وَسدے رَسدے
ہَسّن کھیڈن پُتَّر دِھی
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
تیرا جوبن، شوخ جوانی
زَر دَولت تے آنی جانی
شہر شہر وِچ، پَوے کہانی
ویکھیا داؔمن! لہور نہ جِنھّے
اوہنے ویکھیا، کِیہ؟
جی او جی، میرے شہر لہورا، جی
Watch My Ghazal Kitab e ishaq
✍️ نہ صرف ایک اداکار — ایک مکتبۂ فکر
اس مضمون کے آخر پر ہم اُستاد دامن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی یاد میں جب بھی کوئی مزاحیہ محفل سجتی ہے، دراصل اُن کی روح پرواز کرتی ہے۔ ہاں، آج بھی جب کوئی پاکستانی کہتا ہے “دامن صاحب کی طرز پہ ہنسنا” تو سمجھو کہ سچی، بے غرض اور شفاف ہنسی مراد ہے۔ یہ مضمون ہزاروں الفاظ پر مشتمل ہے، مگر اُستاد دامن کی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ کتابیں کم پڑ جائیں۔ ہماری دعا ہے کہ ان کا فن صدیوں زندہ رہے اور نوجوان ان کی سوانح پڑھ کر اپنی زندگیوں میں ہلکا پھلکا پن لائیں۔
اگر آپ نے اُستاد دامن کو کبھی لائیو نہیں دیکھا تو یوٹیوب پر ان کی آڈیو کلپس ضرور سنیں۔ ان کی ایک ہی پرفارمنس زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ ایسی عظیم شخصیات قوم کے اثاثہ ہوتی ہیں۔ ہمیں انہیں نصاب کا حصہ بنانا چاہیے، تاکہ پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی کی بجائے رواداری اور مزاح پروان چڑھے۔
اس مضمون کو مکمل پڑھنے اور ہنسی کے اس سفر کا حصہ بننے کا شکریہ۔ اپنے دوستوں کے ساتھ اُستاد دامن کا کوئی لطیفہ ضرور شیئر کریں — اور ہنستے رہیں، ہنسانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔
More about Ustad Damen Browse this website
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

استاد دامن اپنی مثال آپ تھے پنجابی وچ خاص مقام رکھ دے نیں
ReplyDeleteدرست فرمایا
DeleteKhooooob bohat acha
ReplyDeleteThank you
Deleteدلچسپ ، معلوماتی ، ادبی تحریر ہے پنجابی کے مزید شاعروں اور ادیبوں کے بارے بھی انفارمیشن دیں
ReplyDeleteشکریہ جی میں کوشش کروں گا مزید پنجابی شاعروں کو بھی بلاگ کا موضوع بناؤں
DeleteUstad ka bra naam suna hey bri baten un se manssob hn
ReplyDeleteاستاد دامن دی بڑی شہرت اے اوہ اک عوامی آدمی سن تے ہمیشہ عوام دی گل کر دے سن وڈے آدمی سیں دکھاوا تو کوسوں دور سادگی دے نال ساری زندگی گزار تی
ReplyDeleteآپ تجزیہ سو فیصد درست ہے
DeleteMera khyal hey k menu dhrti kali kra de mn nachaa sari raat
ReplyDeleteYe geet b ustad ka hey is tra wo aik filmi geet nigaar b they
آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا یہ گیت استاد ہی کا لکھا ہوا ہے اس طرح وہ ایک پنجابی گیت نگار بھی تھے
ReplyDeleteVery nice ✨
ReplyDeleteUstad haqeeqat mn punjabi zuban k achey awami poet theÿ
ReplyDelete