Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Ameer Minai Biography, Poetry & Ghazals | Most famous two liners

امیر مینائی – اردو شاعری کا درخشاں ستارہ تعارف امیر مینائی اردو ادب کے عظیم شاعر تھے۔ ان کا اصل نام امیر احمد مینائی تھا۔ وہ اپنی خوبصورت غزلوں اور نعتیہ شاعری کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ حیات امیر مینائی 1829 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ 1857 کی جنگ کے بعد وہ حیدرآباد دکن منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے اپنی شاعری کو مزید نکھارا اور ادب کی خدمت جاری رکھی۔ شاعری کی خصوصیات سادہ اور دل کو چھونے والا انداز محبت اور تصوف کا امتزاج نعتیہ شاعری میں مہارت روانی اور موسیقیت ادبی خدمات انہوں نے اردو ادب کو بہترین غزلیں اور نعتیں دیں۔ ان کی لغت "امیر اللغات" بھی بہت مشہور ہے۔ وفات امیر مینائی 1900 میں وفات پا گئے، مگر ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے۔ © Afzal Shakeel Sandhu وہ 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام رکھا گیا. والد کا نام مولوی کرم محمد تھا جو مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ امیر اسی لیے مینائی کہلائے. درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔ شاعری...

Short story | News | خبر ،افضل شکیل سندھو کا افسانہ

خخبر|افضل شکیل سندھو کے قلم سے نکلا ہوا ایک خوبصورت افسانہ

نوٹ

قارئین کرام آپ شعر و شاعری پڑھ کر اور سن کر اکتا نہ گئے ہوں اس لیے میں آپ کو اس یکسانیت سے نکالنے کے لیے آپکے لیے ایک افسانہ لے کر حاضر ہوا ہوں یہ افسانہ منتھلی گہراب ساہیوال میں اگست 2003 کو شائع ہوا امید ہے آپ اس افسانے کو پڑھ کر محظوظ ہونگے ۔

خبر،ایک دلچسپ کہانی ایک دلچسپ افسانہ

افسانہ

خبر

ایک دلچسپ کہانی

تحریر : افضل شکیل سندھو

موسم سرما کی تیز ہوا جسم سے ٹکرا کے گد گدی پیدا کر رہی تھی۔گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسٹیشن سے باہر برقی قمقموں کی ہلکی ہلکی روشنی عجیب مزا دے رہی تھی رات اگرچہ اندھیری تھی لیکن دلکش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نے دس سال کے بعد اپنے پیارے شہر مین قدم رکھا تھا۔اسٹیشن کے باہر رکشے تھے تانگے تھے لیکن میں نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔

سڑک پر پیدل چلتے ہوئے بہت سی یادوں نے گھیرا ڈال لیا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف دکا نیں تھیں کچھ بند کچھ کھلی اور کچھ ادھ کھلی۔ میں اپنے وطن کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس کرنا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک موڑ پر مجھے چائے کی دکان کھلی نظر آئی۔ وہاں تین آدمی چائے پی رہے تھے اور گپیں ہانک رہے تھے۔ گویا رات کے وقت سردی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ مین بنچ پر چائے پینے بیٹھ گیا۔ چائے کے کھوکھے کے سامنے ایک پارک تھا۔ جہاں دن بھر مصروف رہنے کے بعد بعض لوگ تفریح کرنے آئے ہوئے تھے۔ کچھ عورتین اور بچے ادھر ادھر ٹہل رہے

یہ سردیاں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ ابھی سوا دس بجے تھے کہ گلیاں اور بازار سونے تھے۔ میں اس دلفریب رنگینی کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ اسی اثنا میں چائے والے نے آواز دی۔ باؤ جی۔۔۔ چائے ۔ میں نے چو نکتے ہوئے چائے پکڑی اور ہت آہستہ چسکیاں بھرنے لگا۔ سامنے کے پارک سے رات کی رانی کی رانی کی ہلکی ہلکی لیکن دل کو موہ لینے والی خوشبو ذہن کو معطر کیے ہوئے تھی۔ اس خوبصورت ماحول میں چائے پینےکا لطف دوبالا ہو گیا۔ ٹھنڈی ٹھار ہوا کے نرم اور دلگداز جھو نکے جسم کے روئیں روئیں میں سنسناہٹ پیدا کر رہےتھے کہ چائے والے نے کھوکھے کے فولڈنگ تختے تقریبا بند کر دیے اب کھوکھا باہر سے بظاہر بند ہی نظر آ رہا ہو گا۔

اسی اثنا میں ، میں اپنے شہر کی ان گلیوں ، محلوں کو یاد کرنے لگا۔جن میں میری زندگی کے قیمتی یا پھر غیر قیمتی دن گزرے تھے۔ وہ لمحات جو شائد ضائع ہونے کے لئے دنوں کا روپ ڈھال کر مجھ سے التجا کیا کرتے تھے۔ "لواب مجھے ضائع کرو"۔ کیوں ضائع کرو۔ اس لئے کہ کرنے کو کچھ نہ تھا ۔ تعلیم کے حصول کے بعد انسانی جذبات و احساسات کی تذلیل ہوتے جابجا دیکھی تھی اور والد صاحب نے گھر والوں کی رضا مندی سے ایک پلاٹ جو انہوں نے ہمارے مستقبل کے لئے خریدا تھا ۔ ہمارے مستقبل بنانے پر صرف کر دیا۔ مجھے بڑی مشکل سے ناروے بھیجنے میں کامیاب رہے۔ میں گزرے دنوں کی یادوں میں مگن نہ جانے کب تک چائے کی چسکیاں لیتا رہتا کہ قریب ہی سے دو تین فائر نکلنے کی آواز آئی ۔ دکان کے اندر ہم پانچ آدمی تھے جو فوراً فائرنگ کی آواز پر متعجب ہوئے لیکن کسی نے فوری باہر جانے کا رسک لیا۔

میں خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے باہر آ چکا تھا۔ وطن سے باہر کی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امن و آشتی کی دنیا۔ لیکن میرا وطن نسلی ، لسانی ، مذہبی تعصبات کا مرکز ومحور ۔ ناروے میں رہتے ہوئے جب اس قسم کی دہشت گردی کے واقعات پرمبنی خبریں وطن عزیز کے بارے میں سنتاتھا تو بے زار سا ہو جاتا۔ پھر اکثر سوچتا کہ اتنے بڑے ملک میں چند واقعات کا کبھی کبھار رونما ہو جانا اتنا معنی خیز نہیں لیکن یہ کیا ابھی تومیں اپنے پاکستان کے پیارے شہر ساہیوال میں داخل ہی ہوا تھا۔

چائے کی اس کھو کھا نما دکان سے چند قدم پیچھے پارک کے دروازے کے قریب چند لوگ جمع تھے۔ وہ ایک کار کے اندر جھانک رہے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ایک خوصورت نوجوان جوڑا کار کے اندر زندگی کے جہنم کدے سے رہائی حاصل کر کے موت کی ازلی اور ابدی شاہراہ پر گامان ہو چکاتھا۔

وہ پارک کے اندر سے مین گیٹ کر اس ہی کر رہے تھے کہ تاک لگا کر چھپے ہوے ظالم ہاتھوں کی نذرہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔ افوہ ۔۔۔۔۔۔۔ کتنا معصوم جوڑا تھا معلوم ہو رہا تھا ابھی نئی نئی جوڑی وجود میں آئی تھی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے ہمارے ہاں عموما" سردیاں چڑہتے یا اترتے یعنی موسم بہار میں زیادہ تر شادیاں ہوتی ہیں۔ میرا خیال تھا کہ اس جوڑے کی شادی کو بھی چند دن ہی ہوئے ہوں گے۔ لیکن حیرانگی تھی کہ کیا یہ دہشت گردی تھی یا روائتی دشمنی یا ذاتی انتظام ؟

لیکن یہ سب میرے سوچنے کی باتیں نہیں تھیں۔لوگ پولیس کو آگاہ کرنے کی باتیں کر رہے تھے ۔اور قریب ہی پولیس اسٹیشن تھا۔ ایک دو رکشے بھی قریب آکر کھڑے ہوگئے تھے۔ میرے اندر کا پاکستانی جاگ اٹھا اور میں اس واقعہ کی جزئیات سے اغماض برتتا ہوا گھر گی جانب روانہ ہو گیا۔ میں اپنے گھر والوں کو بغیر اطلاع دئیے ساہیوال آچکا تھا۔ در اصل میرا ارادہ گھر والوں کو سر پرائز دینے کا تھا پھر رکشے کی پھٹ پھٹ سنتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اگر یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ اور اگرمال و متاع چھین لیا جاتا تو کیا ہوتا؟ شائد اس سے بھی بڑا سر پرائز ہوتا جو میں اپنے گھر والوں کو اچانک آمد کی صورت میں دینے جارہا تھا۔

جب میں آدھی رات کو اپنے گھر پہنچا تو وہی روائتی ہچکچاہٹ دروازہ کھولنے میں ۔ بار بار کون کون کی صدا ئیں ۔ دروازے کے قریب ایک سے زائد انفاس کی کھسر پھسر - آخر یقین آ جانے کی صورت میں دس بارہ منٹ بعد دروازو کھلا میں وہ دہلیز پار کر آیا جیسے پار کرتے وقت ہمیشہ امی جانبسم اللہ پکارا کرتیں لیکن دو سورہی تھیں۔ دروازہ بھائی بہن اور بھابی نے کھولا ۔ گھر میں ہلچل مچ گئی۔ جلدی جلدی کھانا تیار ہونا شروع ہو گیا۔ بھائی نے امی جان کو بھی جگادیا۔ امی جان نے دیر تک مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ پھر ماتھا چوما اور پھر حال احوال دریافت کئے۔ رات بہت گزر چکی تھی۔ آس پاس کے لوگ کسی قدر گہری نیند سے محفوظ ہو رہے ہونگے لیکن ہمارے گھر میں آج خوشی سے چہل پہل ہورہی تھی۔ والدہ بار بار زور دے ہی ھی ۔ بستر فورا" تیار کرواؤ۔ بچہ آتنی دور سے آیا ہے تھک گیا ہو گا۔ اب اسے آرام بھی کرنا چاہیے ہاتیں تو اب ہوتی ہی رہیں گی۔ رات تین بجے تک میں سب گھر والوں کے درمیان بیٹھا مختلف امور پر باتیں کرتا رہا امی جان نے بچپن کے واقعات بھی بنائے خوب ہنسی مزاق ہوا۔ میرے ذہن سے وہ سارا واقع] محو ہہ گیا جو ابھی ابھی اسٹیشن کے قریب دیکھ کر آیا تھا۔


Poetry Mehfil

صبح دس بجے کے قریب میں اٹھا اور اٹھتے ہی اس واقعہ کے متعلق میرا دھیان پلٹا۔ میں نے فوراً اخبار تلاش کرنا شروع کیا۔ اسی اثناء میں منہ ہاتھ دھوڈالا لیکن رات والے واقعہ کی رپورٹ نظر نہیں آ رہی تھی۔ ایک ہی دن جو میں نے اپنے وطن میں گزارا بو جھل محسوس ہونے لگا۔ اس لئے کہ ناروے میں سلیقہ


Watch My poem Failure Of UNO

مندی، قانون کی حکمرانی اور مساوات کا عادی ہو چکا تھا۔ ناروے جنسی انحطاط اور اخلاقی بے راہ روی کے آخری درجے پر پہنچ کر بھی ہمارے ملک سے کس قدر ترقی یافتہ ہے کیونکہ وہاں قانون اور انصاف کی حکمرانی ہے ۔ مجھے مولا علی کا ارشاد گرامی یاد آ گیا کہ کوئی معاشرہ ظلم کے ہوتے ہوئے تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن بے انصافی کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔ چائے پیتے پیتے اندرونی صفحہ پر ایک کالمی خبر پر نظر رک گئی۔ لکھا تھا۔

"

نوجوان جوڑے کا قتل"

ا ب ج) تفصیلات کے مطابق نوجوان مقتول شاہد عمران کی شادی حال ہی میں مقتولہ فائزہ اشرف سے ہوئی تھی۔ دونوں نے محبت کی شادی کی تھی۔ مقتول شاہد عمران کے گھر والوں نے تہہ دل سے اس شادی کو قبول کر لیا تھا۔ لیکن دلہن کے چند قریبی عزیزوں کو اس شادی کا بے حد رنج تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دو ہرا قتل اسی دشمنی کا شاخسانہ ہے۔“


Watch My Ghazal Rabta Ustwar Tha Na Eaha 👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. اس سے پہلے ہم نے آپ کی صرف شاعری ہی پڑھی تھی ما شاءاللہ آپ اچھے رائٹر اور افسانہ نگار بھی ہیں

    یہ شرف تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
    دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے
    ہمیں اس تعلق پر فخر ہے ہے

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ اللہ آپ کو رحمت کے سائے تلے رکھے اور ہمیشہ خوش رکھے

    ReplyDelete
  3. بہت خوبصورت کہانی ہے دلچسپ ہے

    ReplyDelete
  4. Afsana ka mozu bohat acha hai Pasand ki Shaadi hmesha se hmarey muashrey ka masala raha hai is qism k qatal b amomam hotey rehtey hn

    ReplyDelete
  5. Is qism k waqiat hmrey hn aye roz hotey rehtey hn

    ReplyDelete
    Replies
    1. جی ہاں اسی لیے اسے موضوع بنایا تھا

      Delete
  6. Kamal kr diya sahib

    ReplyDelete
  7. Zindgi ki haqeeqat ka gehrai se ilm hey aap ko aap ko in haqaiq ko ujager krney pr poora uboor hasil hey

    ReplyDelete
    Replies
    1. اچھے خیالات کے اظہار کا انتہائی مشکور ہوں

      Delete
  8. Aap sirf poet nhi bal k achey afsana nigaar b hn

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپ کی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ

      Delete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا زکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی ترح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کحل جاتے ہینہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمھے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نع رھمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ صر...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp