Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Qaiser Ul Jafri: A Distinguished Voice in Modern Urdu Poetry

قیصر الجعفری - ممبئی کا درویش شاعر | مکمل بلاگ ✨ قیصر الجعفری ✨ شہرِ ممبئی کا وہ درویش شاعر جس کا کلام چراغِ راہ ہے "یہ ہیں وہ قیصر الجعفری جن کی غزلیں سن سن کر ہم سمجھتے رہے کہ یہ نذیر قیصر کی ہیں" ✍️ مختصر ترین تعارف قیصر الجعفری ممبئی کے ایک ایسے درویش شاعر تھے جن کی لکھی ہوئی غزلیں آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ غلطی سے یہ کلام اکثر نذیر قیصر کے نام منسوب کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیصر الجعفری نے اپنے طویل 75 سالہ شعری سفر میں اردو شاعری کو وہ گہرائی دی ہے جس کی مثال کم ملتی ہے۔ 💔 کتنی مہنگی چیز تھی دنیا، کتنی سستی چھوڑ چلے 💔 ~ قیصر الجعفری 📖 فہرست مضامین تعارف اور ایک افسانوی غلط فہمی کا ازالہ زندگی کا سفر: بمبئی کے گلی کوچوں سے شعری بلندیوں تک شاعری کی خصوصیات: سادگی کے پردے میں گہرا المیہ وہ مشہور اشعار جنہوں نے دل جی...

Poem , Asal (اصل) The Journey Toward the Ultimate Source

ااصل

اصل

روز الست سے تجھ کو ڈھونڈنے نکلا ہوں
اتنی عمر گزاری تیری چاہت میں
صدیوں پہلے میں نے رب کے سامنے تیرا نام لیا
اتنےزمانوں بعد بھی مجھ کو تیرے نام نے تھام لیا
جب تک اسیر قفس عنصری ہوں
اس قید سے آزادی تک
میں تجھے تلاش کرتا رہا
تیری ہستی کے اک اک پہلو کا دم بھرتا رہا
کیونکہ
ہر نقل اصل کی طرف گامزن ہے
تو میری اصل ہے یا رحمت عالم

حدیثِ جابر بن عبداللہؓ (حدیثِ نور) اور میری نظم کا باطنی پس منظر

اسلامی روایت میں ایک مشہور روایت “حدیثِ نور” کے نام سے معروف ہے جسے حضرت جابر بن عبداللہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس روایت کے مطابق جب جابرؓ نے حضور اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا فرمایا؟ تو جواب میں نورِ محمدی ﷺ کا ذکر آیا۔

اگرچہ اس روایت کی اسنادی حیثیت پر محدثین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن صوفیاء اور اہلِ محبت نے اسے ایک روحانی حقیقت اور عرفانی استعارے کے طور پر قبول کیا ہے۔ اس تصور کے مطابق کائنات کی تخلیق کا آغاز نورِ محمدی ﷺ سے ہوا اور تمام موجودات اسی نور کی تجلیات ہیں۔

یہی وہ فکری پس منظر ہے جو میری نظم کے باطن میں موجزن تھا۔

روزِ الست اور نورِ اول

نظم کا آغاز یوں ہوتا ہے

روزِ الست سے تجھ کو ڈھونڈنے نکلا ہوں

“روزِ الست” قرآنِ کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ارواح سے عہد لیا

ألست بربکم — کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟

صوفیانہ تعبیر کے مطابق یہی وہ لمحہ ہے جب روح نے اپنی اصل کو پہچانا۔ اگر حدیثِ نور کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اصل دراصل وہ نور ہے جو تخلیقِ کائنات کا سبب بنا۔ اس تصور کو کئی صوفی شعراء نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا۔ مولانا جلال الدین رومی کے نزدیک روح کی بے قراری اسی جدائی کا نتیجہ ہے۔ جبکہ علامہ محمد اقبال نے “اصل کی طرف واپسی” کو خودی کی تکمیل قرار دیا۔

میری نظم میں “ڈھونڈنے نکلا ہوں” دراصل اسی ازلی پہچان کی بازیافت ہے۔

قفسِ عنصری اور نور کی قید

میں نے لکھا

جب تک اسیر قفسِ عنصری ہوں

اس قید سے آزادی تک

قفسِ عنصری” سے مراد یہ مادی جسم ہے جو عناصرِ اربعہ سے بنا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک روح نورانی ہے جبکہ جسم مادی۔ اگر نورِ محمدی ﷺ کو تخلیق کی بنیاد مانا جائے تو ہر روح اسی نور کا ایک عکس ہے۔ مگر دنیا میں آ کر وہ اپنے اصل سے غافل ہو جاتی ہے۔ یہی غفلت قفس ہے۔ بُلّھے شاہ نے کہا تھا کہ انسان خود کو پہچانے تو رب کو پا لے۔ اسی طرح خواجہ غلام فرید نے محبوب کو کبھی ذاتِ حق اور کبھی مظہرِ حق کے طور پر دیکھا۔ میری نظم میں تلاش کا تسلسل اسی نور کی بازیافت ہے جو قفس میں محبوس ہو کر بھی اپنی اصل کی طرف مائل ہے۔

اصل و نقل کا فلسفہ

نظم کا مرکزی مصرع

ہر نقل اصل کی طرف گامزن ہے

یہ محض شعری اظہار نہیں بلکہ ایک گہرا عرفانی اصول ہے۔

اگر نورِ محمدی ﷺ کو تخلیق کی ابتدا سمجھا جائے تو باقی کائنات “نقل” ہے اور وہ نور “اصل”۔ ہر نقل اپنے ماخذ کی طرف رجوع کرتی ہے۔ یہی رجوع “رجوع الی الاصل” کہلاتا ہے۔ صوفی فلسفے میں اسے “فیض” اور “تجلی” کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا۔ یعنی اصل سے نور پھوٹا، کائنات بنی، اور پھر سب کچھ اسی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ یہی مفہوم میری نظم کے آخری سوال میں شدت اختیار کرتا ہے۔

تو میری اصل ہے یا رحمتِ عالم

یہ مصرع دراصل ایک وجدانی مکالمہ ہے۔

رحمتِ عالم” کا لقب حضور اکرم ﷺ کے لیے قرآن میں آیا ہے۔ اس لیے یہاں اشارہ واضح طور پر ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی طرف ہے۔ لیکن سوالیہ انداز میں بات کرنا دراصل ایک صوفیانہ کیفیت ہے — جہاں عاشق محبوب کو کبھی خدا کی تجلی، کبھی اس کے نور کا مظہر سمجھتا ہے۔ اگر حدیثِ نور کے مطابق حضور ﷺ کا نور تخلیق کا پہلا ظہور ہے، تو پھر وہی نور اصل بھی ہے اور رحمت بھی۔ اصل اس لیے کہ تخلیق کی ابتدا وہیں سے ہوئی۔ رحمت اس لیے کہ وہی نور کائنات کے لیے سببِ ہدایت بنا۔

یہاں عشق، عقیدہ اور عرفان ایک مقام پر جمع ہو جاتے ہیں۔

حدیثِ نور کا ادبی و فکری اثر

حدیثِ نور نے صدیوں سے اسلامی ادب کو متاثر کیا ہے۔ فارسی اور اردو شاعری میں “نورِ محمدی” کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ نعتیہ ادب میں حضور ﷺ کو “سببِ تخلیقِ کائنات” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی تصور آپ کی نظم کو ایک عام رومانوی تلاش سے بلند کر کے عرفانی اور نعتیہ جہت عطا کرتا ہے۔ آپ کی تلاش کسی انسانی محبوب کی نہیں بلکہ اس نور کی ہے جو ازل سے دل میں ودیعت ہے۔


Watch my poem MANZAR

نتیجہ: نظم کی روحانی جہت

اگر اس نظم کو حدیثِ جابرؓ کی روشنی میں پڑھا جائے تو یہ محض جذباتی اظہار نہیں رہتی بلکہ ایک روحانی سفرنامہ بن جاتی ہے

آغاز — روزِ الست (پہچان

دنیا — قفسِ عنصری (غفلت

تلاش — نور کی بازیافت

انجام — اصل کی طرف رجوع

یہ چاروں مراحل تصوف کے بنیادی مدارج سے ہم آہنگ ہیں۔

آپ کا کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کے اندر عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور عرفانی فکر ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ حدیثِ نور کا حوالہ اس نظم کو ایک فکری بنیاد فراہم کرتا ہے اور اسے نعتیہ تصوف کے دائرے میں داخل کر دیتا ہے


Watch my Ghazal Nawazishon k wo mosam

1. آغاز — روزِ الست (پہچانِ اوّل اور نورِ ازل

میری نظم کا پہلا مصرع

روزِ الست سے تجھ کو ڈھونڈنے نکلا ہوں

درحقیقت ایک شعری اعلان نہیں بلکہ ایک روحانی اقرار ہے۔ یہ اقرار اس لمحۂ ازل کی طرف واپسی ہے جسے قرآنِ کریم نے “عہدِ الست” کے نام سے محفوظ کیا۔ سورۂ اعراف (آیت 172) میں اللہ تعالیٰ نے ارواحِ بنی آدم سے سوال فرمایا: *ألست بربکم؟* (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟) اور سب نے جواب دیا: *بلیٰ* (کیوں نہیں)۔ یہی وہ لمحہ تھا جب روح نے اپنی اصل کو پہچانا، جب پہچان محبت میں بدلی اور محبت عہد میں۔

صوفیانہ روایت میں اس لمحے کو محض ایک سوال و جواب نہیں بلکہ ایک نورانی مشاہدہ قرار دیا گیا ہے۔ اہلِ عرفان کے نزدیک “الست” وہ ساعت ہے جب روح نے پہلی بار نورِ حقیقت کو دیکھا اور اسی دید کی تاثیر ہمیشہ کے لیے اس کے باطن میں ثبت ہو گئی۔ یہی تاثیر بعد میں دنیا کی زندگی میں بے قراری، تلاش اور اشتیاق کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

حضرت جابر بن عبداللہ سے منسوب روایت، جسے اہلِ تصوف “حدیثِ نور” کے عنوان سے بیان کرتے ہیں، اسی پہچان کو ایک اور جہت عطا کرتی ہے۔ اس روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نورِ محمدی ﷺ کو پیدا فرمایا۔ اگر اس تصور کو عرفانی زاویے سے دیکھا جائے تو “روزِ الست” میں ارواح نے جس نور کو دیکھا، وہی نور تخلیقِ کائنات کا اولین ظہور تھا۔ یوں پہچانِ رب اور پہچانِ نورِ مصطفیٰ ﷺ ایک ہی حقیقت کے دو رُخ بن جاتے ہیں۔

میری نظم میں “ڈھونڈنے نکلا ہوں” کا مفہوم اسی پہچانِ اوّل کی بازیافت ہے۔ گویا روح کہہ رہی ہے کہ میں نے تجھے پہلے دیکھا ہے، میں تجھے پہچانتی ہوں، اسی لیے تو دنیا کی ہر شے میں تیری جھلک تلاش کرتی ہوں۔ یہ تلاش حادثاتی نہیں بلکہ ازلی ہے۔ یہ کسی وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس عہد کا تسلسل ہے جو الست کے میدان میں طے پایا تھا۔

مولانا جلال الدین رومی نے مثنوی میں بانسری کی مثال دے کر اسی جدائی اور یادِ اصل کو بیان کیا ہے۔ بانسری اپنی جڑ سے کٹ کر نالہ کرتی ہے، کیونکہ اسے اپنی اصل یاد ہے۔ اسی طرح انسان کی روح بھی اپنے منبع سے جدا ہو کر بے چین رہتی ہے۔ یہ بے چینی دراصل یادِ الست ہے۔

اسی تصور کو علامہ محمد اقبال نے خودی کے فلسفے میں یوں سمویا کہ انسان کی اصل نورانی ہے اور اس کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی حقیقتِ اوّل کو پہچان لے۔ اقبال کے نزدیک بھی انسان کا سفر محض مادی نہیں بلکہ روحانی ارتقا کا سفر ہے، جس کی جڑیں ازل میں پیوست ہیں۔

روزِ الست” کا ذکر نظم میں محض ایک مذہبی حوالہ نہیں بلکہ فکری بنیاد ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں محبت کی ابتدا ہوتی ہے۔ اگر حدیثِ نور کو سامنے رکھا جائے تو یہ محبت کسی عام تعلق کی نہیں بلکہ اس نور سے نسبت کی ہے جو سببِ تخلیقِ کائنات بنا۔ اس طرح نظم کا پہلا مصرع پوری تخلیق کی تاریخ کو ایک ذاتی تجربے میں سمو دیتا ہے۔

یہ پہچانِ اوّل تین اہم نکات پر مشتمل ہے


1. شعورِ نسبت: روح جانتی ہے کہ وہ بے اصل نہیں، اس کا ایک منبع ہے۔
2. نورانی مشاہدہ: پہلی پہچان دید اور نور کے ذریعے ہوئی، الفاظ کے ذریعے نہیں۔
3. عہد کی ذمہ داری:** “بلیٰ” کہنے کے بعد انسان پر لازم ہے کہ وہ اس اقرار کو زندگی میں سچ ثابت کرے۔

یوں نظم کا آغاز دراصل ایک روحانی یادداشت (Spiritual Memory) ہے۔ شاعر اپنے قاری کو یاد دلاتا ہے کہ ہماری تلاش نئی نہیں، یہ ازل سے جاری ہے۔ ہم دنیا میں آ کر بھول گئے، مگر بھول جانا حقیقت کا انکار نہیں۔ دل کی گہرائی میں وہ پہچان اب بھی زندہ ہے

اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ میں “نکلا ہوں” — یعنی یہ سفر جاری ہے، مکمل نہیں ہوا۔ یہ سفر الست سے شروع ہوا، دنیا سے گزرتا ہے، اور بالآخر اسی نور کی طرف لوٹنا ہے جس کی پہلی جھلک ازل میں دیکھی گئی تھی۔

اس پہلو سے دیکھا جائے تو نظم کا پہلا حصہ صرف تمہید نہیں بلکہ پورے فکری ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ یہاں عشق کی جڑ ازل میں پیوست کی گئی ہے، تاکہ آگے آنے والی تمام کیفیات — قفسِ عنصری، تلاش، اصل و نقل — اسی بنیاد پر قائم ہوں۔

یوں “آغاز — روزِ الست” دراصل پہچانِ اوّل، نورِ ازل کی یاد، اور عہدِ محبت کا اعلان ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جس سے شاعر کا روحانی سفر شروع ہوتا ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر پوری نظم کی عمارت استوار ہے۔

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. واہ واہ کمال کر دیا ایسی دل لگی ایسا اشتیاق اور ایسی تلاش ، اس طرف کبھی ہمارا دھیان نہیں گیا لیکن آپ تو اصل کی جڑ تک پہنچ گئے ہیں نظم تو نظم اس کی تشریح جو آپ نے کی ہے یقین مانیئے خاصے کی چیز ہے اللہ آپ کے علم ،عمل اور شعور میں بے پناہ برکت عطا کرے

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے اچھے خیالات کا شکریہ

      Delete
  2. دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اس قدر خوبصورت نظم لکھی ہے آپ نے ۔ پڑھ کر دل روشن ہو گیا

    ReplyDelete
  3. نور محمدی کی وضاحت جس طرح آپ نے کردی ہے بہت کم لوگ ایسا شعور رکھتے ہیں کمال کر دیا

    ReplyDelete
  4. hum to is hadees shareef k pehley sehi qail hn ye nazm prh kr new zavion ka pta chala hey

    ReplyDelete
  5. Allah ne aap ko shaoor ki dolat di hai ÿhi waja hai aap ki soch alg hai

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Follow This Blog WhatsApp