اسرار الحق مجازؔ لکھنوی: ایک تعارف
اردو شاعری کی بیسویں صدی جب اپنے فکری اور جمالیاتی تحولات سے گزر رہی تھی، اسی عہد میں ادب کے افق پر ایک ایسا شاعر نمودار ہوا جس نے اپنی نغمگی، رومان اور انقلابی آہنگ سے نوجوان نسل کے دلوں میں آگ سی لگا دی۔ یہ شاعر اسرار الحق مجازؔ لکھنوی تھے، جو محبت کی لطافت اور بغاوت کی حرارت کو ایک ہی سانس میں سمیٹ لینے کا ہنر رکھتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
اسرار الحق، المعروف مجازؔ، 19 اکتوبر 1911ء کو اودھ کے قصبہ ردولی (ضلع بارہ بنکی/ایودھیا) میں ایک معزز مگر متوسط زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سراج الحق اس دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہوتے تھے اور محکمہ رجسٹریشن میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے عہدے تک پہنچے۔ گھریلو فضا علم و تہذیب سے آراستہ تھی، مگر مالی آسودگی وافر نہ تھی۔ مجازؔ کے بہن بھائیوں میں صفیہ اختر اور حمیدہ سالم نمایاں ہیں۔ صفیہ اختر معروف شاعر جان نثار اختر کی اہلیہ تھیں، یوں مجازؔ، جاوید اختر کے ماموں اور سلمان اختر کے قریبی رشتہ دار ٹھہرے۔ اس خاندانی نسبت نے ادب کے ساتھ ان کا رشتہ اور بھی گہرا کر دیا۔
بچپن ہی سے سماعت کی کمزوری اور مزاج کی تنہائی پسندی نے ان کی شخصیت میں ایک خاص طرح کی سنجیدگی اور داخلی اضطراب پیدا کر دیا تھا۔ وہ اکثر راتوں کو جاگ کر مطالعہ یا تخلیق میں مصروف رہتے، اسی سبب دوستوں میں “جگن بھیا” کہلاتے تھے۔
تعلیم اور علی گڑھ کا زمانہ
ابتدائی تعلیم ردولی میں پائی، پھر آگرہ اور بعد ازاں علی گڑھ کا رخ کیا۔ سینٹ جانز کالج آگرہ میں داخلہ لیا، مگر شاعرانہ ماحول اور نوجوانی کی بے فکری نے انہیں رسمی تعلیم سے کچھ بے زار رکھا۔ امتحانات میں ناکامیوں کے باوجود مشاعروں، موسیقی کی محفلوں اور ادبی نشستوں میں ان کی حاضری باقاعدہ تھی۔ بالآخر 1931ء میں انٹرمیڈیٹ مکمل کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے میں داخل ہوئے۔ فلسفہ، معاشیات اور اردو ان کے مضامین تھے۔ علی گڑھ اس زمانے میں ادبی کہکشاں تھا۔ منٹو، عصمت چغتائی، آل احمد سرور، سردار جعفری، مخدوم محی الدین، جذبی اور فیض احمد فیض جیسے نابغہ روزگار اسی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں مجازؔ کی شاعری کو فکری سمت اور تخلیقی جلا ملی۔
ترقی پسند تحریک اور ادبی شناخت
مجازؔ ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوئے اور اس کے فعال رکن بنے۔ ان کی شاعری میں تین استعارے بار بار جلوہ گر ہوتے ہیں: ساز، جام اور شمشیر۔ مگر ان کے ہاں ترتیب یوں بنتی ہے کہ پہلے ساز کی نغمگی، پھر جام کی سرشاری اور آخر میں شمشیر کی کاٹ۔
ان کا پہلا مجموعہ “آہنگ” 1938ء میں شائع ہوا، جس کے دیباچے میں فیض احمد فیض کی تحریر شامل تھی۔ یہ مجموعہ اپنے عنوان ہی کی طرح ترنم اور موسیقیت کا مظہر تھا۔ بعد ازاں “شبِ تار”، “سازِ نو” اور دیگر تخلیقات منظر عام پر آئیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ “یہ میرا چمن، یہ میرا چمن” بھی انہی کا لکھا ہوا ہے، جو آج تک جامعہ کی شناخت کا حصہ ہے۔ ان کی نظم “آوارہ” نے جس شہرت کو چھوا، وہ اس دور میں فیض کی “مجھ سے پہلی سی محبت” اور ساحر کی “تاج محل” کے ہم پلہ سمجھی جاتی تھی۔
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
یہ اشعار محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا اضطراب ہیں۔
Watch My Ghazal KIS QAYAMAT Ki
دہلی، بمبئی اور صحافتی زندگی
مجازؔ نے ایم اے ادھورا چھوڑ کر آل انڈیا ریڈیو کے رسالے “آواز” میں نائب مدیر کی حیثیت سے کام کیا۔ دہلی میں ترقی پسند ادیبوں کی انجمن سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں بمبئی میں محکمہ اطلاعات سے بھی منسلک ہوئے۔ کچھ عرصہ رسائل “پرچم” اور “نیا ادب” کی ادارت بھی کی، مگر سرکاری ملازمت اور دفتری سیاست ان کے آزاد مزاج کو راس نہ آئی۔
عشق، ناکامی اور ذہنی کرب
مجازؔ کی زندگی کا سب سے المناک باب ان کی ناکام محبت اور اس کے بعد بڑھتی ہوئی شراب نوشی ہے۔ ایک بااثر خاتون سے دل لگانا ان کی زندگی کا ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے انہیں اندر سے توڑ دیا۔ بیروزگاری، معاشی تنگی اور جذباتی شکست نے ان کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان پر متعدد بار ذہنی بیماری کے دورے پڑے۔ کبھی خود کو عظیم شاعر قرار دیتے، کبھی شکوک و وہم کے حصار میں گرفتار رہتے۔ رانچی کے ذہنی شفاخانے میں بھی قیام کرنا پڑا۔ صحت یابی کے بعد وقتی سنبھلاؤ آتا، مگر اندر کا خلا باقی رہتا۔
Adab Ki Poetry
شاعری کا جمال اور انفرادیت
مجازؔ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے، اگرچہ ان کی غزلیں بھی دلکش ہیں۔ ان کے یہاں رومان میں پاکیزگی اور جذبے میں وقار ہے۔ نہ بے جا گریہ، نہ بازاری شوخی، بلکہ ایک مہذب، دردمند اور موسیقیت سے بھرپور لہجہ۔ ان کی نظم “ننھی پجارن” اور “ایک نرس کی چارہ گری” اردو نظم میں انفرادیت کی مثالیں ہیں۔ “نرس” والی نظم میں شرارت اور حیا کا امتزاج اس سلیقے سے آیا ہے کہ جذبات کی شدت کے باوجود شائستگی مجروح نہیں ہوتی۔ ان کے اشعار میں ایک ٹوٹی ہوئی ساز کی بازگشت سنائی دیتی ہے:
ساری محفل جس پہ جھوم اٹھی مجازؔ
وہ تو آوازِ شکستِ ساز ہے
آخری ایام اور الم ناک انجام
1955ء کی ایک سرد دسمبر کی رات لکھنؤ کے ایک شراب خانے کی چھت پر دوستوں کے ہمراہ محفل سجی۔ نشے کی حالت میں ساتھی ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے اور مجازؔ تنہا رہ گئے۔ سردی کی شدت اور زیادہ شراب نے انہیں نیم مردہ کر دیا۔ اسپتال پہنچایا گیا، مگر دماغی نکسیر اور نمونیا نے جان نہ بخشی۔ 5 دسمبر 1955ء کو یہ درخشاں مگر بے قرار ستارہ غروب ہو گیا۔ ان کی تدفین لکھنؤ کے نشیّت گنج قبرستان میں ہوئی۔ تعزیتی جلسے میں عصمت چغتائی نے کہا تھا: “میں کبھی کبھی ان سے کہتی تھی کہ مجازؔ، اس سے بہتر ہے مر جاؤ۔ آج انہوں نے گویا جواب دیا: لو، میں مر گیا !”
Watch my poem GADDI NASHEEN
مجازؔ: ایک عہد کا استعارہ
مجازؔ محض ایک شاعر نہیں، ایک کیفیت کا نام ہیں۔ وہ نوجوانی کی بے قراری، محبت کی طہارت، انقلاب کی آرزو اور شکستِ دل کی خاموش چیخ کا مجموعہ تھے۔ ان کی زندگی اگرچہ مختصر رہی، مگر ان کا آہنگ آج بھی اردو ادب میں گونج رہا ہے۔ وہ آندھی کی طرح آئے اور گزر گئے۔۔۔ مگر اپنے پیچھے نغموں، خوابوں اور حسرتوں کی ایسی بازگشت چھوڑ گئے جو وقت کی گرد سے مدھم نہیں ہوتی۔۔
اعتراف۔۔
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو
میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو
چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو
طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو
بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو
مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے
میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے
خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے
شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے
شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے
حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے
میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے
ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا
سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا
ماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا
شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا
بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری
ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری
جنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم
درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم
خاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم
بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم
لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی
اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی
سنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھا
دشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھا
ریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا
آہ یہ راز ابھی میں نے کہاں جانا تھا
میری ہر فتح میں ہے ایک ہزیمت پنہاں
ہر مسرت میں ہے راز غم و حسرت پنہاں
کیا سنوگی مری مجروح جوانی کی پکار
میری فریاد جگر دوز مرا نالۂ زار
شدت کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار
میں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکار
وہ گداز دل مرحوم کہاں سے لاؤں
اب میں وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں
میرے سائے سے ڈرو تم مری قربت سے ڈرو
اپنی جرأت کی قسم اب میری جرأت سے ڈرو
تم لطافت ہو اگر میری لطافت سے ڈرو
میرے وعدوں سے ڈرو میری محبت سے ڈرو
ب میں الطاف و عنایت کا سزا وار نہیں
میں وفادار نہیں ہاں میں وفادار نہیں
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو
کلام : اسرار الحق مجاز🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

بہت خوب اچھا تعارف کروایا ہے مجاز صاحب کا
ReplyDeleteعمدہ اور نفیس تحریر ہے پڑھ کر مزاج میں تازگی سی آ گئی
ReplyDeleteArticle bohat acha hey aap ki waja se pehli dafa un ki nazm aitraaf prhney ka moqa mila,maza aya
ReplyDeleteAla, Kamal ki likhat
ReplyDeleteQabl e tareef article sir
ReplyDeleteاسرار الحق مجازؔ محبت کی لطافت اور بغاوت کی حرارت کو ایک ہی سانس میں سمیٹ لینے کا ہنر رکھتے تھے
ReplyDeleteآپ کا آرٹیکل سابقہ آرٹیکلز کی طرح غور سے پڑھا ایک بات سمجھ سے باہر ہے کہ کیا تمام شاعر ہی بلا کے شرابی ہوتے ہیں اسرار بھی زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر گیا
ReplyDelete