امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام
امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔
سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
امجد اسلام امجدؔ کا تعارف
امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے شاعری اور ٹیلی وژن ڈرامے کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی تحریروں میں انسانی جذبات، معاشرتی حقیقتوں اور زندگی کے تجربات کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
امجد اسلام امجدؔ اگست 1944ء میں لاہور، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا اور بعد ازاں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ علمی اور ادبی سرگرمیوں سے ان کی دلچسپی نے انہیں ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت بنایا جس نے ادب کی مختلف اصناف میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔
عملی زندگی اور ادبی خدمات
امجد اسلام امجدؔ کچھ عرصہ نیشنل سینٹر سے وابستہ رہے۔ وہ چلڈرن لائبریری کمپلیکس، لاہور کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کی ادبی دلچسپیاں صرف شاعری تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہیں تنقید اور ڈرامہ نگاری سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔
ان کی تحریروں میں زبان کی خوب صورتی، خیال کی پختگی اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا بیان نمایاں ہے۔ انہوں نے اپنے ادبی کام کے ذریعے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
میرے چینل بولتی نظمیں بولتی غزلیں کی پلے لسٹ دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں
ڈرامہ نگاری اور شہرت
امجد اسلام امجدؔ کو شاعری کے ساتھ ساتھ ٹیلی وژن ڈرامہ نگاری میں بھی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ ان کے کئی ڈراموں کو ناظرین نے پسند کیا اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ ان کا معروف ڈرامہ **’’وارث‘‘** اردو ٹیلی وژن ڈرامے کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس ڈرامے نے عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ **’’دہلیز‘‘** بھی ان کے معروف ڈراموں میں شمار ہوتا ہے۔
شکیل بدایونی کی شخصیت پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
شعری مجموعے اور تصانیف
امجد اسلام امجدؔ نے شاعری، ڈرامہ، گیت اور سفرنامے سمیت مختلف اصناف میں کام کیا۔ ان کی معروف تصانیف میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں
برزخ** — شعری مجموعہ
عکس** — شعری مجموعہ
ساتواں در** — شعری مجموعہ
فشار** — شعری مجموعہ
ذرا پھر سے کہنا** — شعری مجموعہ
وارث** — ڈرامہ
دہلیز** — ڈرامہ
آنکھوں میں تیرے سپنے** — گیت
شہر در شہر** — سفرنامہ
پھر یوں ہوا
یہیں کہیں
ان کی تصانیف کی تعداد بیس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ان کتابوں میں ان کی تخلیقی وسعت اور مختلف ادبی اصناف پر گرفت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
ناصر کاظمی پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
اعزازات اور ایوارڈز
امجد اسلام امجدؔ کو ان کی ادبی اور فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے نمایاں اعزازات میں **پرائڈ آف پرفارمنس** اور **ستارۂ امتیاز** شامل ہیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے بہترین رائٹر کے اعزازات بھی حاصل کیے اور پانچ مرتبہ بہترین رائٹر کے طور پر سراہا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں سولہ مرتبہ گریجویٹ ایوارڈ اور دیگر متعدد اعزازات ملے۔ یہ اعزازات ان کی مسلسل محنت، تخلیقی صلاحیت اور اردو ادب و ڈرامے کے لیے خدمات کا اعتراف ہیں۔
وفات
امجد اسلام امجدؔ 10 فروری 2023ء کو لاہور، پاکستان میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی وفات اردو ادب اور ٹیلی وژن ڈرامے کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ تاہم ان کی شاعری، ڈرامے اور تصانیف آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
فراق گورکھ پوری پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
امجد اسلام امجدؔ کے منتخب اشعار
امجد اسلام امجدؔ کی شاعری میں محبت، زندگی کی بے ثباتی، امید، تنہائی اور انسانی احساسات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ ان کے چند منتخب اشعار بطورِ خراجِ تحسین پیش ہیں۔
غمِ زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں
اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے
نہ آسماں سے نہ دشمن کے زور و زر سے ہوا
یہ معجزہ تو مرے دستِ بے ہنر سے ہوا
یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف
کھلتا نہیں کہ صاحبِ اسرار کون ہے
شاید اس بار ملے کوئی بشارت امجدؔ
آئیے پھر سے مقدر کی جبیں دیکھتے ہیں
تو اسیرِ آبروئے شیوۂ پندارِ حسن
میں گرفتارِ نگاہِ زندگیٔ مختصر
کمالِ حسن ہے حسنِ کمال سے باہر
ازل کا رنگ ہے جیسے مثال سے باہر
لہو میں تیرتے پھرتے ملال سے کچھ ہیں
کبھی سنو تو دلوں میں سوال سے کچھ ہیں
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
دامِ خوشبو میں گرفتارِ صبا ہے کب سے
لفظ اظہار کی الجھن میں پڑا ہے کب سے
رکا ہوا ہے ستاروں کا کارواں امجدؔ
چراغ اپنے لہو سے ہی اب جلائیں کہیں
تیرا یہ لطف کسی زخم کا عنوان نہ ہو
یہ جو ساحل سا نظر آتا ہے طوفان نہ ہو
حرفِ بے صوت کی مانند رہے دنیا میں
دشتِ امکاں میں کھلے نقش مصور نہ ہوئے
آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
جیسے خالی آنکھوں میں بھی وحشت رہتی ہے
حضورِ یار میں حرفِ التجا کے رکھے تھے
چراغ سامنے جیسے ہوا کے رکھے تھے
کسی ترنگ کسی سرخوشی میں رہتا تھا
یہ کل کی بات ہے کہ دل زندگی میں رہتا تھا
دریا میں قطرے کی صورت گم ہو جاؤں
اپنے آپ سے باہر نکلوں اور تم ہو جاؤں
وفا کی قبر پہ کب تک اسے جلا رکھیں
سو یہ چراغ ہواؤں کے نام کرتے ہیں
اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا
عجب موڑ پہ ٹھہرا ہے قافلہ دل کا
سکون ڈھونڈنے نکلے تھے وحشتیں بھی گئیں
ہر شام سلگتی آنکھوں کو دیوار میں چُن کر جاتی ہے
ہر خواب، شکستہ ہونے تک زنجیرِ سحر میں رہتا ہے
نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں تو کہیں
زمیں کے ساتھ نہ مل جائیں یہ خلائیں کہیں
یہ خواب ہے کہ حقیقت خبر نہیں امجدؔ
مگر ہے جینا یہیں پر، یہیں پہ مرنا ہے
کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں
امجدؔ مگر وہ شخص مجھے بھولتا نہیں
میری نظم فلمی ہیروئین کا اے ائی ورژن دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں
خراجِ تحسین
امجد اسلام امجدؔ ان اہلِ قلم میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے فن سے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کی شاعری دل کے احساسات کو زبان دیتی ہے، جبکہ ان کے ڈرامے زندگی اور معاشرے کی حقیقتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کا نام اردو شاعری اور پاکستان ٹیلی وژن کی تاریخ میں ہمیشہ احترام سے لیا جاتا رہے گا۔اگرچہ اب وہ جسمانی طور پر ہم میں نہیں رہے لیکن وہ اپنی ،شاعری ، ڈراموں اور اردو ادب کی خدمت کے لحاظ سے ہمیشہ اپنے پڑھنے اور چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام عطا کرے۔
تحریر و تدوین: افضال شکیل سندھو
یہ بلاگ afzalshakeel.blogspot.com کے لیے لکھا گیا ہے۔
تمام حقوق بحقِ مصنف افضل شکیل سندھو محفوظ ہیں۔
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu


بہت خوب امجد اسلام امجد کو ہم تو شاعر سے زیادہ ڈرامہ نگار کے طور پر جانتے ہیں بے مثال ڈرامے لکھے
ReplyDeleteبہت ہی عمدہ آرٹیکل ہے
ReplyDelete