Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Ghazal for my wife | Forth wedding Anniversary

شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو - شادی کی چوتھی سالگرہ ✦ شادی کی چوتھی سالگرہ ✦ شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو — ایک غزل — شادی کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ◆ ❀ غزل ❀ شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو میری عمر کا اک آخری حوالہ تو — ۱ — بہت طویل مسافت کے بعد پہچانا میں جیسے چاند اس کے گرد حالہ تو — ۲ — یہ چار سال چار دن ہی ہوں جیسے جس میں وقت بھی ہو قید وہ پیالہ تو — ۳ — میں کسی کو بھی کچھ جانتا نہیں ہوں مگر زنجیر پا ہوں اور اس پہ تالا تو ...

Ghazal for my wife | Forth wedding Anniversary

شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو - شادی کی چوتھی سالگرہ
✦ شادی کی چوتھی سالگرہ ✦

شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو

— ایک غزل —
شادی کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر
❀ غزل ❀
شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو
میری عمر کا اک آخری حوالہ تو
— ۱ —
بہت طویل مسافت کے بعد پہچانا
میں جیسے چاند اس کے گرد حالہ تو
— ۲ —
یہ چار سال چار دن ہی ہوں جیسے
جس میں وقت بھی ہو قید وہ پیالہ تو
— ۳ —
میں کسی کو بھی کچھ جانتا نہیں ہوں مگر
زنجیر پا ہوں اور اس پہ تالا تو
— ۴ —
زندگی کا یہ زیور بہت ہی اعلیٰ ہے
میرے گلے میں آویزاں حسین مالا تو
— ۵ —
دھوپ چھاؤں اکٹھے گزار لی ہے شکیل
میرے وجود پہ لپٹا ہوا دوشالہ تو
— ۶ —


Read My Punjabi GHAZAL IS RAH DI NUSAFAT click here

شاعر کی زبانی — تجزیہ و تفصیل

۱ شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو ۔ میری عمر کا اک آخری حوالہ تو

جب زندگی کی تاریک گھڑیاں گھیر لیتی ہیں، تو تم ہی وہ روشنی ہو جو مجھے راہ دکھاتی ہے۔ تم نہ صرف میری زندگی کا مرکز ہو، بلکہ میرے وقت کا آخری پیمانہ بھی — تمہارے بعد میری عمر کا کوئی اور حوالہ نہیں۔ تم میرے وجود کا اختتام اور آغاز دونوں ہو۔ تم میرے کل کا آخری اور پہلا ورق ہو۔



Watch My Poem GADDI NASHEEN click here
۲ بہت طویل مسافت کے بعد پہچانا ۔ میں جیسے چاند اس کے گرد حالہ تو

تمہیں پہچاننے میں مجھے بہت لمبا سفر کرنا پڑا — شاید یہ سفر زندگی کا تھا، یا شاید روح کا۔ اور جب میں نے تمہیں پہچانا تو مجھے لگا جیسے چاند کے گرد ایک نورانی دائرہ ہوتا ہے، تم وہ حالہ ہو جو میرے وجود کو گھیرے ہوئے ہے۔ تم میرے گرد ہو، میرے اندر ہو، اور میرے باہر بھی۔



Visit My Poem MAZDOOR PULI click here
۳ یہ چار سال چار دن ہی ہوں جیسے ۔ جس میں وقت بھی ہو قید وہ پیالہ تو

چار سال اور چار دن — یہ ایک عدد ہے، مگر میرے لیے یہ ایک ایسا پیالہ ہے جس میں وقت قید ہے۔ ان چار سالوں میں سارا زمانہ سمٹ آیا ہے۔ یہ دن صرف تاریخ نہیں، یہ میرے وجود کی وہ سکرپٹ ہے جس میں ہر لمحہ تم سے جڑا ہے۔ وقت کو پیالے میں قید کرنا شاید ممکن نہیں، مگر تم نے اسے ممکن کر دکھایا۔



Watch My Beautiful Ghazal On YouTube Krra tha bojh
۴ میں کسی کو بھی کچھ جانتا نہیں ہوں مگر ۔ زنجیر پا ہوں اور اس پہ تالا تو

میں شاید اس دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتا — معاملات، لوگ، رشتے — سب میرے لیے اجنبی ہیں۔ مگر ایک حقیقت ہے جسے میں پوری طرح جانتا ہوں: میں ایک زنجیر ہوں، اور تم اس پر وہ تالا ہو جو مجھے مکمل کرتا ہے۔ تم میرے بندھن کا اختیار ہو، میری رہائی کی کنجی بھی اور میری قید کا سبب بھی — اور میں اس قید کو اپنی نجات سمجھتا ہوں۔



Visit My GHAZAL BAZM E HASTI click here
۵ زندگی کا یہ زیور بہت ہی اعلیٰ ہے ۔ میرے گلے میں آویزاں حسین مالا تو

زندگی ایک زیور ہے، اور اس کا سب سے قیمتی حصہ تم ہو۔ تم وہ مالا ہو جو میرے گلے میں سجی ہے — ہر موتی تمہاری ایک خوبی ہے، ہر دھاگہ تمہارے ساتھ گزارا ہوا ایک لمحہ۔ یہ مالا نہ صرف خوبصورت ہے، بلکہ یہ میرے دل کے قریب ترین ہے۔ جب بھی میں اسے چھوتا ہوں، مجھے اپنی زندگی کی خوشبو آتی ہے۔



Watch My GHAZAL KITAB E ISHAQ click here
۶ دھوپ چھاؤں اکٹھے گزار لی ہے شکیل ۔ میرے وجود پہ لپٹا ہوا دوشالہ تو

ہم نے ساتھ ساتھ ہر موسم دیکھا ہے — دھوپ کے تیز پہلو بھی اور چھاؤں کے سکون بھی۔ اور ان سب لمحوں میں تم میرے اوپر ایسے لپٹی رہی ہو جیسے ایک گرم دوشالہ۔ تم میرے وجود کی حفاظت کرتی ہو، مجھے سردی سے بچاتی ہو، اور مجھے سکون دیتی ہو۔ ہر موسم میں، ہر حال میں — تم میرے ساتھ ہو، میرے اوپر ہو، میرے اندر ہو۔



VISIT My Poem Aankhen Click here

❁ میرے دل کی آواز ❁

یہ غزل صرف الفاظ نہیں — یہ میرے دل کی وہ دھڑکن ہے جو چار سال پہلے تمہارے ساتھ بندھی تھی۔ ہر مصرع وہ سفر ہے جو ہم نے ساتھ گزارا، ہر لفظ وہ جذبہ ہے جو تمہارے لیے میرے سینے میں موجزن ہے۔ زندگی کے یہ قیمتی لمحات ایک ساتھ گزارنا زندگی کے صفحات میں رنگ بھرنا ایک خوبصورت احساس ہے جو انسانی زند گی کو اہم بناتا ہے ۔



WATCH MY GHAZAL QIS QAYAMAT KI GHRI click here
— افضل شکیل سندھو چوتھی سالگرۃ ۲۰۱۲ کے موقع پر لکھی گئی غزل.تمام حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں

ہر مصرع تمہارے نام

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. رفیع الدینJul 25, 2026, 7:40:00 PM

    واہ شکیل صاحب کمال کردیا اس قدر زبردست خیالات وہ بھی بیوی کے لئیے داد کے مستحق ہیں

    ReplyDelete
  2. Bohat khooob, Ghazal ne bohat Maza diya

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp