خمار بارہ بنکوی
اردو ادب کے دھانے میں جب بھی غزل گوئی کا ذکر آتا ہے تو ایک نام جو دلوں میں اتر جاتا ہے، وہ ہے خمار بارہ بنکوی۔ سادگی، روانی اور گہرے جذبات کی شاعری کرنے والے اس عظیم شاعر نے اپنی فطری موسیقی اور منفرد اسلوب سے اردو غزل کو ایک نیا آسمان عطا کیا۔ آج ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی زندگی، فن اور شاعری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
تعارف اور ابتدائی زندگی
خمار بارہ بنکوی کا اصل نام محمد حیدر خان تھا۔ وہ 19 ستمبر 1919ء کو بارہ بنکی، اودھ (موجودہ اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا قلمی نام 'خمار' ہے، جو عربی لفظ 'خُم' سے ماخوذ ہے جس کے معنی شراب کے مرتبان کے ہیں، اور یہ ایک طرح سے شاعری کی مستی اور کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر غلام حیدر 'بہار' کے تخلص سے سلام اور مرثیے لکھتے تھے جبکہ ان کے چچا 'قرار بارہ بنکوی' ایک معروف شاعر تھے جنہوں نے خمار کی ابتدائی اصلاح کی۔
خمار صاحب نے گورنمنٹ کالج بارہ بنکی سے تعلیم حاصل کی اور پھر انٹرمیڈیٹ کے لیے لکھنؤ گئے۔ یہاں ان کی زندگی میں ایک رومانی موڑ آیا جس نے انہیں تعلیم چھوڑ کر محبت اور شاعری کی طرف مائل کر دیا۔ شاعری ان کا بچپن کا شوق تھا اور وہ ابتدا ہی سے مشاعروں میں شرکت کرنے لگے تھے۔
Visit My Blog On AASI KERNALI click here
فنی سفر اور شاعری کا اسلوب
خمار بارہ بنکوی کو قدرت نے ایک دلفریب اور پرکشش آواز عطا کی تھی، جو غزل کی فطری خوبصورتی کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔ انہوں نے ترنم کی یہ فن جگر مرادآبادی سے سیکھا۔ خمار صاحب کا کہنا تھا کہ "میں نے جملہ اصناف سخن کا تجزیہ کرنے کے بعد کلاسیکی غزل کو اپنے جذبات اور واقعات کے اظہار کے لیے سب سے موزوں پایا، چنانچہ میں نے غزل کی خدمت کو اپنا لیا"۔
ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی، روانی اور جذبات کی گہرائی ہے۔ وہ ایک صاحبِ طرز غزل گو تھے اور ان کی غزلوں میں عشق، جدائی، زندگی کی بے ثباتی اور تصوف کے رنگ ملتے ہیں۔ خمار صاحب کی شاعری کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اپنے دل کی بات بڑی سہولت سے کہہ رہا ہو، لیکن یہی سادگی ان کے کلام کی سب سے بڑی خوبی اور پہچان ہے۔
Visit My GHAZAL BAZM E HASTI MN click here
فلمی نغمہ نگاری اور مشاعروں میں مقبولیت
خمار بارہ بنکوی صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک بہترین فلمی نغمہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے کئی مشہور فلموں کے لیے یادگار گیت لکھے جن میں شاہجہاں، بارادری، اور ساز اور آواز شامل ہیں۔ 1945ء میں جب وہ جگر مرادآبادی اور مجروح سلطانپوری کے ساتھ بمبئی کے ایک مشاعرے میں گئے تو اے آر کاردار نے ان کے کلام سے متاثر ہو کر انہیں اپنی فلم "شاہجہاں" کے لیے گیت لکھنے کی دعوت دی۔ نوشاد نے اس گیت کو موسیقی سے آراستہ کیا اور کندن لال سہگل نے اسے اپنی آواز دی۔
اپنی دلفریب آواز اور شاعری کی وجہ سے وہ مشاعروں میں بے حد مقبول تھے۔ جگر مرادآبادی اور خمار بارہ بنکوی اپنے دور کے مشہور مشاعرے کی دو اہم شخصیات تھے۔
شخصیت اور عادات
خمار بارہ بنکوی ایک سادہ مزاج اور قلندر صفت انسان تھے۔ انہوں نے کبھی اپنی شاعری کے بارے میں بلند بانگ دعوے نہیں کیے۔ وہ ہر کسی کے سامنے جھک جاتے تھے اور ان کی گفتگو میں بڑی دلچسپی ہوتی تھی۔ ان کی یہ عاجزی اور سادگی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔
خمار صاحب کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جن کی قدر و منزلت ان کے مرنے کے بعد زیادہ ہوئی۔ ان کی غزلیں آج بھی اسی طرح زندہ ہیں جیسے کبھی تھیں، اور آنے والی نسلیں ان سے فیض یاب ہوتی رہیں گی۔
Visit My Blog On ABDUL HAMEED ADM click here
نمونۂ کلام
خمار بارہ بنکوی کے کلام کا ایک ایک شعر اپنی جگہ ایک مکمل داستان ہے۔ ان کی غزلوں میں جذبات کی شدت اور الفاظ کی بندش کا شاہکار ملتا ہے۔ چند مشہور اشعار ملاحظہ ہوں:
وفات اور میراث
خمار بارہ بنکوی نے 19 فروری 1999ء کو اپنے آبائی شہر بارہ بنکی میں 80 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی وفات کے ساتھ اردو غزل کی ایک شمع گل ہو گئی۔ لیکن ان کا کلام آج بھی زندہ ہے اور ان کی غزلیں مہدی حسن، غلام علی، کے ایل سہگل، محمد رفیع، لتا منگیشکر اور جگجیت سنگھ جیسے نامور گلوکاروں نے گائیں۔
خمار بارہ بنکوی کا شمار ان عظیم شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو غزل کو ایک نیا مقام عطا کیا۔ ان کی شاعری میں جو سادگی اور پرکاری ہے، وہ انہیں ہمیشہ کے لیے لازوال بناتی ہے۔
READ MY AFSANA (SHORT STORY) KHABAR click here

بہت خوب
ReplyDelete