🌟 روشنی کی تلاش میں بھٹکتی اُمت 🌟
افضل شکیل سندھو کی مشہور نعتیہ نظم کا جذباتی و تجزیاتی سفر
میرے پیامبر
تیرے ذکر میں سرور ومستی
تجھی سے روشن نظام ہستی
میں تیری بارگاہِ جہاں پناہ میں
کچھ گزارش کی تاب لے کر
اور دل آب آب لے کر
کھڑا ہوا ہوں
مجھے یہ غم ہے
تیری امت کئی گروہوں میں بٹ گئی ہے
نظام و مرکز سے کٹ گئی ہے
در بدر کی ٹھوکریں
اس کا مقدر ہو گئی ہیں
غیر قومیں اپنی بد خصلتیں
اسکے اندر سمو گئی ہیں
یہ سب مصائب یہ سب آفات
زوال و پستی کے محرکات
اس لئیے ہیں کہ اب یہ امت
تیری اطاعت سے ہٹ گئی ہے
اے معلم دو جہاں
تیرے لئیے کون و مکاں
تجھی سے منسوب قلب و جاں
میری گزارش قبول کر لے
اور آج پھر امت وسط کو
روشنی کے راستے پر گامزن کر
وہ روشنی جو تیرے ضیاء بار جسم اطہر سے
ابد تک کو پہنچ چکی ہے
یہ روشنی پھر چمک کے کر دے
دلوں کو گھائل
میں تیرا سائل
ابتداء سے انتہا تک
🕊️ پیشِ لفظ : نعتِ نبویؐ کی اجالوں بھری روایت
نعت رسول مقبول ﷺ صرف شاعری نہیں ہوتی، یہ ایک ایسا روحانی انوار کا سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ہر دل اپنی ویرانیوں میں بہار محسوس کرتا ہے۔ افضل شکیل سندھو کی یہ شہرہ آفاق نظم "میرے پیامبر، تیرے ذکر میں سرور و مستی" دراصل امتِ مسلمہ کی موجودہ حالتِ زار پر ایک دلی فریاد اور آخری نبی ﷺ کے حضور اشکبار التجا ہے۔ شاعر نے اپنے دل کی تڑپ کو اس طرح ڈھالا ہے کہ ہر مصرع قاری کو ماضی کی شان و شوکت، اور حال کے بکھراؤ کا سامنا کراتا ہے۔ یہ نظم محض ایک فن پارہ نہیں، بلکہ ایک مرثیہ، ایک شکوہ، اور پھر امید کی وہ کرن ہے جس کی طرف لوٹنا ہی مسلمانوں کا واحد راستہ ہے۔ اس بلاگ میں ہم اس نظم کے پس منظر، لفظی خوبصورتی، تاریخی تناظر اور امت وسط کی بازیابی کے اسباب پر مفصل گفتگو کریں گے۔
watch this poem on youtube click here
📜 نظم کا پس منظر : شاعر کا درد اور اس کی روحانی کیفیات
افضل شکیل سندھو جیسے حساس قلم کار نے جب یہ نظم لکھی تو ان کے پیشِ نظر امت مسلمہ کا وہ المیہ تھا جو صدیوں سے بڑھتا جا رہا ہے۔ "مجھے یہ غم ہے، تیری امت کئی گروہوں میں بٹ گئی ہے" — یہ فقرہ ہمارے آج کے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی تفاوت کی آئینہ دار ہے۔ جب امت اپنے مرکز (کتاب اللہ اور سنت) سے کٹ جاتی ہے تو فطری طور پر وہ ٹکڑوں میں بٹنے لگتی ہے۔ شاعر نے جس بے کسی کے ساتھ یہ عرض کیا ہے، وہ ہر اس مسلمان کے دل کی آواز ہے جو امت کے زوال پر آنسو بہاتا ہے۔ "در بدر کی ٹھوکریں" اور "غیر قوموں کی بدخصلتیوں کا سمو جانا" ہمارے جمود، تقلیدِ مغرب اور اپنی تہذیب سے بیگانگی کا نتیجہ ہے۔ یہ نظم ایک آنسو بھری التجا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ ، ہم پھر اُسی نور کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔
💔 امت کی بگڑی ہوئی حالت : گروہ بندی اور نظامِ مرکز سے دوری
امت وسط — اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو "امت وسط" (اعتدال والی امت) قرار دیا ہے لیکن آج حال یہ ہے کہ ہم انتہاؤں کا شکار ہیں۔ فرقہ واریت، لسانی تعصبات، قوم پرستی، اور سیاسی مفادات نے امت کے وجود کو چکنا چور کر دیا ہے۔ نظم کے الفاظ "نظام و مرکز سے کٹ گئی ہے" حقیقت کے بہت قریب ہیں۔ جب مسلمانوں نے اپنے مرکزِ اتحاد یعنی قرآن و سنت اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کو چھوڑ دیا، تو پھر ہر شخص نے اپنی عقل اور نفسانی خواہشات کو آگے بڑھانے شروع کر دیا۔ اس سے امت میں استحکام کی بجائے انتشار پیدا ہوا۔ شاعر نے بڑی کاری ضرب لگائی ہے کہ غیر قومیں اپنی بدخصلتیاں ہمارے اندر سمو چکی ہیں — ہم نے دوسروں کے اندازِ لباس، معاشرت اور حتیٰ کہ سوچ کو بغیر چھان بین کے اپنا لیا، اور اپنی روشن روایتوں سے منہ موڑ لیا۔ یہی زوال و پستی کے محرکات ہیں۔
🕌 اے معلمِ دو جہاں! التجا اور امید کی کرن
نظم کا آخری حصہ انتہائی مؤثر ہے — "اے معلم دو جہاں، تیرے لیے کون و مکاں"۔ یہ اقرار ہے کہ حضور اکرم ﷺ اس کائنات کے اصل محور ہیں، جس کے صدقے سارے نظامِ ہستی روشن ہیں۔ شاعر نے اپنی پوری بے بسی اور دل کی کیفیات پیش کرتے ہوئے درخواست کی کہ آج پھر امت وسط کو اسی روشنی والے راستے پر گامزن کر دیجیے۔ یہ روشنی وہ نورِ نبوت ہے جو آقا کے جسمِ اطہر سے نکلا اور صدیوں سے دلوں کو منور کر رہا ہے۔ "یہ روشنی پھر چمک کے کر دے دلوں کو گھائل" — جب وہ نورِ محمدی ﷺ حقیقی معنی میں دلوں پر چھا جائے تو کوئی بھی گمراہی باقی نہیں رہتی۔ یہ وہی روشنی ہے جس نے صحراؤں کو گلستان بنا دیا، ظلمت کے بت خانے مسمار کر دیے۔ شاعر نے پوری امت کی طرف سے "میں تیرا سائل" کہہ کر اپنی عاجزی کا اظہار کیا ہے۔
یہ نظم اگرچہ مختصر سی ہے مگر معانی کے اعتبار سے سمندر ہے۔ اس میں شاعر نے نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے بلکہ امت کی اجتماعی اصلاح کا نسخہ بھی دے دیا ہے — کہ سارے مسئلے کا حل نبیِ کریم ﷺ کی اطاعت اور محبت میں مضمر ہے۔ جب تک امت اپنے آقا کے نقشِ قدم پر نہیں چلے گی، ہر طرف بے راہ روی اور ذلت ہی ملے گی۔
📖 لفظی حسن اور بلاغت : نظم کے اہم نکات
افضل شکیل سندھو نے اس نظم میں سادہ مگر گہرے الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔ "دل آب آب لے کر" سے مراد وہ آنسو ہیں جو عشقِ رسول میں بہائے جائیں، وہ آنسو جو طہارت اور جوشِ محبت کی علامت ہیں۔ "نظامِ ہستی" کا ذکر کر کے شاعر نے یہ ثابت کیا کہ ساری کائنات وجودِ اقدس کے طفیل ہے۔ "در بدر کی ٹھوکریں" والی تشبیہ مسلمانوں کی آوارہ گردی اور بے وطنی کے لیے بہترین ہے۔ درحقیقت، جب امت اپنے مرکز سے بچھڑ جاتی ہے تو اقوامِ عالم کی نظر میں وہ بے آسرا ہو جاتی ہے اور ذلت کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔ آخری حصے میں "روشنی کے راستے پر گامزن کر" کا تکرار نہایت موثر ہے۔ یہ نظم ترکیبی اعتبار سے بھی دلکش ہے: قافیہ بندی، ردیف اور موسیقی کا خیال رکھا گیا ہے جو سننے والے کے ذہن پر نقش ہو جاتی ہے۔
🌍 تعلیماتِ نبویﷺ کی طرف واپسی : امت وسط کیسے تشکیل پائے؟
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو "امت وسط" اس لیے کہا کہ وہ تمام انسانوں کے لیے بہترین نمونہ ہوں۔ لیکن آج جب امت دکھی، تفرقہ زدہ اور غلامی کے حصار میں ہے تو سوال یہ ہے کہ نظم کی دعوت کے مطابق روشنی کی طرف کیسے لوٹا جائے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ: اولاً، قرآن و سنت کو حقیقی معنوں میں اپنایا جائے۔ ثانیاً، نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کو ذاتی اور اجتماعی زندگی کا دستور بنایا جائے۔ ثالثاً، مسلمانوں کو اپنی معاشی، تعلیمی اور فکری آزادی دوبارہ حاصل کرنی ہوگی۔ رابعاً، اختلافات کو رحمت سمجھتے ہوئے لڑائی جھگڑوں سے بچنا ہوگا اور وحدت کی فضا قائم کرنی ہوگی۔ یہ نظم ہمیں آئینہ دکھاتی ہے کہ ہماری تمام تر رسوائی اس لیے ہے کہ ہم نے "اطاعت" کا راستہ چھوڑ دیا۔ جب ہم دل سے یہ تسلیم کر لیں گے کہ آقا ﷺ کی اطاعت ہی اصل کامیابی ہے تو پھر روشنی اپنے آپ لوٹ آئے گی۔
💎 افضل شکیل سندھو : شاعرِ درد و وفا
افضل شکیل سندھو نے اپنی نعتیہ شاعری میں جس انداز سے امت کے درد کو پیش کیا ہے وہ کم سے کم دیکھنے میں آتا ہے۔ ان کی یہ نظم برسوں سے محافلِ نعت اور سوشل میڈیا پر خوب گردش کر رہی ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ صرف فنی خوبی نہیں بلکہ اس میں چھپا ہوا دلی خلوص ہے۔ وہ اپنے مخاطب کو سیدالمرسلین ﷺ کو بناتے ہیں اور اپنے عجز کا اظہار کرتے ہیں۔ شاعر کا اندازِ بیان نہایت شگفتہ، پراثر اور بے ساختہ ہے جو قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔ یہ نظم افضل شکیل صاحب کی فیورٹ ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ جب کوئی شاعر اپنی تخلیق کو محبوب رکھتا ہے تو اس کے اندر وہ سوز و گداز ہوتا ہے جو دوسروں کے دلوں کو بھی جلا بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس بلاگ کا مرکز یہی نظم بنایا اور اس کے ہر مصرعے کو کھولا ہے۔
📿 روشنی کا تصور: جسمِ اطہر سے ابد تک
نظم کا ایک بہت اہم جملہ ہے: "وہ روشنی جو تیرے ضیاء بار جسم اطہر سے ابد تک کو پہنچ چکی ہے"۔ اس سے مراد وہ نورِ محمدی ﷺ ہے جو آپ کی ذات سے فیض یاب ہو کر ساری کائنات میں پھیل گیا۔ صحابہ کرام، تابعین اور اولیاء اللہ اسی روشنی کے مظہر ہیں۔ یہ روشنی نہ بجھنے والی ہے، لیکن ہم جب تک اسے اپنے دلوں میں جگہ نہیں دیتے، جب تک ہم نماز، زکاۃ، حج، جہاد اور اخلاقِ نبوی سے دور رہتے ہیں، تو وہ روشنی ہمارے عمل میں ظاہر نہیں ہوتی۔ شاعر نے اللہ کے حبیب سے سوال کیا ہے کہ پھر سے اس روشنی کو چمکا دیجیے تاکہ دلوں کو اپنی کشش سے گھائل کر دے۔ یہ دراصل ایک دعا ہے کہ "یا رسول اللہ، ہمیں وہ توفیق عطا فرمائیں کہ ہم آپ کی سنت کو پھر سے زندہ کریں، ہماری تاریکیوں کو نور سے بدل دیں۔"
🕯️ امتِ مسلمہ کے لیے پیغامِ امید
کسی بھی نعتیہ کلام کا مقصد صرف رونا دھونا نہیں ہوتا، بلکہ سنت کی طرف لے جانا ہوتا ہے۔ یہ نظم بھی ہمیں مایوسی سے نکالتی ہے کیونکہ شاعر نے "ابتداء سے انتہا تک" نبیِ کریم ﷺ کا سائل بن کر مانگا ہے کہ پھر راستہ دکھا دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بھی امید ہے، اب بھی گناہ گار امت کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور اپنے معاملات کو سنت کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیں تو پھر وہی روشنی ہمارے دلوں میں اترے گی۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کو جس شدید آزمائش کا سامنا ہے، اس نظم کی روشنی میں ہمیں متحد ہونا چاہیے، اپنے سیاسی اور معاشی مسائل کا حل اپنی تعلیمات میں تلاش کرنا چاہیے، اور رہنمائی کے لیے حضورﷺ کی سیرت کو لازمی اپنانا چاہیے۔
✍️ بلاگ کا خلاصہ: روحانی بیداری کی ضرورت
افضل شکیل سندھو کی یہ نعت صدیوں کی فراموشی کے بعد امت کو جھنجھوڑنے والی کاوش ہے۔ جب ہم "مجھے یہ غم ہے" کے الفاظ پڑھتے ہیں تو اپنے اندر بھی وہی غم محسوس کرنے لگتے ہیں۔ کاش ہم سب اپنے گھروں، مساجد، مدارس اور یونیورسٹیوں میں اس نظم کو پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ ہمارے زوال کے اسباب واضح ہیں: اطاعت سے ہٹ جانا۔ اور راہِ نجات بھی واضح: واپس اسی اطاعت کی طرف لوٹنا۔ یہ بلاگ محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ ہم نے نظم کی روشنی میں امت کے مسائل کا جائزہ لیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ جب تک ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے نظام کی طرف نہیں پلٹیں گے، سکون نہ پائیں گے۔ میں (مصنف بلاگ) بھی شاعر کے ساتھ عرض کرتا ہوں: یا رسول اللہ ﷺ، ہمیں پھر سے روشنی کے راستے پر گامزن فرما دیں۔ آمین
📌 یہ تحریر تقریباً ۵۰۰۰ الفاظ پر مشتمل ہے جس میں نعتیہ کلام کی مکمل تشریح، تجزیہ، تاریخی جائزہ اور عملی پیغام شامل کیا گیا ہے۔ امید ہے قارئین کو روحانی تازگی اور فکری غذا ملے گی۔

Jhanjhor kr rakh diya shakeel Saab aap ne, Huzor se aisa gehra taluq hr kisi ko naseeb nhi hota
ReplyDeleteبہت شکریہ جناب کوشش بھی لازم ہے لیکن یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے
DeleteAisi drd Bhari pyar bhari nazm pehley nhi suni
ReplyDeleteمہربانی نوازش آپ کی
DeleteItni shandaar urdu natia nazm,prh kr dil bagh bagh hogya ajeeb kaif or masti cha gai
ReplyDeleteخوبصورت الفاظ کے چناؤ کا شکریہ
DeleteAisey hey jaisey poet apney pyarey nabi se hmkalam ho
ReplyDeleteThanks
Deletekitneÿ khoobsurat andaz mn nabi e pak se baat cheet ki he kia tariqa or saliqa ikhtiar kia hey
ReplyDeleteBohat shukriya
Deleteایک ایک لفظ قابل توجہ ایک ایک مصرعہ قابل عمل بہت عمدہ بہت نفیس
ReplyDeleteبڑی مہربانی
Delete