Skip to main content

Posts

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Do Badan Urdu Poetry — The Fire of Love That Melts Even Fire Itself

Do Badan Urdu Poetry — The Fire of Love That Melts Even Fire Itself | Romantic Urdu Shayari Urdu Romantic Poetry · Nazm دو بدن نظم کے اے آئی ورژن کو سننے کے لئے یہاں کلک کریں دو بدن عشق کی وہ آگ، جو آگ کو بھی پگھلا دے ❀ ✦ ❀ About the Poet شاعر کا تعارف یہ نظم اُردو کی اُس رومانوی روایت کا حصہ ہے جو عشق کو صرف جذبات نہیں، بلکہ ایک کائناتی حقیقت سمجھتی ہے۔ شاعر نے "دو بدن" کے عنوان تلے محبت کو ایک ایسی آگ قرار دیا ہے جو زمانے، خلا اور نسل در نسل سفر کرتی ہوئی آخری انسان تک پہنچتی ہے۔ اُن کی شاعری میں چاند، ستارے، ہوائیں اور نوری سال ایسے استعارے بن جاتے ہیں جن میں انسانی جذبہ کائنات کی وسعتوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ محبت یہاں ایک لمحاتی کیفیت نہیں، بلکہ آدم و حوا سے چلتی ہوئی ایک ابدی ریت ہے۔ امجد اسلام امجد پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں ✦ The Poem — Do Badan نظم رات کے پچھلے...

Summer Vocations | long vacations for fun and recreation

Summer Vocations summer vacations are held in all punjab on 1st june 2024. Summer Vacation from May 25, 2024(25 may too 31 may due to heat wave), to August 14, 2024, in Punjab, Pakistan: Summer vacations are a much-anticipated break for students and families alike. In Punjab, Pakistan, the summer vacation period from May 25, 2024, to August 14, 2024, provides a significant respite from the intense heat and a valuable opportunity for rest, exploration, and enrichment. This essay explores the various dimensions of summer vacations in Punjab, their impact on students and families, and the potential activities and experiences that can make this period enjoyable and productive. The Significance of Summer Vacations Summer vacations in Punjab hold particular significance due to the extreme temperatures that can soar above 40 degrees Celsius. This break helps in shielding students from the harsh weather, reducing the risk of heat-related illnesses. Additionally, it offers a break f...

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

A Cry Against Injustice – A Powerful Poem on the United Nations

A Cry Against Injustice – A Powerful Poem on the United Nations Visit My Website Visit My Youtube Channel اقوام متحدہ تمھیں یہ حق ہے ہمارے قاتل تیرے دامن نا رسا میں چین پائیں مزے اڑائیں تمھیں یہ حق ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا وہ امیرکہ جس کی نظر میں تما م وحشی امن کی دیوی کے پرستار تمام قاتل بے گناہ اور بے خطا وار تما ظالم محبتوں کے علم بردار تجھے بنایا تھا وہ ادارہ جو امن عالم فروغ دیگا حقیقتوں کو نظر میں رکھ کر زندگی کو فروغ دیگا مگر تو مقصد سے ہٹ گیا ہے تجھے یہ حق ہے تیری اطاعت پہ مجھکو شک ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا ہمیں کو تاراج کر کے رکھ دے Read MY POEM ASAL click here نظم کی اردو وضاحت یہ نظم عالمی سیاست، ناانصافی اور طاقت کے دوہرے معیاروں کے خلاف ایک جراتمندانہ آواز ہے، جس میں شاعر نے اقوام متحدہ کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ نظم کا آغاز ایک طنزیہ انداز سے ہوتا ہے جہاں شاعر بظاہر یہ کہتا ہے کہ عالمی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالموں کو پناہ دیں اور انہیں سکون فراہم کریں۔ مگر درحقیقت یہ ایک شدید احتجاج ...

apney honey ka | Borrowed Existence – A Soulful Urdu Ghazal of Love and Identity

apney hone ka | Borrowed Existence – A Soulful Urdu Ghazal of Love and Identity Urdu shayari collection || Heart Touching Urdu shayari || Heart Touching Urdu Poetry || Sad Shayari || Broken heart Poetry || Love Poetry || Mohabbat Ki Shayari https://bit.ly/3RotffE https://bit.ly/3TdyAsy afzalshakeel.blogspot.com Rekhta - Urdu Poetry Read My GHAZAL HAAR NA MANI click here غزل اپنے ہونے کا احساس میں نے تم سے لیا یوں لگا ہر سانس میں نے تم سے لیا یہ سرد مہری غم ہجر کی قیامت ہے تشبیہات کا افلاس میں نے تم سے لیا سایہ بن کے تیرے ساتھ ساتھ چلتا رہا دوستی کا یہ اخلاس میں نے تم سے لیا مہک ہمیشہ سے موضوع رہا ہے پھولوں کا مگر یہ پھول بن باس میں نے تم سے لیا میں لکھ رہا تھا کہانی کے چند اچھے نقوش پر یہ لہجہ پر ہراس میں نے تم سے لیا بیرون دل بھی تلاطم ہے اور اندربھی ولولوں کا یہ اجلاس میں نے تم سے لیا نگر نگر رہا تیرا سفر ادھورا شکیل شعور وحدت افلاس میں نے تم سے لیا Read My Poem Mujhey Kisi se Gila Nahi click...

Tmam Wasf | Strength in Brokenness – A Powerful Urdu Ghazal on Patience and Dignity

Tmam Wasf | Strength in Brokenness – A Powerful Urdu Ghazal on Patience and Dignity tmam wasf khudaya teri ata k hn shakasta jism mgr hosley bla k hn https://bit.ly/3TdyAsy غزل تمام وصف خدایا تیری عطا کے ہیں شکستہ جیسم مگر حوصلے بلا کے ہیں خطوط یاس کی سچائیوں میں کھوئے ہوئے حروف زہر میں بھیگے دلربا کے ہیں سر بازار تعلق سے پیش و پس اور اب ختم ہوئے وہ فسانے جو ابتدا کے ہیں میرا وقار نہ مجروح ہوا نہ ہو گا کبھی زباں عام پہ قصے تیری جفا کے ہیں کس غرور سے سر چار ہو چکا ہے شکیل فقط نتیجے یہ محفل میں التجا کے ہیں Read My GHAZAL OQAT E AAS MUYASI HN ZIDGI KO QALEEL click here 📖 غزل کی اردو وضاحت یہ غزل صبر، حوصلے، اور خودداری کی ایک گہری اور باوقار ترجمانی ہے۔ شاعر ابتدا میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کی ہر خوبی اور طاقت دراصل خدا کی عطا ہے، چاہے جسم کمزور ہو مگر حوصلے بلند رہتے ہیں۔ اشعار میں مایوسی، درد اور تلخی کے احساسات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ "خطوطِ یاس" اور "حروف زہر...

ab mujhey yaad na krna logo | A poem of inner feelings about existance and remembrance

ااب مجھے یاد نہ کرنا لوگو تحریر: افضل شکیل سندھو Read My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A نظم اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو میں تمھیں یاد بہت آؤں گا جتنا تڑپا تمھیں تڑپاؤں گا میں تمھیں یاد بہت آؤں گا رنج کے منبع سے خوشیوں کے بھی چشمے پھوٹے مدتوں تک میرے ارمانوں کے شیشے ٹوٹے میں بھی انسان ہوں مٹ جانے کو آیا ہوں یہاں اپنے خوابوں میں سمٹ جانے کو آیا ہوں یہاں حسنِ ہستی کبھی برباد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو قتل ہوتی رہی برسوں یہاں آوازِ وفا سمجھ کر بھی جو نہ سمجھے یہاں اندازِ وفا چشم پر خواب سے گرتے ہوئے آنسو کی قسم میری دل جوئی کو بڑھتے ہوئے بازو کی قسم جبر کے سامنے فریاد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو چھان ڈالا میں نے اس دیس کا قریہ قریہ میں نے لفظوں کو ہی اظہار کا سمجھا ذریعہ کوئی تصویر میرے کرب کی تہہ تک نہ گئی میرے سینے میں کہیں بے دلی رہ تک نہ گئی روشنی آئے تو ناشاد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو میں تمھیں یاد بہت آؤں گا جتنا تڑپا تمھیں تڑپاؤں گا میں تمھیں یاد بہت آؤں گا ...

(لاریب افضل) Laraib Afzal my sweet doughter

Laraib afzal Two years ago Allah bless us with his great blessing,a baby girl.we both and My family were very happy and excited because we have two boys and we want a pretty baby girl,So Allah gave us that blessing,we eat and distribute sweets to all our family members. childrens are the major blessings of Allah,I remember when my elder son come in this beautiful world,I realized as my status increased.Now I became a father and it was a great realization, accepting congratulations from all relatives was also a good sensation and happiness.At that time, My father was alive,and he too was very excited and happy.My mother was died in my childhood,it was my father who grown us as father and mother.But the deficiency of motherhood was a reality and we didn't ignore this reality.inspite of all this,the presence of very kind and hardworking father saved us from the all problems of life. we knew about a baby girl soon will be a part of our family,So I read three books of children name...

history of punjabi language | Origin, Evolution, and Cultural Significance

history of punjabi language | Origin, Evolution, and Cultural Significance مضمون کی اردو وضاحت (Description in Urdu): یہ مضمون پنجابی زبان کی تاریخ، اس کے آغاز، ارتقاء اور ثقافتی اہمیت پر ایک جامع نظر پیش کرتا ہے۔ پنجابی زبان برصغیر کی قدیم ترین زبانوں میں شمار ہوتی ہے، جس کی جڑیں قدیم ہند آریائی زبانوں میں پیوست ہیں۔ مضمون میں پنجابی زبان کے مختلف ادوار کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں قدیم دور، صوفیاء کا دور، اور جدید عہد شامل ہیں۔ خاص طور پر صوفی شعراء جیسے بابا فرید، وارث شاہ، اور بلھے شاہ نے پنجابی زبان کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اسے روحانیت اور محبت کا ذریعہ بھی بنایا۔ اس تحریر میں پنجابی زبان کے رسم الخط (شاہ مکھی اور گرمکھی)، اس کی مختلف بولیاں، اور اس کے ادبی سرمایے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ مزید برآں، پنجابی زبان کی موجودہ حیثیت، اس کے چیلنجز، اور اس کے فروغ کی ضرورت پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ یہ مضمون قارئین کو نہ صرف پنجابی زبان کی تاریخی گہرائی سے روشناس کرواتا ہے بلکہ اس کی ثقافتی اور ادبی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔ ...

raabta ustwar tha | Loss of Love and Fading Identity – A Heartfelt Urdu Ghazal

raabta ustwar tha | Loss of Love and Fading Identity – A Heartfelt Urdu Ghazal READ MY POEM MAZDOOR PULI CLICK HERE رابطہ استوار نہ رہا رابطہ استوار تھا نہ رہا دل میرا بیقرار تھا نہ رہا اپنی بے چین آرزو کی قسم میں کبھی سوگوار تھا نہ رہا شام ساکت تھی چاند تھا مدھم اس گھڑی انتظار تھا نہ رہا رخ روشن کی دید سے محروم آیئنہ اشکبار تھا نہ رہا خواہشیں بے لگام ہونے لگیں خود پہ جو اختیار تھا نہ رہا چاند غاروں میں چھپ گیا ہوگا ایک ہی یار غار تھا نہ رہا یاد تو کر تمہاری نظروں میں میں کبھی با وقار تھا نہ رہا ہیں پریشان آج موسمی پھول باغ پر بھی نکھار تھا نہ رہا کل میرے دوست یہ کہیں گے شکیل ایک نغمہ نگار تھا نہ رہا Read My Blog On NOON MEEM RASHID click here غزل کی اردو وضاحت یہ غزل انسانی جذبات کی شکست و ریخت، محبت کے زوال اور ذات کے بکھرنے کی ایک گہری اور درد بھری تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر ابتدا ہی میں اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ جو تعلق کبھی مضبوط تھا، اب باقی نہیں رہا اور دل کی بے قراری بھی ماند پڑ چکی ہے۔ اشعار ...

Haar – A Powerful Short Urdu Poem on Struggle and Silence

Haar – A Powerful Short Urdu Poem on Struggle and Silence READ MY POEM MAAN CLICK HERE ہار ڈھونڈتا رہا مگر راستہ ملا نہیں کوششوں ک باوجود جبل غم ہلا نہیں وہ پھول جو ہزار موسموں میں بھی کھلا نہ تھا کھلا نہیں وہ تاج بھی جو خون سے سجا رہا گرا نہیں Read My Poem MUJHEY KISI SE GILA NAHI click here تفصیلی اردو وضاحت یہ نظم "ہار" اپنی سادگی میں ایک غیر معمولی گہرائی رکھتی ہے۔ چند مختصر مصرعوں میں شاعر نے انسانی جدوجہد، ناکامی اور اندرونی کرب کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ نظم کا آغاز ایک تلاش سے ہوتا ہے—ایک ایسے راستے کی تلاش جو شاید کبھی ملا ہی نہیں۔ شاعر مسلسل کوشش کرتا ہے، مگر اس کے باوجود "جبلِ غم" اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ یہ استعارہ اس بات کی علامت ہے کہ بعض دکھ اور مشکلات انسان کی تمام تر کوششوں کے باوجود کم نہیں ہوتے۔ آگے چل کر شاعر ایک ایسے پھول کا ذکر کرتا ہے جو ہزار موسم گزرنے کے باوجود نہیں کھلا۔ یہ دراصل ان خوابوں اور خواہشوں کی نمائندگی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بھی حقیقت کا رو...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp