Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

درویش اور فقیر شاعر ۔ ساغر صدیقی

سساغر صدیقی: ایک تعارف ساغر صدیقی ایسا شاعر ہے جسے میں بچپن سے پڑھتا آیا ہوں سکول دور میں ہی ان کے بارے کتاب خریدی جو پھر ان کی کلیات خریدی جو آج بھی میری ذاتی لائبریری میں موجود ہے ان کا تعارف میں آپ کو انہی کی تحریر سے کرواتا ہوں اردو شاعری کے درد آشنا، جنوں صفت اور المیہ کردار شاعر ساغر صدیقی 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد اختر تھا۔ ساغر کا بچپن ایسی شدید غربت میں گزرا جہاں اسکول یا مدرسے کی باقاعدہ تعلیم کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ فاقہ کشی اور محرومی ان کے گھر کی مستقل حقیقت تھی۔ ابتدائی تعلیم اور شعری ذوق کی بیداری Watch my beautiful Naat اسی ماحول میں محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن ساغر کے لیے نعمت ثابت ہوئے۔ ساغر ان کے ہاں آنے جانے لگے اور وہیں سے انہیں ابتدائی تعلیم میسر آئی۔ تاہم انبالہ کی تنگ دستی اور عسرت نے ساغر کے دل میں ایک بے چینی پیدا کر دی۔ چنانچہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں وہ انبالہ کو خیرباد کہہ کر امرتسر جا پہنچے امرتسر: محنت، فن اور شاعری کا سنگم امرتسر میں ساغر نے روزگار کی تلاش میں لکڑی کی کنگھیاں بنانے والی ایک دکان پر ملازمت اختیار ک...

درویش اور فقیر شاعر ۔ ساغر صدیقی

سساغر صدیقی: ایک تعارف

ساغر صدیقی ایسا شاعر ہے جسے میں بچپن سے پڑھتا آیا ہوں سکول دور میں ہی ان کے بارے کتاب خریدی جو پھر ان کی کلیات خریدی جو آج بھی میری ذاتی لائبریری میں موجود ہے ان کا تعارف میں آپ کو انہی کی تحریر سے کرواتا ہوں

اردو شاعری کے درد آشنا، جنوں صفت اور المیہ کردار شاعر ساغر صدیقی 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد اختر تھا۔ ساغر کا بچپن ایسی شدید غربت میں گزرا جہاں اسکول یا مدرسے کی باقاعدہ تعلیم کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ فاقہ کشی اور محرومی ان کے گھر کی مستقل حقیقت تھی۔

ابتدائی تعلیم اور شعری ذوق کی بیداری


Watch my beautiful Naat

اسی ماحول میں محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن ساغر کے لیے نعمت ثابت ہوئے۔ ساغر ان کے ہاں آنے جانے لگے اور وہیں سے انہیں ابتدائی تعلیم میسر آئی۔ تاہم انبالہ کی تنگ دستی اور عسرت نے ساغر کے دل میں ایک بے چینی پیدا کر دی۔ چنانچہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں وہ انبالہ کو خیرباد کہہ کر امرتسر جا پہنچے

امرتسر: محنت، فن اور شاعری کا سنگم

امرتسر میں ساغر نے روزگار کی تلاش میں لکڑی کی کنگھیاں بنانے والی ایک دکان پر ملازمت اختیار کی اور یہ ہنر بھی سیکھ لیا۔ اسی زمانے میں ان کے اندر شاعری کا شعلہ پوری طرح روشن ہو چکا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے ناصر حجازی کے قلمی نام سے شعر کہے، مگر جلد ہی اسے ترک کر کے ساغر صدیقی کا تخلص اختیار کر لیا۔

وہ اپنے اشعار بے تکلف دوستوں کو سناتے، داد پاتے اور حوصلہ بڑھتا جاتا۔

پہلا مشاعرہ اور شہرت کا آغاز

میں امرتسر میں ایک آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں لاہور سے بھی کئی نامور شعرا مدعو تھے۔ انہی میں سے کسی کو معلوم ہوا کہ ایک نوجوان لڑکا بھی شعر کہتا ہے۔ منتظمین سے سفارش کی گئی اور ساغر کو مشاعرے میں پڑھنے کا موقع مل گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں قسمت نے کروٹ لی۔

ساغر کی آواز میں بے مثال سوز تھا، ترنم میں روانی اور جذبے میں سچائی۔ انہوں نے مشاعرے میں ایسا اثر قائم کیا کہ محفل ان کے نام ہو گئی۔ یہی مشاعرہ ان کی شہرت کی بنیاد بن گیا۔ اس کے بعد لاہور اور امرتسر کے مشاعروں میں ساغر مستقل مدعو ہونے لگے۔ شاعری اب نہ صرف ان کی پہچان بن چکی تھی بلکہ ذریعۂ معاش بھی، اور یوں ساغر نے کنگھیاں بنانے کا کام چھوڑ دیا۔

لاہور، اصلاح اور سنہرا دور

تقسیمِ ہند کے بعد ساغر امرتسر سے لاہور آ گئے۔ یہاں انہوں نے اصلاح کے لیے معروف شاعر لطیف انور گورداسپوری سے رجوع کیا اور ان سے بھرپور استفادہ کیا۔ 1947ء سے 1952ء تک کا عرصہ ساغر صدیقی کی زندگی کا سنہرا دور کہلاتا ہے۔ اس دوران ان کا کلام روزناموں، ہفتہ وار اور ماہانہ ادبی رسائل میں نمایاں انداز سے شائع ہوتا رہا۔ ان کی مقبولیت اس حد تک بڑھی کہ فلمی دنیا نے بھی ان کی طرف توجہ دی۔ کئی فلم سازوں نے ان سے گیت لکھوانے کی خواہش ظاہر کی اور معقول معاوضے کی پیشکش کی۔

زوال کا آغاز: نشہ، تنہائی اور جنون

1952ء کے بعد ساغر کی زندگی نے ایک تلخ موڑ لیا۔ خراب صحبت کے باعث وہ آہستہ آہستہ ہر قسم کے نشے کی لت میں مبتلا ہو گئے۔ بھنگ، شراب، افیون اور چرس ان کی زندگی کا حصہ بنتی چلی گئیں۔تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسی عالمِ مدہوشی میں بھی ان کی تخلیقی صلاحیت ماند نہ پڑی۔ وہ غزل، نظم، قطعہ اور فلمی گیت—ہر صنف میں شاہکار تخلیق کرتے رہے۔ ابتدا میں لوگ انہیں اسی حالت میں بھی مشاعروں میں لے جاتے، جہاں ان کے کلام کو زبردست پذیرائی حاصل ہوتی۔

تصانیف اور ادبی سرمایہ


Watch my ghazal Rabta Ustwar tha na raha

ساغر صدیقی کے ادبی ورثے میں کئی اہم مجموعے شامل ہیں، جن میں:

زہرِ آرزو

غمِ بہار

شبِ آگہی

تیشۂ دل

لوحِ جنوں

سبز گنبد

مقتلِ گل

کلیاتِ ساغر

خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔


Poetry Mehfil

آخری ایام: فالج، فٹ پاتھ اور خاموش موت

جنوری 1974ء میں ساغر صدیقی فالج کا شکار ہو گئے، جس کے نتیجے میں ان کا دایاں ہاتھ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو گیا۔ اس کے بعد ان کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔ منہ سے خون آنے لگا، جسم سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا۔

زندگی کے آخری دن انہوں نے داتا دربار کے سامنے پائلٹ ہوٹل کے فٹ پاتھ پر گزارے۔ 19 جولائی 1974ء کی صبح، اسی فٹ پاتھ پر وہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

انہیں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آج بھی ہر سال ان کے مزار پر عرس منعقد ہوتا ہے، جہاں درد اور جنون کی یہ آواز یاد کی جاتی ہے۔

اعزازات و اعتراف

صدرِ پاکستان کی جانب سے 2023ء میںستارۂ امتیاز عطا کیا گیا۔


فرانسیسی مصنف
Julien Columeau، جو پاکستان میں مقیم ہیں، نے

*Saghar Siddiqui* کی زندگی پر مبنی ایک نیم افسانوی اردو ناول **„ساغر“** تحریر کیا۔

منتخب کلام — ساغر صدیقی

اردو شاعری کی تاریخ میں ساغر صدیقی کا نام ان شعرا میں شمار ہوتا ہے جن کا کلام درد، سچائی اور داخلی کرب کی گہری ترجمانی کرتا ہے۔ ان کا منتخب شعری سرمایہ نہ صرف غزلوں پر مشتمل ہے بلکہ فلمی نغمات اور صوفیانہ کلام میں بھی ان کی تخلیقی بصیرت نمایاں ہے

۔

فلمی نغمات

تیری اُلفت میں صنم دل نے بہت درد سہے، اور ہم چپ ہی رہے

گلوکارہ: زبیدہ خانم

شاعر: ساغر صدیقی، طفیل ہوشیارپوری

موسیقار: رشید عطرے

نوٹس:

اس نغمے کے حوالے سے مختلف ذرائع میں دونوں شعرا کو نغمہ نگار تسلیم کیا گیا ہے

۔

لال میری پت رکھھیو بھلا، جھولے لالاں دے — دما دم مست قلندر

گلوکارہ: نور جہاں اور دیگر

شاعر: ساغر صدیقی

موسیقار عاشق حسین (اصل دھن)، بعد ازاں نذیر علی

تفصیل:

یہ مشہور دھمال پاکستان بھر میں نہایت مقبول ہے اور خصوصاً لال شہباز قلندر کے مزار پر بکثرت گائی جاتی ہے۔ ساغر صدیقی نے اس کے بول فلم *جبرو* (1956) کے لیے تحریر کیے، جس کے پروڈیوسر عنایت حسین بھٹی تھے اور موسیقی عاشق حسین نے ترتیب دی۔ بعد ازاں نذیر علی نے اسے فلم *دلّاں دے سودے* (1969) کے لیے ازسرِنو ترتیب دیا، جسے نور جہاں کی آواز نے بے پناہ مقبولیت بخشی۔

منتخب غزلیں و اشعار

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں


میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے

میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں


میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو

ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں


کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں

کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں


صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے

کب ہوا کون ہوا مجھ سے خفا یاد نہیں


زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں


آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

یہ ساغر صدیقی کی ایک معروف غزل ہے جو انسان کی داخلی شکستگی اور روحانی اضطراب کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ یہ غزل جب سے میں نے پہلی بار پڑھی اسی وقت سے میری پسندیدہ غزلوں میں شامل ہے خاص طور پر اس غزل کا چھٹا شعر تو اکثر میں پڑھتا رہتا ہوں

منتخب اشعار

دل ملا اور غم شناس ملا

پھول کو آگ کا لباس ملا

ہر شناور بھنور میں ڈوبا تھا

جو ستارہ ملا اُداس ملا

ادبی اہمیت

ساغر صدیقی کا یہ منتخب کلام اردو ادب میں احساس، محرومی اور سچائی کی ایسی مثال ہے جو آج بھی قاری کے دل کو چھو لیتی ہے۔ ان کے اشعار وقت کی قید سے آزاد ہو کر ہر دور کے انسان سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. ہائے ہائے بے چارہ ایسی حالت میں بھی اتنی عمدہ اور خوبصورت شاعری کرتا رہا

    ReplyDelete
  2. saghir ne mushkil halaat ko bahadry se guzara

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: U sing fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices l...

Manzar

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah is one of the most significant figures in the history of South Asia and the founder of Pakistan. Here is an overview of his life and legacy: Early Life Born: December 25, 1876, in Karachi, then part of British India. Family: Jinnah belonged to a merchant family. His father, Jinnahbhai Poonja, was a prosperous businessman. Education: He initially studied in Karachi and Bombay (now Mumbai) before going to England to study law at Lincoln's Inn in London, where he became the youngest Indian to be called to the Bar at the age of 19. Political Career Entry into Politics: Jinnah began his political career in the Indian National Congress (INC) in 1906, advocating for Hindu-Muslim unity and Indian self-rule. Role in Muslim League: By 1913, Jinnah joined the All India Muslim League, which he would later lead. He became a staunch advocate for the rights of Muslims in India. Archi...

بس اسکا ذکر بلند ہے bas uska ziker buland hey

natia nazm 1. Zikr-e-Rasool: The act of remembering or mentioning the Prophet Muhammad in a positive and reverent manner. 2. Salawat: The recitation of blessings upon the Prophet Muhammad. Also known as "Durood" or "Salat al-Nabi." 3. Naat: A form of poetry or song that praises the Prophet Muhammad's virtues and character. 4. Muhammad (PBUH): An abbreviation for "Peace Be Upon Him," used after mentioning the Prophet's name as a sign of respect. 5. Sallallahu Alaihi Wasallam: An Arabic phrase often used after mentioning the Prophet Muhammad, which means "Peace and blessings be upon him." 6. Mawlid: The celebration of the Prophet Muhammad's birth, which often includes zikr-e-Rasool and recitation of Islamic poetry. 7. Hadith: Sayings, actions, and approvals of the Prophet Muhammad, which are a significant source of guidance in Islam. 8. Sunnah: The practices and traditions of the Prophet Muhammad, which Muslims seek to emulate in thei...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے

Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا Mn ne Tum ko Khuda se maanga hey Mn ne tum se to kuch nhi maanga The speaker expresses a deep and heartfelt sentiment by stating that they have asked for their beloved from God. This request is directed to the divine, indicating the importance and sacredness of the beloved in the speaker's life. The speaker further clarifies that they haven't asked the beloved for anything directly. This highlights the purity and selflessness of their love, as their desire is so profound that they seek it through prayer rather than direct requests. Overall, the verse conveys a strong sense of devotion and reverence, showing that the beloved is seen as a divine blessing rather than something to be demanded or taken. afzal shakeel sandhu Urdu Poetry & Ghazals Blog 🎥 If you enjoy my poetry a...

tees

poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world. Invisible pain is a profound and often misunderstood aspect of the hu...
Follow This Blog WhatsApp