امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
A Cry Against Injustice – A Powerful Poem on the United Nations Visit My Website Visit My Youtube Channel اقوام متحدہ تمھیں یہ حق ہے ہمارے قاتل تیرے دامن نا رسا میں چین پائیں مزے اڑائیں تمھیں یہ حق ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا وہ امیرکہ جس کی نظر میں تما م وحشی امن کی دیوی کے پرستار تمام قاتل بے گناہ اور بے خطا وار تما ظالم محبتوں کے علم بردار تجھے بنایا تھا وہ ادارہ جو امن عالم فروغ دیگا حقیقتوں کو نظر میں رکھ کر زندگی کو فروغ دیگا مگر تو مقصد سے ہٹ گیا ہے تجھے یہ حق ہے تیری اطاعت پہ مجھکو شک ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا ہمیں کو تاراج کر کے رکھ دے Read MY POEM ASAL click here نظم کی اردو وضاحت یہ نظم عالمی سیاست، ناانصافی اور طاقت کے دوہرے معیاروں کے خلاف ایک جراتمندانہ آواز ہے، جس میں شاعر نے اقوام متحدہ کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ نظم کا آغاز ایک طنزیہ انداز سے ہوتا ہے جہاں شاعر بظاہر یہ کہتا ہے کہ عالمی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالموں کو پناہ دیں اور انہیں سکون فراہم کریں۔ مگر درحقیقت یہ ایک شدید احتجاج ...